بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ عاصم بن محمد بن زید نے ہمیں خبر دی کہ ان کے باپ (محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر) سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے؟ تو لوگوں نے کہاـ: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ حرمت والا دن ہے اور تم جانتے ہو، یہ کونسا شہر ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: حرمت والا شہر اور تم جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: حرمت والا مہینہ۔ آپؐ نے فرمایا: تو یاد رکھو کہ اللہ نے تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری آبروئیں اسی طرح حرام کی ہیں جس طرح کہ تمہارے اس دن کی حرمت، تمہارے اس مہینہ میں، تمہارے اس شہر میں۔ اور ہشام بن غاز نے کہا: نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن جمرات کے درمیان اس حج میں جو آپؐ نے کیا، وقوف فرمایا اور کہا:یہ حج اکبر کا دن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہناشروع کیا: اے میرے اللہ! گواہ رہو اور لوگوں کو الوداع کیا تو وہ کہنے لگے: یہ حجۃ الوداع ہے۔
(تشریح)محمد بن عبیدبن میمون نے ہم سے بیان کیا کہ عیسٰی بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی (رات رہنے کی)۔…
نیز یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن بکر نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبردی کہ عبیداللہ نے مجھے خبردی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِذن دیا۔…
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا۔ مسعر نے ہمیں بتایا کہ وبرہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں کنکریاں کب پھینکوں؟ انہوں نے کہا: جب تیرا امام رمی کرے تو تُوبھی رمی کر۔ میں نے یہ مسئلہ ان سے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم وقت کا انتظار کرتے؛ جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرتے۔
(تشریح)نیز محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ منیٰ کی راتیں (لوگوں کو) پانی پلانے کی خاطر مکہ میں رہیں تو آپؐ نے انہیں اجازت دے دی۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر کی طرح ابواُسامہ اور عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ نے بھی یہی حدیث نقل کی۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثور ی) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمن بن یزید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے وادی کے نشیب میں رمی کی تو میں نے کہا: ابوعبدالرحمن! لوگ تو اوپر سے رمی کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اسی ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ یہ اس ہستی کا مقام ہے جس پر سورئہ بقرہ نازل کی گئی ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور عبد اللہ بن ولید نے کہا: سفیان نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے یہی بات ہم سے بیان کی۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمن بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ بڑے جمرہ (جمرئہ عقبیٰ) تک گئے۔ بیت اللہ کو آپؐ نے اپنی بائیں طرف رکھا اور منیٰ کو دائیں طرف اور سات کنکریاں پھینکیں اور کہا: اس طرح اس ذات نے بھی پھینکیں جس پر سورئہ بقرہ نازل کی گئی۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ حکم (بن عتیبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمن بن یزید سے روایت کی کہ انہوںنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے ان کو دیکھا کہ وہ بڑے جمرہ پر سات کنکریاں پھینک رہے تھے اور بیت اللہ کو آپؓ نے اپنی بائیں جانب کیا اور منیٰ کو دائیں جانب اور پھر انہوں نے کہا: یہ مقام اس شخص کا ہے جس پر سورئہ بقرہ نازل کی گئی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد بصری) سے مروی ہے۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حجاج (بن یوسف) سے سنا۔ وہ منبر پر کہہ رہے تھے ۔ وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر اور وہ سورۃ جس میں آل عمران کا ذکر ہے۔ نیز وہ سورۃ جس میںعورتوں (سورئہ نسائ) کا ذکرہے۔ اعمش نے کہا: میں نے ابراہیم (نخعی) سے یہ ذکر کیا تو انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت تھے جب انہوں نے جمرہ عقبہ پر رمی کی تو وہ وادی کے نشیب میں گئے۔ یہاں تک کہ جب اس درخت کے برابر ہوئے تو اس کو سامنے رکھا اور پھر سات کنکریاں پھینکیں۔ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے اور پھر کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں سے (کھڑے ہوکر) رمی کی تھی؛ اس ذات نے جس پرسورہ بقرہ نازل ہوئی۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ طلحہ بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ ورلے جمرہ پر سات کنکریوں سے رمی کرتے تھے۔ ہر کنکری کے پھینکنے کے بعد اللہ اکبر کہتے۔ پھر آگے بڑھتے۔ یہاں تک کہ ہموار زمین پر آجاتے اور قبلہ رو کھڑے ہوتے اور دیر تک کھڑے رہتے اور دعا کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ۔ پھر درمیانی جمرہ پر رمی کرتے۔ پھر بائیں جانب اختیار کرتے اور ہموار زمین میں آجاتے اور قبلہ رو ہو کر دیر تک کھڑے رہتے اور دعا کرتے اور بوقت ِ دعا اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے۔ پھر جمرئہ عقبہ پر وادی کے نشیب سے رمی کرتے اور وہاں نہ ٹھہرتے۔ پھر فارغ ہوکر واپس ہوتے اور کہتے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔
(تشریح)