بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید ایلی) سے، یونس نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ عرفات سے مزدلفہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ پھر آپؐ نے مزدلفہ سے منیٰ تک حضرت فضلؓ (بن عباسؓ) کو اپنے پیچھے بیٹھا یا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: تو یہ دونوں کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لبیک کہتے رہے؛ یہاں تک کہ جمرئہ عقبہ پر آکر آپؐ نے کنکریاں پھینکیں۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ایوب (سنحتیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت۔ ابوقلابہ نے کہا: اور میرا خیال ہے آپ رات وہیں ٹھہرے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سنحتیانی) سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں اور میں نے سناہے کہ وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا ہی نام لے کر بلند آواز سے لبیک پکارتے تھے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لبیک یہ تھا: لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔یعنی میں حاضر ہوں۔ اے میرے اللہ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ ہر خوبی اور ہر ایک نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیر ا کوئی شریک نہیں۔
ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابن جریج نے ہمیں بتایا، کہا: صالح بن کیسان نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا جب آپؐ کی اونٹنی آپؐ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید ایلی) سے، یونس نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ عرفات سے مزدلفہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ پھر آپؐ نے مزدلفہ سے منیٰ تک حضرت فضلؓ (بن عباسؓ) کو اپنے پیچھے بیٹھا یا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: تو یہ دونوں کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لبیک کہتے رہے؛ یہاں تک کہ جمرئہ عقبہ پر آکر آپؐ نے کنکریاں پھینکیں۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) فضیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: کریب نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے کنگھی کرکے، تیل لگانے، تہ بند اور چادر پہننے کے بعد اپنے صحابہ سمیت چل پڑے تو آپؐ نے چادروں اور تہ بندوں میں سے کوئی کپڑا پہننے سے نہیں روکا۔ مگر ایسے کپڑے نہ ہوں جو زعفران میں رنگے ہوں۔ یعنی وہ جس سے جسم پر زعفران لگے ۔ آپؐ ذوالحلیفہ میں صبح تک رہے۔ پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔ جب بیداء میں پہنچے تو آپؐ نے اور آپؐ کے صحابہ نے اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک کہا اور اپنی قربانی والے اونٹ کے گلے میں ہار ڈالا اور اس وقت ذی القعدہ مہینے کے پانچ دن باقی تھے۔ آپؐ مکے میں جب ذوالحج کے چار دن گزر گئے تھے؛ پہنچے۔ آپؐ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور چونکہ قربانی کے اونٹ آپؐ کے ساتھ تھے اور آپؐ نے ان کے گلے میں ہار ڈالے تھے ۔ اس لئے آپؐ نے احرام نہیں کھولا۔ اس کے بعد مکہ کے بالائی حصہ میں حَجُون پہاڑ کے نزدیک اُترے اورآپؐ حج کا احرام باندھے تھے اور طواف کرنے کے بعد کعبہ کے قریب نہیں گئے؛ جب تک کہ عرفہ سے نہیں لوٹے اور آپؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کریں اور اس کے بعد اپنے بال کتروائیں اور پھر احرام کھول دیں۔ یہ حکم اس کے لئے تھا جس کے ساتھ قربانی کا اونٹ نہ تھا جسے ہارپہنایا گیا ہو۔ جس کے ساتھ بیوی ہو تو وہ اس کے لیے حلال تھی اور خوشبو لگانا اور کپڑے پہننا بھی۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عمارہ سے، عمارہ نے ابوعطیہ سے، ابوعطیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں خوب جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح لبیک کہا کرتے تھے۔ (یعنی) لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ۔ (سفیان ثوری) کی طرح ابومعاویہ نے یہ بات (سلیمان بن مہران) اعمش سے روایت کی اور شعبہ نے کہا: سلیمان (اعمش) نے ہمیں بتایا۔ (کہتے تھے:) میں نے خیثمہ سے سنا۔ وہ ابوعطیہ سے روایت کرتے تھے۔ (ابوعطیہ نے کہا:) میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ایوب (سنحتیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپؐ کے ساتھ پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت۔ پھرآپؐ رات کو وہیں رہے۔ یہاں تک کہ صبح ہوئی۔ پھرآپؐ سوار ہوئے۔ جب اونٹنی آپؐ کو لے کر بیداء میں پہنچی تو آ پؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہا۔ پھر حج و عمرہ دونوں کا نام لے کر اَللّٰہُمَّ لَبَّیْک کہا اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا نام لے کر اَللّٰہُمَّ لَبَّیْک پکارا۔ جب ہم مکہ میں آئے تو آپؐ نے لوگوں سے فرمایا اور انہوںنے احرام کھول ڈالے۔ پھر جب حج کی آٹھویں تاریخ ہوئی تو انہوں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اور نبی ﷺ نے قربانی کے اونٹ جبکہ وہ کھڑے تھے اپنے ہاتھ سے (ذبح) کئے اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دو چتکبرے (یعنی دو رنگے) مینڈھے ذبح کئے۔ ابوعبداللہ نے کہا: بعض لوگوں نے یہ بات یوں روایت کی۔ایوب سے مروی ہے کہ انہوں نے کسی شخص سے اور اُس شخص نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔
(تشریح)