بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) غندر نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے علی بن حسین (امام زین العابدین) سے، انہوںنے مروان بن حکم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا زمانہ پایا ہے اور حضرت عثمانؓ تمتع اور قِران سے منع کیا کرتے تھے۔ جب حضرت علیؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا احرام باندھ کر پکارا کہ میں عمرہ اور حج کے لئے حاضر ہو رہا ہوں اور کہنے لگے کہ میں کسی کے کہنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) غندر (محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس بن مسلم سے، قیس نے طارق بن شہاب سے، طارق نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے انہیں احرام کھولنے کا حکم دیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہم رسول اللہ
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ کہا: مطرف نے مجھے بتایا کہ حضرت عمران (بن حصین) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمتع کیا اور اس کے متعلق وحی بھی نازل ہوئی مگر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: عبداللہ) ابن طائوس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: (عرب) لوگ سمجھتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین میں بڑا گناہ ہے اور محرم کو صفر کرلیتے اور کہتے کہ جب اونٹ کی پیٹھ اچھی ہو جائے گی اور زخم کا اثر مٹ جائے گا اور صفر کا مہینہ گزر جائے گا تو جو عمرہ کرنا چاہے اس کے لئے عمرہ جائز ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ چوتھی تاریخ ذوالحجہ کی صبح کو حج کا احرام باندھ کر مکے میں آئے۔ آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ حج کو عمرہ کر دیں اور یہ بات ان کے نزدیک بہت ہی بڑی تھی اس لئے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کون سی بات حلال ہے؟ فرمایا: سب حلال باتیں۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایااور عبداللہ بن یوسف نے بھی ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! لوگوں کو کیا ہوا؟ عمرہ کی نیت کر کے انہوں نے احرام کھول ڈالے اورآپؐ نے عمرہ (کی نیت) کرکے احرام نہیں کھولا؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بال جما لئے تھے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈالا تھا اس لئے میں جب تک ذبح نہ کر لوں؛ احرام نہیں کھولوں گا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے تمتع کیا تو لوگوں نے مجھے منع کیا۔ اس لئے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ انہوں نے مجھے (تمتع کرنے کے لئے) فرمایا۔ پھر میں نے خواب میں دیکھا جیسے کوئی شخص مجھ سے کہہ رہا ہے: تمہارا حج سرا سر نیکی پر مبنی ہے اور عمرہ بھی تمہارا مقبول ہے۔ میں نے حضرت ابن عباسؓ کو بتایا۔ انہوں نے کہا: (تمتع) نبی ﷺ کی سنت ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: میرے پا س رہو اور میں تمہارے لئے اپنے مال میں سے ایک حصہ مقرر کر دوں گا۔ شعبہ کہتے تھے کہ میں نے پوچھا: کس لئے؟ انہوں نے جواب دیا: اس خواب کی وجہ سے جو میں نے دیکھی ہے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوشہاب نے ہمیں بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکے میں آیا۔ ہم آٹھویں ذوالحج سے تین دن پہلے (مکہ میں) پہنچے۔ اہل مکہ میں سے چند لوگوں نے مجھے کہا: آپ کا حج مکی ہو جائے گا۔ میں عطاء (بن ابی رباح) کے پاس ان سے مسئلہ پوچھنے کے لئے گیا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حج کیا تھا کہ جب آپؐ اپنے ساتھ قربانی کے جانور لے گئے تھے اور لوگوں نے صرف حج کا ہی احرام باندھا تھا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرکے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر کے احرام کھول دو اور بال کٹالو۔ پھر اسی طرح بغیر احرام ٹھہرے رہو۔ یہاں تک کہ جب آٹھویں تاریخ ہو تو حج کا احرام باندھو اور جو تم نے پہلے کیا تھا اس کو تمتع کردو۔ انہوں نے کہا: ہم اسے تمتع کیسے کر دیں بحالیکہ ہم نے حج کا نام لیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو جو حکم دیا ہے، اسے کرو۔ اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی ویسا ہی کرتا جیسا میں نے تم کو حکم دیا ہے لیکن جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے وہ کام جو کہ حقیقت میں حرام ہے مجھ سے اگر ہوجائے تو حلال نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انہوں نے احرام کھول ڈالے۔ }ابوعبداللہ نے کہا: ابوشہاب کی یہی ایک مستند حدیث ہے۔٭{
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حجاج بن محمد اعور نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے تمتع سے متعلق جبکہ وہ دونوں (مقام) عسفان میں تھے؛ اختلاف کیا۔ حضرت علیؓ نے کہا: آپؓ کا مقصد کیا ہے ۱؎کہ آپؓ اس کام سے منع کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے کیا؟ }۲؎ حضرت عثمانؓ نے کہا: جانے دیجئے؛ بحث چھوڑئے۔ سعید کہتے تھے:{ جب حضرت علیؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھے ہی احرام باندھا۔
ابوکامل فضیل بن حسین بصری نے کہا: ابومعشر (یوسف بن یزید برائ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عثمان بن غیاث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ان سے حج میں تمتع کرنے کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: مہاجرین اور انصار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے حجۃ الوداع میں احرام باندھا اور ہم نے بھی احرام باندھا۔ جب ہم مکے میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اس حج کا احرام عمرہ میں بدل دو؛ سوائے ان کے جنہوں نے قربانی کے گلے میں ہار ڈالا ہو۔ ہم نے بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کے درمیان طواف کیا۔ پھر ہم نے اپنی عورتوں سے مباشرت بھی کی اور سلے کپڑے پہنے۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے قربانی کے گلے میں ہار ڈالا ہو؛ اس کے لئے یہ باتیں جائز نہیں جب تک کہ قربانی ذبح نہ ہو لے۔ پھر آپؐ نے ہمیں ذوالحج کی آٹھویں تاریخ کی شام کو حکم دیا کہ ہم حج کا احرام باندھیں اور جب ہم حج کی عبادتوں سے فارغ ہوئے تو ہم (مکے میں) آئے اور بیت اللہ اورصفا و مروہ کا طواف کیا کیونکہ ہمارا حج پورے طور پر ادا ہو چکا تھا اور ہم پر قربانی واجب ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جو قربانی میسرہو، وہ کرے اور جو نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور (پھر) سات روزے رکھو جب تم اپنے شہروں کو لوٹو۔ ایک بکری بھی قربانی میں کافی ہے۔ چنانچہ صحابہ نے ایک ہی سال میں دونوں عبادتیں جمع کیں یعنی حج اور عمرہ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملاً جاری فرمایا اور ان لوگوں کے لئے جو مکے کے رہنے والے نہیں؛ تمتع جائز قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے اہل بیت مسجد ِحرام کے باشندے نہ ہوں اور حج کے مہینے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب٭ میں فرمایا ہے؛ یہ ہیں: شوال، ذیقعدہ اور ذوالحج۔ اور جس نے ان مہینوں میں تمتع کیا تو اس کے لئے قربانی دینا یا روزہ رکھنا لازم ہے۔ اور رَفَثکے معنی جماع اور فُسُوْق کے معنی احکامِ الٰہی کی نافرمانی اور جِدَال کے معنی جھگڑا۔
(تشریح)