بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
عبد اللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت کی کہ عبداللہ بن محمد بن ابی بکر نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ سے مروی ہے رضی اللہ عنہم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے کہا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ بنایا تو اس نے حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں سے چھوٹا رکھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر اس کو کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ آپؐنے فرمایا: اگر تمہاری قوم کفر سے نئی نئی نہ نکلی ہوتی تو میں ضرور ایسا کرتا۔ حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تھا تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکنوں کا چومنا جو کہ حطیم کے قریب ہیں اسی لئے ترک کر دیا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر پورے طور پر نہیں بنایا گیا تھا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو آنے کا ارادہ کیا؛ فرمایا: کل ہماری منزل خیف بنی کنانہ میں ہوگی جہاں (قریش نے) کفر پر ایک دوسرے سے قسمیں لی تھیں۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا،(کہا:)ـ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا،(کہا:) زیاد بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہریؒ سے، زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی
مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوالاحوص (سلام بن سلیم حنفی) نے ہم سے بیان کیا کہ اشعث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود بن یزید سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے نبی ﷺ سے (حطیم کی) دیوار کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ بیت اللہ کا (حصہ) ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: پھر ان کو کیا ہوا کہ انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری قوم کے پاس اخراجات کم ہوگئے تھے۔ میں نے پوچھا: پھر اس کا یہ دروازہ کیوں اونچا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری قوم نے یہ اس لئے کیا کہ وہ جسے چاہیں اندر لے جائیں اور جس کو چاہیں روک دیں اور اگر تمہاری قوم جاہلیت سے قریب زمانہ کی نہ ہوتی جس سے مجھے اندیشہ ہے کہ ان کے دل بُرا مانیں گے کہ میں حطیم کو بیت اللہ میں شامل کروں اور بیت اللہ کے دروازہ کو زمین سے ملا دوں (تو ایسا کردیتا۔)
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اگر تمہاری قوم کفر سے قریب زمانہ کی نہ ہوتی تو میں اس گھر کو گرادیتا اور پھر اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر بناتا۔ کیونکہ قریش نے اس کی عمارت کو چھوٹا کر دیا ہے اور میں اس میں ایک دوسرا (دروازہ پہلے دروازے کے) مقابل میں بنا دیتا۔ (اور) ابومعاویہ کہتے تھے: ہشام نے خلف ہی کا لفظ ہم سے بیان کیا۔ اس سے ان کی مراد دروازہ ہے۔
بیان بن عمرو نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یزید (بن ہارون) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) یزید بن رومان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم جاہلیت سے قریب زمانہ کی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کی نسبت حکم دیتا اور وہ گرایا جاتا۔ پھر اس میں مَیں وہ حصہ جو اس سے خارج کیا گیا تھا شامل کر دیتا اور اس (کی بنیاد) کو زمین سے ملا دیتا اور اس میں دو دروازے رکھتا ایک شرقی اور ایک غربی۔ اور ابراہیمیؑ بنیاد تک اس کو لے جاتا۔ اس بات نے (حضرت عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما کو بیت اللہ کے گرانے پر آمادہ کیا۔ یزید کہتے تھے: میں حضرت ابن زبیرؓ کے پاس موجود تھا؛ جب انہوں نے اس کو گرایا اور بنایا اور اس میں حطیم کو داخل کیا اور میں نے ابراہیمیؑ بنیاد کے پتھر بھی دیکھے جو اونٹوں کے کوہانوں جتنے تھے۔ جریر کہتے تھے کہ میں نے (یزید بن ہارون سے) پوچھا کہ ابراہیمیؑ بنیاد کی جگہ کہاں ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں ابھی تم کو دکھائے دیتا ہوں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ حطیم میں داخل ہوا تو انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہاں ہے۔ جریر کہتے تھے: میں نے حطیم کا چھ ہاتھ یا اس کے قریب اندازہ کیا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) جریر بن عبد الحمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اس شہر کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز کوئی اُٹھائے؛ سوائے اس شخص کے جو اُس کی شناخت کرائے(تا جس کی ہو اُس کو پہنچ جائے۔)
(تشریح)اصبغ (بن فرج) نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے علی بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے، عمرو نے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ مکہ کے اپنے محلہ میں کہاں اُتریں گے؟ آپؐ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی محلہ یا مکان چھوڑا ہے اور عقیل اور طالب (اپنے باپ) ابوطالب کے وارث ہوئے تھے اور حضرت جعفر اورحضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان سے وراثت میں کچھ نہیں لیا تھا۔ کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر۔ اس لئے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کرتے تھے: جو ایمان لائے ہیں اور ہجرت کی ہے اور انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کو جگہ دی اور ان کی مدد کی؛ وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: زہری نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے یوم النحر سے اگلے دن (یعنی گیارھویں ذوالحج) کو جبکہ آپؐ منیٰ میں تھے؛ فرمایا: ہم کل خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں انہوں نے کفر پر ایک دوسرے سے قسمیں لی تھیں۔ اس سے آپؐکی مراد مقامِ محصب تھا اور یہ واقعہ یوں ہوا تھا کہ قریش اور کنانہ نے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب یا بنی مطلب کے خلاف ایکا کر کے آپس میں ایک دوسرے سے قسمیں لی تھیں کہ نہ ان سے بیاہ شادی ہوگی اور نہ خریدو فروخت کریں گے تا وقتیکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے سپرد کر دیں۔ اور سلامہ (بن روح) نے عقیل سے اور یحيٰ بن ضحاک نے اوزاعی سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے کہا کہ ابن شہاب نے مجھے بتایا اور ان دونوں نے الفاظ بنی ہاشم اور بنی مطلب روایت میں نقل کئے ہیں۔ ابوعبداللہ نے کہا: بنی مطلب کا لفظ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ اور محمد بن مقاتل نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عبداللہ جو مبارک کے بیٹے ہیں؛ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: رمضان فرض کئے جانے سے پہلے لوگ عاشورہ (دسویں محرم) کو روزہ رکھا کرتے تھے اور یہ وہ دن تھا جس میں کعبہ کو پردہ پہنایا جاتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے رمضان (میں روزے) فرض کئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عاشورہ کا روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھے اور جو چھوڑنا چاہے وہ چھوڑ دے۔