بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 40 hadith
ہم سے یحیٰ نے بیان کیا کہا: ابن عیینہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے منصور بن صفیہ سے۔ منصور نے اپنی ماں سے۔ ان کی ماں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ حیض کے متعلق پوچھا تو آپ نے اسے بتلایا کہ وہ کس طرح غسل کرے فرمایا کہ مشک کا ایک پھا یہ لو اور اس سے پاک وصاف ہو جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں کیسے پاک وصاف ہو جاؤں؟ آپ نے فرمایا: اُس سے پاک و صاف ہو جاؤ۔ کہنے لگی کیسے؟ فرمایا: سبحان اللہ۔ پاک صاف ہو جاؤ۔ اس پر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے کہا: جہاں جہاں خون کا نشان پائے، وہاں اسے پہنچائے۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہمام نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: قتادہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: معاذہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے کہا: ہم میں سے کوئی جب پاک ہو تو کیا وہ (اپنی چھوڑی ہوئی) نماز کے عوض نماز پڑھے۔ حضرت عائشہ نے کہا: کیا تو حروریہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہم حائضہ ہوتیں تو آپ ہمیں اس کا حکم نہ فرماتے۔یا انہوں نے کہا کہ ہم ایسانہ کرتیں۔
ہم سے مسلم نے بیان کیا کہا: وہیب نے ہم سے بیان کیا کہا: منصور نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنی ماں سے۔ اُن کی ماں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں غسلِ حیض کس طرح کیا کروں؟ فرمایا: مشک لگا ہوا ایک پھا یہ لو اور تین دفعہ وحوا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے اور اپنا منہ پھیر لیا۔ یا فرمایا: اس سے صاف ستھری ہو جاؤ۔ اس پر میں نے اس کو پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مراد تھی وہ اس کو بتلائی۔
(تشریح)ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ابراہیم نے ہمیں بتلایا۔ (انہوں نے کہا:) ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا کہ عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں احرام باندھا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے حج کے علاوہ عمرہ کا بھی احرام باندھا تھا اور قربانی آگے نہیں بھیجی تھی تو انہیں معلوم ہوا کہ انہیں حیض آیا ہے اور وہ نہائی نہیں یہاں تک کہ عرفہ کی رات آگئی تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ عرفہ کی رات ہے اور میں نے تو صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کرو اور عمرہ نہ کرو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں حج ادا کر چکی تو آپ نے عبدالرحمن کو خصبہ کی رات حکم دیا۔ اور انہوں نے تنعیم سے مجھے عمرہ کرایا جو کہ میرے اس عمرہ کی جگہ تھا جس کا میں نے احرام باندھا تھا۔
ہم سے عبید بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: ہم ایسے وقت میں نکلے کے ذوالحج کا چاند چڑھنے کو ہی تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پسند کرے کہ عمرہ کا احرام باندھے تو وہ (عمرہ کا) احرام باندھ لے۔ اگر میں نے قربانی کو آگے نہ بھیجا ہوتا تو میں بھی عمرہ کا ہی احرام باندھتا۔ اس پر ان میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ عرفات کا دن سر پر آن پہنچا اور ابھی میں حائضہ ہی تھی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو اور اپنا سر کھول دو اور کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھو۔ چنانچہ میں نے (ایسا ہی) کیا۔ آخر جب حصبہ کی رات ہوئی تو آپ نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر کو بھیجا اور میں تعیم کو گئی اور اپنے عمرہ کے عوض میں دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔ ہشام نے کہا: ان میں سے کسی چیز میں بھی قربانی نہیں اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔
(تشریح)ہم سے مسد دنے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عبید اللہ بن ابی بکر سے، عبید اللہ نے حضرت انس بن مالک سے حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جو کہتا ہے: اے رب (اب یہ ) نطفہ ہے۔اے رب علقہ ہے۔اے رب مضغه ہے۔پس جب ( اللہ تعالیٰ ) ارادہ کر لیتا ہے کہ اس کی پیدائش کو مکمل کرے تو فرشتہ کہتا ہے: کیا نر ہو یا مادہ۔ بدبخت ہو یا نیک بخت۔اور اس کی روزی کیا ہوگی اور کتنی۔تو یہ سب کچھ اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے کہ وہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے۔
ہم سے یحیٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ہم نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع میں نکلے ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے حج کا احرام باندھا۔ پس الله ہم مکہ میں آئے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور اس نے قربانی آگے نہیں بھیجی، چاہئے کہ وہ احرام کھول دے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی آگے بھیج دی ہے تو وہ احرام نہ کھولے یہاں تک کہ وہ اپنی قربانی ذبح کر کے احترام کی حالت سے باہر آ جائے اور جس نے حج کا احرام باندھا ہے تو چاہئے کہ وہ اپنا حج پورا کرلے۔ وہ کہتی تھیں کہ مجھے حیض آگیا اور میں حائضہ ہی رہی یہاں تک کہ عرفہ کا دن ہوا اور میں نے صرف عمرہ کا ہی احرام باندھا تھا۔ اس پر نبی ﷺ نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے بال کھول دوں اور کنگھی کروں اور حج کا احرام باندھوں اور عمرہ چھوڑ دوں۔ سو میں نے ایسا ہی کیا آخر جب حج ادا کر چکی تو آپ نے میرے ساتھ عبدالرحمن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھے فرمایا کہ میں تعیم التَّنْعِيمِ۔ سے اپنے عمرہ کے بدلہ میں عمرہ کرلوں۔
(تشریح)ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ عروہ) سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ابو حیش کی بیٹی فاطمہ کو خون استحاضہ آیا کرتا تھا تو اس نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے۔ حیض نہیں۔ پس جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب بند ہو جائے تو نہائے اور نماز پڑھ لے۔
شیبان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے تیجی سے سجی نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی کہ اس نے ان سے بیان کیا کہ حضرت امّ سلمہ نے کہا: مجھے حیض آیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی تو میں کھسک کر اس سے نکل گئی اور اپنے حیض کے کپڑے لئے اور انہیں پہنا۔ اس پر رسول صلی اللہ علیہ سلم نے مجھے فرمایا: کیا تجھے حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ مجھے چادر میں لیا۔ زینب کہتی تھیں اور حضرت ام سلمہ نے مجھے بتلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بوسہ دیا کرتے اور آپ روزہ دار ہوتے اور میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے۔
(تشریح)ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا: ہشام نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے بیٹی سے، بیٹی نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے زینب بنت ابوسلمہ سے، نیب نے حضرت ام سلمہ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ ایک دفعہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آگیا۔اس پر میں کھسک گئی اور اپنے حیض کے کپڑے لئے تو آپ نے فرمایا: کیا تجھے خون آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے مجھے بلایا اور میں آپ کے ساتھ اُسی چادر میں لیٹ گئی۔
(تشریح)