بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
یوسف بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن سُلَیم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن اُمیہ سے، اسماعیل نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین شخص ہیں جن کا مَیں قیامت کے دِن دشمن ہوں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر اُس نے دغا کیا اور ایک وہ شخص جس نے آزاد شخص کو پکڑ کر بیچ دیا اور اس کا مول کھایا اور ایک وہ شخص جس نے ایک مزدور رکھا اور اس سے اس نے پورا کام لیا اور اس کو اس کی مزدوری نہ دی۔ طرفہُ: ۲۲۲۷۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید طویل سے، حُمَید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے اور آپؐ نے(اپنے کارندہ کو) اسے ایک صاع یا دو صاع اناج دینے کے لئے فرمایا اور اُس کے مالکوں سے آپؐ نے سفارش کی تو اُس کے غلہ میں یا (راوی نے کہا کہ) اس کے لگان میں انہوں نے کمی کردی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ وہیب نے ہم سے بیان کیا کہ ابن طائوس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اور اُن کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور حجام کو اُس کی اُجرت دی۔ اطرافہُ: ۱۸۳۵،۱۹۳۸،۱۹۳۹،۲۱۰۳،۲۲۷۹،۵۶۹۱، ۵۶۹۴، ۵۶۹۵، ۵۶۹۹، ۵۷۰۰، ۵۷۰۱۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُریع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور حجام کو اُس کی اُجرت دی اور اگر آپؐ مکروہ سمجھتے تو اُسے نہ دیتے۔ اطرافہُ: ۱۸۳۵،۱۹۳۸،۱۹۳۹،۲۱۰۳،۲۲۷۸،۵۶۹۱، ۵۶۹۴، ۵۶۹۵، ۵۶۹۹، ۵۷۰۰، ۵۷۰۱۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید(بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوںنے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے کچھ لوگوں کو مقرر ہ مزدوری پر لگایا کہ وہ اس کے لئے دن بھر کام کریں تو انہوں نے دوپہر تک۱؎ کام کیا اور کہنے لگے: ہمیں تیری اس مزدوری کی ضرورت نہیں جو تو نے ہم سے ٹھہرائی ہے اورہم نے جو کچھ کیا وہ اکارت گیا۔ اس نے اُن سے کہا: ایسا نہ کرو۔ اپنا باقی کام بھی پورا کرلو اور اپنی مزدوری پوری لے لو۔ وہ نہ مانے اور (کام) چھوڑ دیا۔ تب اس نے ان کے بعد دو اور مزدور۲؎ لگائے اور ان سے کہا: تم دونوں۲؎ آج باقی دن کام کرو اور تمہیں وہی مزدوری ملے گی جو میں نے ان سے ٹھہرائی تھی۔ انہوں نے کام کیا۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا: ہم نے جو تمہارا کام کیا وہ اکارت گیا اور یہ مزدوری جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی ہے یہ بھی تیرے لئے رہے۔ اس نے کہا: اپنا باقی ماندہ کام پورا کرلو کیونکہ اب جو دِن باقی ہے وہ تھوڑا سا ہے۔ وہ نہ مانے اور اس نے کچھ اور لوگ مزدوری پر لگائے کہ وہ اس کے لئے باقی دِن کام کریں۔ سو انہوں نے باقی دن کام کیا۔ یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے دونوں فریقوں کی مزدوری پوری لے لی۔ پس یہ مثال ہے ان کی اور اس نور کی جو انہوں نے قبول کیا ہے۔ طرفہُ: ۵۵۸۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ (زہری نے کہا:) سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے، تین آدمی کسی سفر میں نکلے؛ یہاں تک کہ ایک غار میں رات بسر کرنے کے لئے داخل ہوگئے۔ اُوپر سے ایک پہاڑ کا بڑا پتھر گرا اور انہیں غار میں بند کردیا۔ اس پر وہ کہنے لگے: اس پتھر سے ہمیں کوئی نجات نہیں دے گا ہاں تم اللہ سے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا کرو (تو یہ مشکل حل ہوسکتی ہے۔) تب ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے میرے اللہ ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں اُن سے پہلے کسی اور کو دودھ نہ پلاتا تھا، نہ بال بچوں کو نہ نوکروں کو۔ ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دو رنکل گیا اور شام کو اُس وقت واپس آیا کہ وہ سو گئے تھے۔ میں نے ان کے لئے ان کے شام کے پینے کا دودھ دوہا مگر انہیں سویا ہوا پایا، اورمیں نے پسند نہ کیا کہ اُن سے پہلے بال بچوں یا لونڈی غلام کو دودھ پلائوں۔ میں ٹھہر گیا۔ پیالہ میرے ہاتھ میں تھا، اُن کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا؛ یہاں تک کہ جب خوب صبح ہوگئی اور وہ دونوں جاگ اٹھے تو انہوں نے دودھ پیا۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے یہ عمل تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو اس پتھر کی وجہ سے جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔ اس پر وہ پتھر کچھ سرک گیا مگر وہ غار سے نکل نہیں سکتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرے نے کہا: اے میرے اللہ! میری ایک چچا کی بیٹی تھی جو مجھے بہت ہی پیاری تھی۔ میں نے اسے پھسلانا چاہا، وہ مجھ سے بچتی رہی یہاں تک کہ قحط سالی میں مبتلا ہوئی اور وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس اشرفیاں دیں، اس شرط پر کہ وہ مجھے خلوت میں ملے۔ اس نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب وہ پوری طرح میرے قابو میں آگئی تو وہ کہنے لگی: میں تیرے لئے یہ جائز نہیں قرار دیتی کہ تو اس مہر کو بغیر اس کے جائز حق کے توڑے۔ اس پر میں نے اس سے مباشرت کرنا گناہ سمجھا اور اس سے الگ ہوگیا جبکہ وہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی اور وہ اشرفیاں بھی مَیں نے اُسی کے پاس رہنے دیں جو میں نے اُسے دی تھیں۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دُور کردے۔ اس پر وہ پتھر کچھ اور سرک گیا مگر پھر بھی وہ غار سے باہر نکلنے کے قابل نہ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیسرے نے کہا: اے میرے اللہ! میں نے کچھ مزدور لگائے اور میں نے اُن کی مزدوری اُن کو دے دی، سوائے ایک شخص کے جو اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اُس کی مزدوری کو کام پر لگا دیا، یہاں تک کہ اس ذریعہ سے بہت مال ہوگیا۔ پھر وہ ایک عرصہ کے بعد میرے پاس آیا اور اُس نے کہا: اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے۔ میں نے اُسے کہا: یہ سب اُونٹ، گائیاں، بکریاں اور غلام لونڈی جو تو دیکھ رہا ہے تیری مزدوری٭ ہی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! مجھ سے ہنسی نہ کر۔ میں نے کہا: میں تم سے ہنسی نہیں کررہا۔ تب اس نے ساری چیزیں لے لیں اور انہیں ہانک کر لے گیا اور اس نے اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے تیری رضا کے لئے یہ کام کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔ اس پر وہ پتھر(ان سے اور بھی) ہٹ گیا؛ یہاں تک کہ وہ نکل کرچلے گئے۔
(تشریح)مسددنے ہمسے بیانکیا،(کہا) کہعبدالواحد (بن زیاد)نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوںنےابن طائوسسے،انہوںنےاپنے باپسے،ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) منع فرمایا ہے کہ قافلے سے آگے بڑھ کر ملا جائے (اور فرمایا:) شہری باہر والے کے لیے نہ بیچے۔ میں نے کہا: اے ابن عباس! آنحضرت ﷺ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ شہری باہر والے کے لئے نہ بیچے؟ انہوں نے کہا: اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کا دلّال نہ بنے۔
(تشریح)عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مسلم (بن صبیح) سے، مسلم نے مسروق سے روایت کی (مسروق نے کہا) کہ حضرت خباب (بن اَرت) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں کاریگر آدمی تھا اور میں نے عاص بن وائل کا کام کیا۔ اس کے پاس میری مزدوری جب اکٹھی ہوگئی، میں اس سے مزدوری کا مطالبہ کرنے کے لئے گیا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں (تمہاری مزدوری) ہرگز نہیں دوں گا جب تک کہ تم محمدؐ کا انکار نہ کرو۔ میں نے کہا: دیکھ۔ اللہ کی قسم! تو مر کر بھی جی اُٹھے پھر بھی میں ایسا نہ کروں گا۔ اس نے کہا: کیا سچ مچ مَیں مر کر پھر اُٹھایا جائوں گا؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر تو وہاں بھی میرے لئے مال اور اَولاد ہوگی۔ پھر وہیں تیرا قرضہ اَدا کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ ضرور مجھے مال اور اَولاد دی جائے گی۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتا یا۔ انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے ابو المتوکل سے، ابو المتوکل نے حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ (کسی وقت) ایک سفر میں گئے۔ جاتے جاتے عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے اور اُن سے کہا: ہمیں مہمان بنائیں۔ مگر انہوں نے ان کو مہمان نہ بنایا۔ اتفاق سے اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ کھایا۔ انہوں اُس کے لئے ہر تدبیر سے کوشش کی لیکن کسی چیز نے فائدہ نہ دیا۔ ان میں سے کسی نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس چلو جو یہاں اُترے ہیں تو شاید ان میں سے کسی کے پاس کچھ علاج ہو۔ اس پر وہ ان کے پاس گئے اور کہنے لگے: لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹا ہے۔ ہم نے اس کے لئے بہت تدبیریں کی ہیں، کسی تدبیر نے فائدہ نہیں دیا۔ کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: اللہ کی قسم! میں دم کیا کرتا ہوں ہم نے تم سے چاہا کہ تم ہمیں مہمان بنائو اور تم نے ہمیں مہمان نہ بنایا۔ پس مَیں بھی تمہارے لئے ہرگز دَم نہ کروں گا جب تک کہ تم ہم سے معاوضہ نہ ٹھہرا لو۔ آخر انہوں نے ان کو چند بکریوں پر راضی کرلیا۔ اس پر وہ اُس شخص پر دَم کرکے تھوکنے لگا اور (ساتھ ساتھ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن پڑھتا جاتا، یہاں تک کہ مریض ایسا اچھا ہو گیا کہ گویا اُس کی بندش دُور ہوگئی اور وہ چلنے لگا اور اُس کو کوئی دَرد نہ رہا۔ راوی کہتے تھے: انہوں نے جس مزدوری پر راضی کیا تھا، انہوں نے وہ پوری کی پوری دے دی۔ صحابہ میں سے کسی نے کہا: (معاوضہ کو) تقسیم کر لو۔ جس نے دَم کیا تھا وہ کہنے لگا: جب تک ہم نبیﷺ کے پاس واپس نہ پہنچ جائیں اور جو کچھ واقع ہوا وہ آپؐ سے بیان نہ کرلیں، معاوضہ تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ (یہ مناسب ہے کہ ہم حضورؐ کی خدمت میں پہنچیں) اور معلوم کرلیں کہ حضورؐ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔ آپؐ نے پوچھا: تمہیں کیسے علم ہوا کہ وہ (سورئہ فاتحہ) دَم ہے؟ پھر فرمایا: تم نے اچھا کیا کہ معاوضہ لیا۔ اب اسے آپس میں بانٹ لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ رکھ لو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ ابو عبد اللہ(امام بخاریؒ) نے کہا: شعبہ نے یوں کہا: ابوبشر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میں نے ابوالمتوکل سے یہی سنا ہے۔
(تشریح)