بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 27 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن عامر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پچھنے لگوایا کرتے تھے اور کسی کوبھی اُس کی مزدوری سے کم نہ دیتے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید طویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حجام غلام کو بلوایا اور اُس نے آپؐ کو پچھنے لگائے اور آپؐ نے اُس کو ایک صاع یا دو صاع یا (کہا:) مُدّ یا دو مُدّ (اناج) دینے کے لئے فرمایا اور اُس کے متعلق سفارش کی۔ پس اُس کا لگان کم کردیا گیا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن اشہاب نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے، انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت اور کنچنی کی کمائی اور کاہن (جوتشی وغیرہ) کی شیرینی سے منع فرمایا۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، (کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن جُحادہ سے، محمد بن جُحادہ نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا۔ طرفہُ: ۵۳۴۸۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیاکہ عبدالوارث اور اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے علی بن حکم سے، علی نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور کی جفتی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
(تشریح)اور حضرت رافع بن خدیجؓ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو لگان پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اور عبیداللہ نے بھی نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے یہی روایت نقل کی۔ (اور یہ الفاظ زائد بیان کئے) یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے انہیں جلاوطن کردیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ(بن عمر) رضیاللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم نے خیبر اس شرط پر یہودیوں کو دیا تھا کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کریں اور جو اس سے پیدا ہو، اُس کا آدھا اُن کے لئے ہوگا۔ اور حضرت ابن عمرؓ نے (نافع سے) بیان کیا کہ کاشت کی زمینیں کچھ لگان مقرر کرکے دی جاتی تھیں۔ نافع نے اس لگان کی تعیین کی تھی لیکن مجھے یاد نہیں۔