بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 29 hadith
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے محمد بن ابراہیم سے، اُنہوں نے علقمہ بن وقاص سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ لوگوں سے مخاطب تھے۔اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اے لوگو! عمل تو نیت پر ہی ہوتے ہیں اور آدمی کو وہی ملتا ہے جو اُس نے نیت کی ہوتی ہے۔ اس لئے جس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول کے لئے ہوئی تو اُس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول کے لئے ہی ہے اور جس نے دنیا کے حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہجرت کی تو اُس کی ہجرت اسی بات کے لئے ہے جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔
(تشریح)اسحاق بن نصر نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کرتا جبکہ وہ بے وضو ہو۔ یہاں تک کہ وہ وضو کرلے۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے مجھ سےبیان کیا کہ حضرت انسؓ نے اُنہیں بتایا کہ حضرت ابوبکرؓ نے اُن کو صدقہ کا وہ فرض جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا لکھ کر دیا اور( اس میں یہ بھی تھا کہ) جو الگ الگ مال ہو اُس کو اکٹھا نہ کیا جائے اور جو اکٹھا ہو اُس کو علیحدہ نہ کرے اس ڈر سے کہ کہیں صدقہ دینا پڑے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چوپایوں کا مالک حق نہ دے گا تو وہ جانور قیامت کے دن اُس پر مسلط کئے جائیں گے۔ وہ اپنے کُھروں سے اُس کے منہ کو روندیں گے اور بعض لوگوں نے ایسے شخص کے متعلق کہا جس کے کچھ اونٹ ہوں اور وہ ڈرے کہ کہیں اُس پر صدقہ واجب ہو جائے گا اور وہ اُن کو ایسے ہی اونٹوں یا بکریوں یا گائیوں یا روپے کے بدلے صدقہ سے بچنے کے لئے حیلہ کر کے ایک دن پہلے بیچ دے تو اُس کے ذمہ کچھ نہ ہوگا اور یہی لوگ کہتے ہیں: اگر ایک سال گزرنے سے ایک دن پہلے یا ایک ہفتہ پہلے اپنے اونٹوں کی زکوٰة دے دے تو اُس کی طرف سے یہ درست ہوگی۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زیادہ بچا ہوا پانی نہ روکا جائے کہ اس سے گھاس کی روئیدگی رُک جائے۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ابوسہیل سے، ابوسہیل نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ سے روایت کی کہ ایک اعرابی پریشان سر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیں کہ اللہ نے مجھ پر کیا کیا نماز فرض کی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: پانچ نمازیں سوائے اِس کے کہ تم خوشی سے کوئی اور نماز پڑھو۔ اس نے کہا: مجھے بتائیں اللہ نے مجھ پر جو روزے فرض کئے ہیں، آپؐ نے فرمایا: رمضان کا مہینہ سوائے اِس کے کہ تم خوشی سے کوئی اور روزے رکھو۔ اُس نے کہا: مجھے بتائیں جو زکوٰة اللہ نے مجھ پر مقرر کی ہے؟ حضرت طلحہؓ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے اس کو اسلام کے شرعی احکام بتائے۔ اُس نے کہا: اُسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو عزت دی۔ میں اپنی خوشی سے نہ کچھ اور کروں گا اور نہ ہی اِس سے کم کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بامراد ہو گیا اگر یہ سچا ہے یا (فرمایا:) جنت میں داخل ہوگیا اگر یہ سچا ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ ایک سو بیس اونٹ میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں زکوٰة ہوتی ہے۔ پھر اگر کسی نے اس کو عمداً تلف کر دیا یا اس کو ہبہ کر دیا یا زکوٰة سے بچنے کے لئے ان کے متعلق کوئی اور حیلہ کیا تو اُس پر کوئی زکوٰة نہیں۔
اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ایک کا خزانہ قیامت کے دن گنجا سانپ ہوگا۔ خزانے والا اُس سے بھاگتا پھرے گا اور وہ اس کے پیچھے لگے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے منہ میں اس کو دے دے گا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاریؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو اُن کی ماں کے ذمہ تھی۔ وہ اُس نذر کو ادا کرنے سے پہلے فوت ہوگئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اُس کی طرف سے ادا کرو اور بعض لوگوں نے کہا: جب اونٹ بیس کی تعداد کو پہنچ جائیں تو اُن میں چار بکریاں زکوٰة ہوگی۔ اگر اُن کو سال گزرنے سے پہلے ہبہ کر دے یا اُن کو بیچ دے تاکہ بچ جائے یا زکوٰة کو ساقط کرنے کے لیے بہانہ مل جائے تو اُس کے ذمہ کچھ نہ ہوگا اور اِسی طرح اگر اُن کو تلف کر دے اور وہ مر جائے تو بھی اُس کے مال میں زکوٰة نہیں ہوگی۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ ہمیں یحيٰ بن سعید نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا ۔ اُنہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ میں نے نافع سے پوچھا: شغار کیا ہوتا ہے؟ اُنہوں نے کہا: کوئی شخص کسی آدمی کی بیٹی سے نکاح کرے اور اپنی بیٹی کا نکاح اُس سے بغیر مہر کے کر دے اور یا وہ کسی آدمی کی بہن سے نکاح کرے اور وہ اس سے اپنی بہن کا نکاح بغیر مہر کے کرے اور بعض لوگوں نے کہا: اگر حیلہ کرکے کسی نے نکاح شغار کرلیا تو یہ نکاح جائز ہوگا اور شرط باطل ہوگی اور انہی لوگوں نے متعہ کے متعلق کہا کہ یہ نکاح فاسد ہے اور شرط بھی باطل ہے اور اُن میں سے بعض نے کہا: متعہ اور شغار جائز ہے اور شرط باطل ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی کہ زُہری نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حسن اور عبداللہ سے جو دونوں محمد بن علی کے بیٹے تھے۔ اُن دونوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابن عباسؓ عورتوں سے متعہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے خبیر کے دن اِس سے منع فرمایا نیز پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی اور بعض لوگوں نے کہا: اگر حیلہ کرکے کسی نے متعہ کر لیا تو نکاح فاسد ہوگا اور اُن میں سے بعض نے کہا کہ یہ نکاح جائز ہوگا اور شرط باطل ہوگی۔
(تشریح)