بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: حماد بن اسامہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے بُرید بن عبداللہ سے بُرید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسی سے، حضرت ابو موسیٰ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جو ہدایت اور علم دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس کی مثال بہت بڑی بارش کی سی ہے جو زمین میں ہوئی تو اس زمین سے کچھ حصہ عمدہ تھا، جس نے پانی قبول کر لیا اور اس نے گھاس اور بہت سی بوٹیاں اُگا دیں اور اس میں سے کچھ سنگلاخ تھی ، جس نے پانی کو روک لیا اور اللہ نے لوگوں کو اس زمین کے ذریعہ سے نفع پہنچایا۔انہوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی باڑی کی اور زمین میں سے ایک اور حصہ پر بھی بارش پڑی جو بالکل چٹیل میدان تھا۔نہ تو پانی کو رو کے اور نہ گھاس اُگائے اور یہ مثال اس شخص کی جس نے اللہ کے دین کو خوب سیکھا، ہے سمجھا اور جس کو اللہ نے نفع دیا اس علم سے جو اس نے مجھے دے کر بھیجا اور اس نے علم حاصل کیا اور علم سکھلایا اور نیز یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے اس پر سر ہی نہیں اٹھایا اور نہ اللہ کی اس ہدایت کو قبول کیا جس کا پیغام دینے کے لئے میں بھیجا گیا۔ ابو عبد الله ( محمد بن اسمعیل بخاری ) نے کہا: اسحاق (ابواسامہ سے ) روایت کرتے تھے : اس میں ایک حصہ ایسا تھا، جس نے پانی روک لیا۔قاع وہ چٹیل میدان ہوتا ہے جس کی سطح پر پانی بہتا ہے اور صَفْصَف کے معنے ہموار زمین۔
(تشریح)ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا : عبد الوارث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابو تیاح سے، ابوتیاح نے حضرت انس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول الله علیہ نے فرمایا: اس گھڑی کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت مستحکم ہو جائے گی اور شراب پی جائے گی اور زنا کثرت سے ہوگا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا۔کہا: وُہیب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ایوب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے عکرمہ سے۔عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ نبی
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا۔کہا: بن ابی سفیان نے سالم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔وہ نبی ﷺ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں تم کو ایک ایسی حدیث بتلاتا ہوں کہ میرے بعد کوئی بھی تمہیں نہیں بتلائے گا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے : اس گھڑی کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم کم ہو جائے گا اور جہالت کا غلبہ ہوگا اور زنا کثرت سے پھیل جائے گا اور عورتیں بہت ہوں گی اور مرد کم جائیں گے۔یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگران ہوگا۔
ہم سے سعید بن غفیر نے بیان کیا، کہا: مجھ سے لیث نے بیان کیا۔لیث نے کہا: بعقیل نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمزہ بن عبد اللہ بن عمر سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔آپ فرماتے تھے: ایک بار میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک گلاس لایا گیا اور میں نے اتنا پیا کہ اب بھی میں طراوت کو اپنے ناخنوں سے پھوٹتے ہوئے دیکھتا ہوں۔پھر میں نے اپنا بچا ہوا ( دودھ ) خطاب کو دیا۔صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ، اس کی کیا تعبیر کی ؟ فرمایا: علم
(تشریح)ہم سے اسماعیل نے بیان کیا۔کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عیسی بن طلحہ بن عبید اللہ سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ حجتہ الوداع میں منی (مقام) میں لوگوں کے لئے ٹھہرے تا کہ وہ آپ سے پوچھ لیں۔ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے علم نہ تھا اور ذبح کرنے سے پہلے میں نے سرمنڈوا لیا ہے۔آپ نے فرمایا: اب ذبیح کرلے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔اس کے بعد ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے علم نہ تھا؛ میں نے کنکریاں پھینکنے سے پہلے ذبح کر لیا ہے۔فرمایا: اب کنکریاں پھینک لے اس میں کوئی حرج نہیں۔ایسا ہی نبی ﷺ سے کوئی بھی ایسی بات نہیں پوچھی گئی جو آگے پیچھے کی گئی تھی۔مگر آپ نے فرمایا: اب کرلو اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
(تشریح)ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا۔کہا: وہیب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے فاطمہ سے، فاطمہ نے حضرت اسماء سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : میں حضرت عائشہ کے پاس آئی۔وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ؟ ( کہ بے وقت نماز پڑھ رہے ہیں) انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ نماز میں کھڑے ہیں۔حضرت عائشہ نے سُبحَانَ اللہ کہا۔میں نے پوچھا: کوئی نشان ظاہر ہوا ہے؟ انہوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔یعنی ہاں۔اس پر میں بھی نماز میں کھڑی ہوگئی ( اور اتنی دیر تک کھڑی رہی ) کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔میں نے اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع کیا، اتنے میں نبی ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمد اور اس کی تعریف کی۔پھر فرمایا: ہر وہ چیز جو مجھے پہلے نہیں دکھائی گئی تھی ، اب میں نے وہ ( یہاں ) اپنی جگہ کھڑے کھڑے دیکھ لی ہے؛ یہاں تک کہ جنت بھی اور جہنم بھی۔پھر مجھے یہ بتایا گیا کہ تم اپنی اپنی قبروں میں ویسے ہی یا اس کے قریب قریب آزمائے جاؤ گے جیسے مسیح دجال کے فتنہ سے۔راوی نے کہا: میں نہیں جانتا کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔پوچھا جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ راوی نے کہا: میں نہیں جانتا کہ حضرت اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔مومن یا یقین کرنے والا کہے گا: وہ محمد ہیں۔(وہ) اللہ کے رسول ہیں۔وہ ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لائے اور ہم نے ان کو قبول کیا اور ان کی پیروی کی۔وہ محمد ہیں۔تین بار یہی کہے گا۔تب اسے کہا جائے گا: سوجا آرام سے۔ہمیں تو علم تھا کہ تو ان پر یقین لانے والا ہی ہے اور جو منافق ہوگا یا شک کرنے والا۔راوی نے کہا: مجھے علم نہیں کہ ان میں سے حضرت اسماء نے کون سا لفظ کہا۔وہ کہے گا: مجھے پتہ نہیں۔میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا اور میں نے بھی کہہ دیا۔
(تشریح)ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: نے ہم سے بیان کیا۔غندر نے کہا: شعبہ نے سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے کہا: میں (ایران میں ) حضرت ابن عباس اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا۔انہوں نے کہا: عبدالقیس کے نمائندے نبی ﷺ کے پاس آئے۔آپ نے فرمایا: یہ نمائندے کون ہیں؟ یا فرمایا) یہ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ربیعہ قوم۔آپ نے فرمایا: خوشی سے آئے یہ قوم یا ( فرمایا) یہ وفد۔نہ کبھی رسوا ہوں نہ پشیمان۔انہوں نے کہا: ہم آپ کے پاس دور فاصلے سے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان یہ مضر کافروں کا قبیلہ ہے اور ہم صرف حرمت والے مہینے میں ہی آپ کے پاس آ سکتے ہیں۔اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں جو ہم پچھلوں کو بھی بتلائیں اور ہم بھی اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوں۔اس پر آپ نے انہیں چار باتیں کرنے کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا ایمان لانے کا ان کو حکم دیا۔فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانا کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حمد اے رمضان اور نماز سنوار کر پڑھنا اور زکوۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے پانچواں حصہ دیا کرو اور انہیں کڑوے کدو کے تو نے اور روغن شدہ گھڑے اور لاکھی برتن سے منع کیا۔شعبہ کہتے تھے کہ ابو جمرہ نے کبھی نقیر کہا یعنی کھجور کا گھرا ہوا برتن اور کبھی فقیر یعنی رال (یعنی درخت کی گوند) کا روغنی برتن۔آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یا درکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں ؛ ان کو بھی بتلاؤ۔
(تشریح)ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: بن ابی حسین نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ حضرت عقبہ بن حارث نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے عقبہ کو دودھ پلایا تھا اور اس کو بھی (جس سے) اس نے شادی کی ہے۔حضرت عقبہ نے اسے کہا: میں نہیں جانتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا تھا اور نہ تو نے مجھے کبھی بتلایا۔اس لئے وہ سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ میں آئے اور آپ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اب یہ کیوں کر ہو؛ جبکہ یہ بات کہی گئی ہے۔حضرت عقبہ اس سے الگ ہو گئے اور اس عورت نے دوسرے سے شادی کر لی۔
(تشریح)