بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 76 hadith
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: معتمر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ ان کے باپ نے کہا: مجھ سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذ سے کہا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہوگا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت معاذ نے پوچھا: کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں؟ فرمایا: نہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ بھروسہ کرلیں گے۔
(تشریح)ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا: ابو معاویہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت زینب بنت ام سلمہ سے، انہوں نے حضرت ام سلمہ سے روایت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا عورت پر بھی غسل واجب ہے جب اسے احتلام ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: جب پانی دیکھے۔ اس پر حضرت اُم سلمہ نے ڈھانک لیا، یعنی اپنا منہ اور کہا: یا رسول اللہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ (تیرا بھلا ہو) کس وجہ سے اس کا بچہ اس سے مشابہ ہوتا ہے۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، ابن عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلمان کی مثال ہے۔ مجھے بتلاؤ کہ وہ کیا درخت ہے؟ لوگ بیابان کے درختوں میں تلاش کرنے لگے۔ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور ہے۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے: میں شرمایا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہی ہمیں یہ بتلائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے: میں نے اپنے باپ سے بیان کیا جو میرے دل میں آیا تھا تو انہوں نے کہا: تم نے یہ کہہ دیا ہوتا تو یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہوتی اس سے کہ میرے لیے یہ یہ ہو۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ بن داؤد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش منذر الثوری سے، انہوں نے محمد بن حنفیہ سے، محمد نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ایسا آدمی تھا جس کی ندی بہت نکلتی تھی۔ میں نے مقداد سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے مسئلہ پوچھیں۔ تو انہوں نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہی کرنا ہوگا۔
(تشریح)مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: لیث بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت نافع، مولیٰ حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطابؓ کے آزاد کردہ غلام، نے ہمیں بتلایا کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ مسجد میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس مقام سے آپ ہمیں احرام باندھنے کے لئے فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مدینہ والے ذی الخلیفہ سے احرام اور شام والے مخفہ سے احرام باندھیں اور نجد والے قرن سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر قَالَ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے یلملم سے احرام باندھا کریں اور حضرت ابن عمر کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات میں نہیں سمجھا۔
(تشریح)ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: ابوذئب کے بیٹے نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ نیز زہری سے بھی منقول ہے۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے یہ روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احرام والا کیا پہنے؟ فرمایا: نہ قمیص پہنے اور نہ عمامة، نہ سراويل، نہ برنس، نہ ثوبًا مسہ الورس أو الزعفران۔ اگر جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے اور چاہیے کہ وہ ٹخنوں کے نیچے تک ہوں۔
(تشریح)