بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 76 hadith
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا: فلیح نے ہمیں بتلایا۔ نیز مجھ سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا محمد بن فلیح نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا: ہلال بن علی نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ نبی ﷺ مجلس میں بیٹھے لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک بدوی آیا اور اس نے پوچھا: موعودہ گھڑی کب ہوگی؟ رسول ﷺ اپنی بات میں لگے رہے۔ اس پر لوگوں میں سے کسی نے کہا: آپ نے سن لیا ہے مگر آپ نے اس کی بات کو بُرا منایا۔ اور ان میں سے بعض نے کہا: نہیں آپ نے سنا نہیں۔ آخر جب آپ بات ختم کر چکے تو فرمایا کہ کہاں ہے؟ کہا: میں یہ ہوں۔ آپ نے یوں فرمایا: جب امانت ضائع کر دی جائے گی تو اس وقت موعودہ گھڑی کا انتظار کرو۔ اس نے پوچھا: وہ کیوں کر ضائع کی جائے گی؟ فرمایا: جب حکومت نااہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے گی تو اس وقت اس گھڑی کا انتظار کرو۔
(تشریح)ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ چونکہ ہمارے اکتا جانے کو نا پسند کرتے تھے، اس لیے آپ ہمارا خیال رکھ کر مقررہ دنوں میں ہمیں نصیحت فرمایا کرتے تھے۔
ہم سے ابونعمان عارم بن فضل نے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو بشر سے، ابو بشر نے یوسف بن ماہک سے، یوسف نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا؛ ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر آپ ہم سے آملے اور ہمیں نماز میں اتنی دیر ہوگئی کہ دوسری نماز کا وقت بھی آن پہنچا اور ہم ابھی وضو ہی کر رہے تھے۔ ہم نے اپنے پاؤں کو یونہی پانی سے پونچھنا شروع کر دیا۔ اس پر آپ نے بلند آواز سے فرمایا: ہائے شامت ان ایڑیوں کی آگ سے۔ یہ دو دفعہ یا تین دفعہ فرمایا۔
(تشریح)ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ابن اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے حضرت ابن عمر سے روایت کی وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں ایک ایسا درخت ہے کہ اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مثال ہے مسلمان کی۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سا ہے؟ اس پر لوگ بیابانوں کے درختوں میں تلاش کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے کہ میرے جی میں آیا کہ وہ کھجور ہے، مگر میں شرمایا۔ پھر لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہی ہمیں بتلائیں کہ وہ کونسا ہے؟ فرمایا: وہ کھجور ہے۔
(تشریح)ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہ سلیمان (بن بلال) نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر سے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلمان کی مثال ہے۔ مجھے بتلاؤ کہ وہ کونسا ہے؟ حضرت ابن عمر کہتے تھے: اس پر لوگ بیابانوں کے درختوں میں جا پڑے۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے: میرے جی میں آیا کہ وہ کھجور ہے، پس میں شرمایا۔ پھر لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں بتلائیں وہ کیا درخت ہے؟ فرمایا: وہ کھجور ہے۔
(تشریح)ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک بار ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار اندر آ گیا اور اس نے مسجد میں اونٹ بٹھا دیا۔ پھر اس نے اس کا گھٹنا باندھا۔ اس کے بعد اس نے ان سے پوچھا: تم میں محمد ﷺ کون ہیں؟ اور نبی ﷺ ان کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے ہم نے کہا: یہ سفید آدمی جو تکیہ لگائے ہوئے ہیں۔ تب اس شخص نے آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اس شخص نے نبی ﷺ سے کہا: میں آپ سے سوال کروں گا اور سوال میں آپ سے سختی کروں گا اور مجھے ناراض نہ ہونا۔ آپ نے فرمایا: پوچھو جو تمہارے جی میں آئے۔ اس نے کہا: میں آپ سے جو پہلے ہیں ان کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: بار خدایا، ہاں۔ اس نے کہا: آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم دن رات میں پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ فرمایا: بارِ خدایا، ہاں۔ اس نے کہا: آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ سال کے اس مہینے (رمضان) میں ہم روزہ رکھیں؟ فرمایا: بار خدایا، ہاں۔ اس نے کہا: آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے دولتمندوں سے صدقہ لیا کریں اور پھر ہمارے محتاجوں میں اسے تقسیم کر دیں؟ فرمایا: بار خدایا، ہاں۔ تب اس شخص نے کہا: جو پیغام آپ لائے ہیں میں نے اس کو مان لیا اور میں اپنی اس قوم کا اینچی ہوں جو میرے پیچھے بنوسعد بن بکر کی قوم سے ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یہ حدیث موسیٰ اور علی بن عبد الحمید نے بھی بیان کی۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
(تشریح)ہم سے اسماعیل بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنا خط دے کر بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے سردار کو دیدے۔ پھر بحرین کے سردار نے وہ خط کسری کو پہنچا دیا۔ جب اس نے خط پڑھا تو اس نے اس کو پھاڑ کر پرزہ پرزہ کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ بھی بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ ابن مسیب کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف دعا کیکہ وہ بھی بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن (مروزی) نے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط لکھا۔ یا آپ نے ارادہ کیا کہ لکھیں تو آپ سے کہا گیا کہ وہ مہر شدہ خط کے سوا کوئی خط نہیں پڑھتے۔ تب آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ اس پر نقش تھا: محمد رسول اللہ ﷺ۔ گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سپیدی اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ اس پر میں نے قتادہ سے دریافت کیا: یہ کس نے کہا کہ اس کا نقش محمد رسول اللہ ﷺ تھا؟ جواب دیا: حضرت انس نے۔
(تشریح)ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتلایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ ابومرۃ؛ جو عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام تھے؛ ابو واقد لینی سے روایت کرتے ہوئے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ اسی اثنا میں تین آدمی سامنے آئے۔ دو آدمی تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آگئے اور ایک چلا گیا۔ وہ دونوں رسول ﷺ کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک تو حلقہ میں خالی جگہ دیکھی اور وہ اس میں بیٹھ گیا اور دوسرا جو تھا تو وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا جو تھا وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ان تین آدمیوں کی حالت نہ بتلاوں؟ ان میں سے ایک نے تو اللہ کے پاس پناہ لی اور اللہ نے اسے پناہ دی اور وہ جو دوسرا تھا تو اس نے شرم کی اور اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور جو تیسرا تھا تو اس نے منہ پھیر لیا اور اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: ہم سے بشر نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابن عون نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اس کی ڈور پکڑ لی۔ آپ نے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم چپ رہے کیونکہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہا: بے شک۔ آپ نے پوچھا: کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ حج کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: بے شک۔ آپ نے فرمایا: یاد رکھو، تمہارے خون اور تمہاری دولت اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اسی طرح محترم ہیں جیسے یہ دن اور یہ مہینہ تمہارے شہر میں محترم ہیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حاضر ایسا شخص غیر حاضر کو بتائے جو زیادہ یاد رکھنے والا اور زیادہ سمجھنے والا ہو۔
(تشریح)