بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
Not Found
Not Found
پھر آپؐ لوگوں میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: لوگو! دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے سلامتی کی دعائیں کرو مگر جب دشمن سے مقابلہ کا وقت آجائے تو پھر استقلال سے جم کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اے اللہ کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کے چلانے والے اور فوجوں کو شکست دینے والے! ان کو شکست دے اور ان کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے روایت کی کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ میں (ایک بار) گھبراہٹ ہوئی تو رسول اللہ
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے منصور سے، منصور نے ابووائل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے تھے: آج میرے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے مجھ سے ایک ایسی بات پوچھی کہ جس کا جواب میں نہیں سمجھا کہ کیا دوں۔ وہ کہنے لگا: بتائو تو ایک شخص مضبوط جسم دلیر خوشی خوشی ہمارے افسروں کے ساتھ جنگوں میں جاتا ہو اور وہ افسر ہمیں ایسی باتوں کا حکم دے جن کی ہم طاقت نہیں رکھتے (تو کیا ایسے افسر کا حکم مانا جائے؟) میں نے اس سے کہا: بخدا میں نہیں جانتا کہ میں تجھے کیا جواب دوں۔ مگر اتنا کہتا ہوں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ہوتے جونہی آپؐ کسی بات کا قطعی حکم ہمیں دیتے تو ہم اسے فوراً بجالاتے اور بات یہ ہے تم میں سے ہر شخص ہمیشہ اچھی حالت میں رہے گا جب تک کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اور اگر کوئی بات اس کے دل میں کھٹکے وہ کسی دوسرے شخص سے پوچھ لے جو اس کی اس بات میں تسلی کردے اور عنقریب وہ وقت آتا ہے کہ تم پھر ایسا بھی نہ پائو گے اور اسی ذات کی قسم ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا سے جو زمانہ گزر گیا ہے میں یہی خیال کرتا ہوں کہ وہ اس سایہ دار ٹھنڈے جوہڑ کی طرح ہے جس کا صاف ستھرا پانی پی لیا ہو اور گندہ پانی رہ گیا ہو۔
عبداللہ بن محمد نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحق فزاری نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم ابی النضر سے روایت کی جو عمر بن عبیداللہ کے آزادکردہ غلام اور ان کے کاتب تھے۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے عمر بن عبیداللہ کو لکھا اور میں نے اس کو پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جنگو ں میں سے جو آپؐ نے دشمن سے کیں ایک جنگ میں اس وقت تک انتظار کیا کہ سورج ڈھل گیا۔
اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کیلئے نکلا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ نبیﷺ پیچھے سے آکر مجھے مل گئے اور میں اپنے پانی لادنے والے اونٹ پر سوار تھا جو تھک کر رہ چکا تھا اور وہ چلتا ہی نہ تھا۔ تو آپؐ نے مجھے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ حضرت جابرؓ کہتے تھے: میں نے کہا تھکا ماندہ ہوکر رہ گیا ہے۔ کہتے تھے: رسول اللہﷺ پیچھے ہوگئے اور آپؐ نے اسے ڈانٹا اور اس کیلئے دعا کی۔ پھر تو وہ تمام اونٹوں کے آگے ہی رہا۔ ان کے آگے ہی آگے چلتا تھا۔ آپؐ نے مجھ سے پوچھا: اب تم اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو؟ کہتے تھے: میں نے کہا: اچھا ہے۔ آپؐ کی برکت اس کو نصیب ہوئی ہے۔ آپؐ نے پوچھا: تو پھر کیا تم اس کو میرے پاس بیچتے ہو؟ کہتے تھے: میں نے شرم کی اور ہمارے پاس اس کے سوا اَور کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا۔ کہتے تھے: میں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا میرے ہاتھ فروخت کردو۔ چنانچہ میں نے آپؐ کو وہ اونٹ قیمتاً دے دیا اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس کی پیٹھ پر سواری کروں گا۔ کہتے تھے: (جب میں مدینہ کے قریب پہنچا) تو میں نے کہا: یارسول اللہ! میں نے ابھی شادی کی ہے۔ یہ کہہ کر میں نے جانے کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے مجھے اجازت دی۔ میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ کو چل پڑا۔ }جب ٭مدینہ پہنچا{ تو میرے ماموں مجھے ملے اور انہوں نے اونٹ کی نسبت مجھ سے دریافت کیا۔ تو مَیں نے انہیں جو فیصلہ اس کے متعلق کرچکا تھا بتایا۔ انہوں نے مجھے ملامت کی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے گھر جانے کی اجازت لی تھی تو آپؐ نے مجھے پوچھا کہ تم نے کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ تو آپؐ نے فرمایا: کنواری سے کیوں شادی نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد فوت ہوگئے ہیں یا کہا کہ شہید ہوگئے اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں تھیں۔ میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی عمر کی عورت سے شادی کروں جو نہ ان کو اَدب سکھائے نہ ان کی تربیت کرے۔ اس لئے بیوہ سے شادی کی ہے کہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے۔ کہتے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں پہنچے تو میں دوسرے دن صبح وہ اونٹ لے کر آپؐ کے پاس گیا۔ آپؐ نے مجھے اس کی قیمت دی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس دے دیا۔ مغیرہ نے کہا: بیع میں شرط لگانا ہمارے قانون میں اچھا ہے۔ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
فضل بن سہل نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن محمد نے ہمیں بتایا۔ جریربن حازم نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، محمد بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت انسؓ نے کہا: لوگ اچانک گھبرااُٹھے تو رسول اللہ ﷺ حضرت ابوطلحہؓ کے گھوڑے پر سوار ہوگئے جو سُست رفتار تھا اور آپؐ اس کو ایڑ لگا کر دوڑاتے اکیلے ہی روانہ ہوگئے اور پھر لوگ بھی آپؐ کے پیچھے سوار ہوکر گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے گئے۔ آپؐ نے فرمایا: ڈرونہیں۔ یہ گھوڑا تو ایک دریا ہے۔ پھر اس دِن کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہ نکل سکا۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے مالک بن انس سے سنا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا تو زید نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت عمر (بن خطاب) رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے لئے دیا۔ پھر میں نے اسے بکتے ہوئے دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اسے خرید لوں؟ آپؐ نے فرمایا: اسے نہ خریدو اور اپنے صدقہ سے نہ پلٹو۔