بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
حسن بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا۔ مالک بن مِغْوَل نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے ولید بن عَیزار سے سنا۔ انہوں نے ابو عمرو (سعد بن ایاس) شیبانی سے روایت کرتے ہوئے ذکر کیا۔ کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: والدین سے نیک سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر میں خاموش ہو رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کچھ نہ پوچھا۔ اور اگر میں آپؐ سے اَور پوچھتا تو مجھے اَور بھی بتاتے۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ خالد (بن عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا کہ حبیب بن ابی عمرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عائشہ بنت طلحہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم جہاد کو تمام اعمال سے افضل سمجھتے ہیں تو کیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا: لیکن افضل جہاد وہ حج بھی ہے جو سراسر نیکی پر مبنی ہو۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا کہ ابورجاء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرتسمرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: منصور (بن معتمر) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں، لیکن جہاد ہے اور نیت ہے۔ اور جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو جہاد کے لئے چل پڑو۔
اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ عفان (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جحادہ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابوحصین نے مجھے بتایا۔ ذکوان نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔ کہتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا:مجھے کوئی ایسا کام بتائیں جو جہاد کے برابر ہو۔ آپؐ نے فرمایا: میں ایسا کوئی کام نہیں پاتا۔ پھر فرمایا: کیا تو یہ کرسکتا ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لئے نکلے تو تُو مسجد میں جائے اور نماز کے لئے کھڑا ہو اور پھر نہ تھکے، اور روزہ رکھے اور افطار نہ کرے؟ اس نے کہا: ایسا کون کرسکتا ہے؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: جہاد کرنے والے کا گھوڑا اگر رسی کی لمبان میں کلیلیں کرتا ہے تو اس کے عوض میں مجاہد کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عطاء بن یزید لیثی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔ کہتے تھے کہ کسی نے کہا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سے کون افضل ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرتا ہو۔ لوگوں نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: وہ مومن جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں اللہ کو اپنی سپر بنائے بیٹھا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے۔ طرفہُ: ۶۴۹۴۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال- اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کون جہاد کرتا ہے- اس روزہ د ار کی مثال ہے جو رات دن عبادت کرتا ہو اور اللہ نے اس شخص کے لئے جو اس کے راستے میں جہاد کرے، ذمہ لے لیا ہے کہ اگر (جہاد میں) اس کو وفات دیدے تو اس کو جنت میں داخل کرے گا، ورنہ اس کو صحیح سالم ثواب کے ساتھ یا غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امّ حرام بنت مِلحانؓ کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ آپؐ کو کھانا کھلاتیں اور حضرت امّ حرامؓ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی بیوی تھیں۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امّ حرامؓ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپؐ کو کھانا کھلایا اور آپؐ کا سر دیکھنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ اس کے بعد آپؐ ہنستے ہوئے جاگ اُٹھے۔ حضرت امّ حرام کہتی تھیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کس بات سے ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لئے نکلے ہوئے ہیں۔ وہ اس سمندر میں سوار ہیں، گویا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں یا فرمایا: ان بادشاہوں کی طرح ہیں جو تختوں پر بیٹھے ہوں۔ اسحاق نے یہ شک کیا (کہ کونسا لفظ فرمایا) کہتی تھیں: میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امّ حرامؓ کے لئے دعا کی۔ پھر آپؐ نے اپنا سر رکھا (اور سوگئے۔) پھر اس کے بعد آپؐ ہنستے ہوئے جاگ اُٹھے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپؐ کس بات سے ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ آپؐ نے پہلی بار والی بات دُہرائی۔ کہتی تھیں: میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تُو تو پہلے لوگوں میں شریک ہوچکی۔ چنانچہ وہ بھی معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں سمندری سفر میں شامل ہوئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو وہ اپنی سواری سے گر کر فوت ہوگئیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امّ حرام بنت مِلحانؓ کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ آپؐ کو کھانا کھلاتیں اور حضرت امّ حرامؓ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی بیوی تھیں۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امّ حرامؓ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپؐ کو کھانا کھلایا اور آپؐ کا سر دیکھنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ اس کے بعد آپؐ ہنستے ہوئے جاگ اُٹھے۔ حضرت امّ حرام کہتی تھیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کس بات سے ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لئے نکلے ہوئے ہیں۔ وہ اس سمندر میں سوار ہیں، گویا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں یا فرمایا: ان بادشاہوں کی طرح ہیں جو تختوں پر بیٹھے ہوں۔ اسحاق نے یہ شک کیا (کہ کونسا لفظ فرمایا) کہتی تھیں: میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امّ حرامؓ کے لئے دعا کی۔ پھر آپؐ نے اپنا سر رکھا (اور سوگئے۔) پھر اس کے بعد آپؐ ہنستے ہوئے جاگ اُٹھے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپؐ کس بات سے ہنس رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں جنگ کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ آپؐ نے پہلی بار والی بات دُہرائی۔ کہتی تھیں: میں نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تُو تو پہلے لوگوں میں شریک ہوچکی۔ چنانچہ وہ بھی معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں سمندری سفر میں شامل ہوئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو وہ اپنی سواری سے گر کر فوت ہوگئیں۔
(تشریح)یحيٰ بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ فُلَیح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جواللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور اس نے نماز سنوار کر ادا کی اور رمضان کے روزے رکھے، اس کااللہ پر یہ حق ہوچکا کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یا اپنے اس ملک میں ہی رہے جہاں پیدا ہوا ہو۔ صحابہ نے کہا: یارسول اللہ! کیا لوگوں کو ہم یہ خوشخبری سنائیں؟ آپؐ نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں۔ جن کو اللہ نے ان لوگوں کے لئے تیار کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ جب تم اللہ سے مانگنے لگو تو اس سے فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت میں سب سے عمدہ اور جنت میں سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں: آپؐ نے یوں فرمایا کہ اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں بھی نکلتی ہیں۔ اور محمد بن فلیح نے اپنے باپ سے یوں روایت کی: اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔ طرفہُ: ۷۴۲۳۔