بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 65 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ یونس نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: علی بن حسین (امام زین العابدین) نے مجھے بتایا کہ حسین بن علی علیہما السلام نے انہیں خبردی کہ حضرت علیؓ نے کہا کہ غزوئہ بدر کی غنیمت میں سے ایک جوان اونٹنی مجھے حصے میں ملی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جوان اونٹنی مجھے مالِ خمس میں سے دی۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو (بوقت رخصتانہ) گھرمیں لانا چاہا تو بنوقینقاع قبیلہ کے ایک سنار کو تیار کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے تاکہ ہم دونوں اذخر گھاس لائیں۔ میرا اِرادہ تھا کہ اسے سناروں کے پاس فروخت کروں گا اور اس کی آمد کے ذریعہ سے اپنی شادی کے ولیمہ میں مدد لوں گا۔ اسی اثناء میں کہ میں اپنے دونوں اونٹوں کا سامان پالان اور تھیلے اور رسیاں اکٹھی کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری شخص کے حجرے کے پہلو میں زانوبند بٹھائی ہوئی تھیں۔ جب میں نے جو کچھ اکٹھا کرنا تھا اکٹھا کرلیا اور لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کوکھیں پھاڑ کر ان کے کلیجے نکال لئے گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں اپنی آنکھوں پر قابونہ رکھ سکا۔ (بے اختیار رونے لگا) جب میں نے ان کا وہ نظارہ دیکھا میں نے کہا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: حمزہ بن عبدالمطلب نے اور وہ اس گھر میں انصار کی بزمِ شراب میں مشغول ہیں۔ میں وہاں سے چلا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچا۔ اس وقت آپؐ کے پاس زید بن حارثہؓ بیٹھے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس صدمہ کو پہنچان لیا جو مجھے پہنچا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: یارسول اللہ! میں نے آج سا (مصیبت کا) دن کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا ہے۔ ان کے کوہان کاٹ ڈالے ہیں اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالی ہیں اور یہ دیکھیں وہ اس گھر میں ہیں۔ ان کے ساتھ شراب پی رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اَوڑھ کر چل پڑے اور میں اور زید بن حارثہؓ آپؐ کے پیچھے ہولئے۔ یہاں تک کہ آپؐ اس گھر میں آئے جہاں حمزہ تھے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ تو انہوں نے ان کو اجازت دی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شراب پی رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ان کی کرتوت کے متعلق جو انہوں نے کی تھی ملامت کرنے لگے۔ حمزہ نشے سے متوالے تھے اور ان کی دونوں آنکھیں سرخ تھیں۔ حمزہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ پھر نگاہ اُٹھاکر آپؐ کے گھٹنوں کو دیکھا۔ پھر نگاہ اُٹھائی اور آپؐ کی ناف پر نظرڈالی۔ پھر نگاہ اُٹھائی اور آپؐ کے چہرے کو دیکھا۔ پھر حمزہ بولے: تم (لوگ تو) میرے باپ کے غلام ہی تو ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حالت دیکھ کر سمجھ گئے کہ وہ نشے میں مدہوش ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے الٹے پائوں وہاں سے لوٹے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ باہر آگئے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ ابوالزناد سے مروی ہے۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے وارث (میرے بعد میرے ترکہ کو) تقسیم نہ کریں۔ خواہ ایک دینار ہو جو اپنی بیویوں کے اخراجات اور اپنے کارپرداز کی مزدوری کے بعد میں چھوڑ جائوں وہ صدقہ ہوگا۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں خبردی۔ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا کہ ان کے باپ سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور حالت یہ تھی کہ میرے گھر میں کچھ نہ تھا جو جگر والا(جاندار) کھاتا، سوائے آدھے وسق جو کے جو پرچھتی پر تھے تو میں اسی سے کھاتی رہی یہاں تک کہ ایک مدت گزر گئی تو میں نے اسے ماپا اور وہ ختم ہوگئے۔ طرفہُ: ۶۴۵۱۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیںبتایا کہ سفیان (ثوری) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ابواسحق نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمروبن حارثؓ سے سنا کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے وقت) کچھ جائیداد نہیں چھوڑی سوا اپنے ہتھیار اور سفید خچر اور کچھ زمین کے ۔ ان سب چیزوں کو آپؐ نے بطور صدقہ چھوڑا تھا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبردی کہ حضرت عائشہ امّ المؤمنین رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مطالبہ کیا کہ انہیں اس میراث سے حصہ دیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموالِ فَے سے بطور ترکہ چھوڑی ہے۔ (یعنی وہ اموال جو بغیر جنگ کے اللہ نے آپؐ کو عطا کئے۔)
تو حضرت ابوبکرؓ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا۔ جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اس سے حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئیں اور حضرت ابوبکرؓ سے ملنا چھوڑ دیا اور اس وقت تک انہیں چھوڑے رکھا کہ وہ فوت ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ ہی زندہ رہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ فاطمہ حضرت ابوبکرؓ سے اپنا حصہ اَموالِ خیبر وفدک اور صدقاتِ مدینہ سے مانگتی تھیں جو رسول اللہ ﷺ چھوڑ گئے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ جائیدادیں انہیں دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ جو عمل رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے، میں اس میں سے کوئی بات چھوڑنے والا نہیں ہوں مگر وہ ضرور کروں گا۔ کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپؐ کے حکم سے کوئی بات میں نے چھوڑ دی، کہیں سیدھے راستہ سے بھٹک نہ جائوں۔ مدینہ میں جو آپؐ کے اموالِ صدقہ تھے تو حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کے سپرد کردئیے۔ لیکن خیبر اور فدک میں جو جائیدادیں تھیں حضرت عمرؓ نے انہیں روک لیا اور کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے اموالِ صدقہ ہیں جو آپؐ کے ان حقوق کے مصرف کیلئے مخصوص تھے جو آپؐ کو پیش آتے اور وہ ناگہانی ضرورتیں جو آپؐ کو ہوتیں اور ان دونوں کی نگرانی اس کے سپرد ہے جو آپؐ کا ولی عہد (اور جانشین) ہے۔ زُہری کہتے تھے کہ یہ دونوں جائیدادیں آج تک اسی صورت پر ہیں۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اعْتَرَی - عَرَی یَعْرُو سے باب افتعال ہے۔ اِعْتَرَاکَ یعنی تجھے (کوئی معاملہ) پیش آیا۔ عَرَوْتُہُ یعنی مجھے یہ امر پیش آیا۔ اور اس سے یَعْرُوْہ (یعنی اسے وہ اَمر درپیش ہے) اور اِعْتَرَانِي (یعنی یہ معاملہ مجھ پر چھا گیا)بھی ہے۔
اسحق بن محمد فروِی نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے مالک بن اوس بن الحدثان سے روایت کی کہ (زُہری نے کہا) محمد بن جبیر نے بھی مالک بن اوس کی اس حدیث میں سے کچھ حصہ مجھ سے ذکر کیا تھا۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس چلا گیا اور ان کے پاس جاکر اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا تو مالک نے کہا: ایسا ہوا کہ ایک دن میں اپنے گھروالوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ جب دن چڑھ چکا اور دھوپ گرم ہوگئی تو حضرت عمر بن خطابؓ کا پیغامبر میرے پاس آیااور اس نے کہا کہ امیرالمؤمنین آپ کو بلاتے ہیں چلئے۔ تو میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے پاس اندر گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بوریہ بچھائے اس پر بیٹھے ہیں۔ بورئیے پر کوئی بچھونا نہیں تھا۔ چمڑے کے تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے آپؓ کو السلام علیکم کہا۔ پھر بیٹھ گیا تو انہوں نے کہا: مالک! آپ کی قوم کے چند گھرانے میرے پاس آئے ہیں اور میں نے انہیں تھوڑا سا مال دینے کا حکم دے دیا ہے۔ آپ وہ لے لیں اور ان کے درمیان تقسیم کردیں۔ میں نے کہا: یاامیر المؤمنین! اگر آپؓ میرے علاوہ کسی اور شخص کو اس کا ارشاد فرمائیں تو بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: اسے تم لے لو۔ اسی دوران کہ مَیں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا دربان یرفا نامی ان کے پاس آیا اور کہا کہ آپؓ حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے ملاقات کریں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں اور انہیں اجازت دی۔ وہ اندر آئے اور السلام علیکم کہا اور بیٹھ گئے اور یرفا کچھ دیر (اپنی جگہ پر) بیٹھا ہی تھا کہ اس نے آکر (حضرت عمرؓ) سے کہا کہ آپؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے ملاقات کریں گے؟ تو (حضرت عمرؓ نے) کہا: ہاں اور ان دونوں کواجازت دی اور وہ اندر آئے اور اندر آکر انہوں نے السلام علیکم کہا اور دونوں بیٹھ گئے۔ حضرت عباسؓ کہنے لگے: امیرالمؤمنین! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں اور ان دونوں کے درمیان اس جائیداد کے متعلق جھگڑا تھا جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بنی نضیر سے بطور فَے عطا فرمائی تھی تواس جماعت نے بھی یعنی حضرت عثمانؓ اور آپؓ کے ساتھیوں نے کہا کہ امیرالمؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیں اور ایک کو دوسرے سے بے فکر کردیں۔حضرت عمرؓ نے کہا: ذرا ٹھہریں۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کہ کیا آپ کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں جو ہم چھوڑ جائیںصدقہ ہوتا ہے۔اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے آپ سے تھی۔ اس جماعت نے کہا: یقینا آپؐ نے ایسا فرمایا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا؟ ان دونوں نے کہا: یقینا آپؐ نے ایسا فرمایا تھا۔ تب حضرت عمرؓ نے کہا: اب میں اس معاملہ کی بابت تم سے بات کرتاہوں کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فَے میں ایک خاص رعایت سے مخصوص فرمایا تھا جو کسی دوسرے کو وہ رعایت نہیں دی۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: اور اللہ نے ان (کے اموال میں) سے اپنے رسول کو جو بطور غنیمت عطا کیا اور اس پر تم نے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ تو یہ جائیدادیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خالص تھیں اور اللہ کی قسم! آپؐ نے تمہیں چھوڑ کر اپنے لئے کچھ نہیں لیا۔ نہ ان جائیدادوں سے متعلق اپنے آپ کو تم پر مقدم رکھا ہے۔ آپؐ نے یہ تمہیں دیں اور تمہارے کاموں میں وہ کھلے طور پر خرچ کردیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے یہ مال باقی رہ گیا۔ رسول اللہ ﷺ اس جائیداد سے اپنے اہل بیت کے لئے بطور سالانہ خرچ کیا کرتے تھے اور جو باقی رہتا وہ لے کر اللہ کے مال میں شامل کردیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی پر اپنی ساری عمر عمل فرمایا۔ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تمہیں اس کا علم ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں بھی اس کا علم ہے؟ (تو انہوں نے کہا: ہاں۔) حضرت عمرؓ نے کہا: پھر اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو وفات دی اور حضرت ابوبکرؓ نے کہاکہ میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں اور حضرت ابوبکرؓ نے یہ جائیدادیں اپنے قبضہ میں لیں اور ان سے متعلق وہی عمل کیا جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس میں سچے، نیک، راہِ راست پر چلنے والے اور حق کے تابع تھے۔ پھر اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دی اور میں حضرت ابوبکرؓ کا جانشین ہوا اور میں نے اپنی خلافت کے دو سال ان جائیدادوں کو اپنے قبضہ میں رکھا۔ ان سے متعلق وہی عمل کرتا رہا جو رسول اللہﷺنے اور حضرت ابوبکرؓ نے کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں ان جائیدادوں کی نسبت سچا، نیک، راست رَو اور تابع حق تھا۔ پھر تم دونوں میرے پاس آئے کہ ان جائیدادوں کی نسبت تم مجھ سے بات کرو اور تمہاری گفتگو ایک ہی تھی اور تمہارا معاملہ ایک۔ عباسؓ! تم اپنے بھتیجے کے مال سے اپنا حصہ مانگنے کو میرے پاس آئے اور یہ علیؓ بھی میرے پاس اپنی بیوی کا حصہ لینے کے لئے آئے جو انہیں ان کے باپ سے پہنچا تھا۔ تو میں نے تم دونوں سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں جو ہم چھوڑجائیں صدقہ ہوتا ہے۔ پھر جب مجھے یہ مناسب معلوم ہوا کہ تم دونوں کو وہ جائیداد سپرد کردوں۔ تو میں نے کہا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہارے سپرد کردیتا ہوں، اس شرط پر کہ تم پختہ اقرار کرو کہ تم ان جائیدادوں کے متعلق وہی عمل کرو گے جو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے کیا اور جو میں نے ان کے بارے میں عمل کیا ہے جب سے میں ان کا متولی ہوا ہوں تو تم دونوں نے کہا (ہمیں یہ شرط منظور ہے) ہمیں وہ جائیدادیں سپرد کردیں۔ میں نے تم دونوں کو یہ جائیدادیں اس شرط کے ساتھ حوالے کر دی تھیں۔ تو میں تم سب کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ میں نے ان دونوں کو وہ جائیدادیں اس شرط کے ساتھ حوالے کردی تھیں؟ تو جماعت نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں : کیا میں نے تم دونوں کو یہ جائیدادیں اس شرط کے ساتھ حوالے کر دی تھیں؟ توانہوں نے کہا: ہاں۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا: کیا تم مجھ سے اس کے علاوہ فیصلہ طلب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہے میں اس کے سوا ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم دونوں ان کے انتظام سے عاجز ہو تو وہ میرے سپرد کردو۔ میں ان کا انتظام تمہارے لئے کردوں گا۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد(بن زید) نے ہمیں بتایا کہ ابوجمرہ ضبعی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ عبدالقیس قبیلے کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا: یارسول اللہ! ہم لوگ ربیعہ قبیلے کی ایک شاخ ہیں۔ ہمارے اور آپؐ کے درمیان کفار مضر بستے ہیں۔ ہم آپؐ کے پاس نہیں پہنچ سکتے مگر محرم کے مہینے ہی میں۔ تو آپؐ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس پر ہم خود عمل کریں اور اس کی طرف ان لوگوں کو بلائیں جو ہمارے پیچھے (ملک میں) ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہیں چار باتیں کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔ (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا یعنی یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں(یہ کہہ کر) آپؐ نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گرہ دی (یعنی ایک شمار کیا) اور نماز باجماعت قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور جو مالِ غنیمت تم حاصل کرو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے کاموں کے لئے مخصوص کرنا اور میں تمہیں کدو کے تونبے اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز لاکھی برتن اور روغنی برتن سے روکتا ہوں (جن میں شراب تیار کی جاتی ہے۔)
(تشریح)حبان بن موسیٰ اور محمد (بن مقاتل) نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ معمر اور یونس نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے۔ انہوںنے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے خبردی کہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری سے نڈھال ہوگئے اور آپؐ کے لئے چلنا پھرنا مشکل ہوگیا تو آپؐ نے اپنی ازواج سے اجازت طلب کی کہ میرے گھرمیں آپؐ کی تیمار د اری ہو تو آپؐ کی ازواج نے اس کی اجازت دے دی۔
(سعید)ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ نافع نے ہمیں بتایا(کہا:) میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں اور میری باری کے دن میرے حلق اور سینے کے درمیان فوت ہوئے اور اللہ نے میرے لعاب دہن کو آپؐ کے لعاب دہن کے ساتھ ملا دیا۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمنؓ ایک مسواک لے کر اند آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے کمزور تھے کہ مسواک نہ کرسکے۔ میں نے وہ لی اور اسے چباکر نرم کیا۔ پھر میں نے وہ آپؐ کے دانتوں پر ملی اور آپؐ کے دانت صاف کئے۔