بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) حمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ساری دنیا سے اور نیز جو نعمتیں اس میں ہیں ان سے بہتر ہے۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، حضرت سہلؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں صبح اور شام کو نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
(تشریح)(حمید نے) کہا: اور میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا:ا للہ کی راہ میں شام کو نکلنا یا صبح نکلنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تم میں سے ایک کے لئے کمان برابر جگہ بھی یا (فرمایا) اس کے کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ اور اگر جنت والوں میں سے کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانکے تو وہ (زمین وآسمان) دونوں میں جو کچھ ہے سب کو روشن کردے، اور وہ خوشبو سے مہک جائیں اور اس کی اوڑھنی جو اس کے سر پر ہے، دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔ محمد بن فُلَیح نے ہم سے بیان کیا کہ انہوںنے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جنت میں ایک کمان برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج چڑھتا اور غروب ہوتا ہے، اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا: اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا اور شام کو نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج چڑھتا اور غروب ہوتا ہے۔ طرفہُ: ۳۲۵۳۔
عبداللہ بن محمدنے ہمیں بتایا کہ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: کوئی بندہ بھی نہیں جو ایسی حالت میں مرے کہ اللہ کے پاس اس کی نیکی ہو، پھر دنیا میں لوٹنا اس کے لیے خوشی کا موجب ہو، گو اسے دنیا ومافیہا بھی مل جائے، سوائے شہید کے کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ لیتا ہے، پھر اس کو خوشی ہوتی ہے کہ دنیا میں واپس لوٹے تاکہ وہ ایک دفعہ پھر مارا جائے۔ طرفہُ: ۲۸۱۷۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپؐ فرماتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مومنوں میں سے بعض کو ناگوار نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد میں نکل جائوں اور میرے پاس اتنی سواریاں ہوتیں کہ ان سب کو سوار کرکے لے جائوں تو میں کبھی کسی دستہ فوج سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے نکلتا ہے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جائوں پھر زندہ ہوجائوں پھر مارا جائوں پھر زندہ کیا جائوں پھر مار اجائوں پھر زندہ کیا جائوں پھر مارا جائوں۔
یوسف بن یعقوب صفار نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن علیہ نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے حُمَید بن ہلال سے، حُمَید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: زید (بن حارثہؓ) نے جھنڈا لیا اوروہ شہید ہوئے۔ پھر اس کو جعفر (بن ابی طالبؓ) نے لیا۔ پھر وہ بھی شہید ہوئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے اسے لیا وہ بھی شہید ہوئے۔ پھر خالد بن ولیدؓ نے اسے لیا بغیر اس کے کہ وہ امیر بنائے گئے ہوں۔ تب ان کیلئے فتح ہوئی اور فرمایا: ہمیں اس سے خوشی نہیں کہ وہ ہمارے پاس رہتے۔ ایوب نے کہا: یا آپؐ نے یوں فرمایا: انہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ وہ ہمارے پاس رہتے۔ (یہ مضمون بیان کرتے وقت) آپؐ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید انصاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے، انہو ں نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے اپنی خالہ حضرت امّ حرام بنت ملحانؓ سے روایت کی،کہتی تھیں کہ نبی ﷺ ایک روز میرے یہاں ہی سوگئے۔ پھر آپؐ مسکراتے ہوئے جاگ پڑے ۔ میں نے پوچھا: آپؐ کس بات سے ہنسے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس بحرِ اَخضر (میں جہازوں) پر سوار ہورہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر ہوں۔ حضرت امّ حرامؓ نے کہا: آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے ان کے لئے دعا کی۔ آپؐ دوبارہ سو گئے۔ پھر اسی طرح ہنستے ہوئے جاگے۔ انہوں نے جیسے پہلے پوچھا تھا آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ نے ان کو ویسا ہی جواب دیا (جیسا کہ پہلے دیا تھا۔) حضرت امّ حرامؓ نے کہا: آپؐ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو ان پہلوں میں سے ہو۔ چنانچہ وہ اپنے خاوند عبادہ بن صامتؓ کے ساتھ نکلیں جبکہ وہ جنگ کیلئے اس وقت نکلے جب مسلمانوں نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ پہلے پہل بحری سفر اختیار کیا۔ جب وہ اس جنگ سے واپس لوٹے اور شام میں اُترے تو حضرت امّ حرامؓ کے پاس ایک سواری لائی گئی کہ وہ اس پر سوار ہوں۔ (جب سوار ہونے لگیں) تو اس نے ان کو گرا دیا اور وہ فوت ہوگئیں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید انصاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن یحيٰ بن حبان سے، انہو ں نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے اپنی خالہ حضرت امّ حرام بنت ملحانؓ سے روایت کی،کہتی تھیں کہ نبی ﷺ ایک روز میرے یہاں ہی سوگئے۔ پھر آپؐ مسکراتے ہوئے جاگ پڑے ۔ میں نے پوچھا: آپؐ کس بات سے ہنسے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس بحرِ اَخضر (میں جہازوں) پر سوار ہورہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر ہوں۔ حضرت امّ حرامؓ نے کہا: آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے ان کے لئے دعا کی۔ آپؐ دوبارہ سو گئے۔ پھر اسی طرح ہنستے ہوئے جاگے۔ انہوں نے جیسے پہلے پوچھا تھا آپؐ سے پوچھا۔ آپؐ نے ان کو ویسا ہی جواب دیا (جیسا کہ پہلے دیا تھا۔) حضرت امّ حرامؓ نے کہا: آپؐ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپؐ نے فرمایا: تم تو ان پہلوں میں سے ہو۔ چنانچہ وہ اپنے خاوند عبادہ بن صامتؓ کے ساتھ نکلیں جبکہ وہ جنگ کیلئے اس وقت نکلے جب مسلمانوں نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ پہلے پہل بحری سفر اختیار کیا۔ جب وہ اس جنگ سے واپس لوٹے اور شام میں اُترے تو حضرت امّ حرامؓ کے پاس ایک سواری لائی گئی کہ وہ اس پر سوار ہوں۔ (جب سوار ہونے لگیں) تو اس نے ان کو گرا دیا اور وہ فوت ہوگئیں۔
(تشریح)حفص بن عمر (الحوضی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق (بن عبداللہ بن ابی طلحہ) سے، اسحاق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے بنی سلیم میں سے کچھ لوگوں کو جو ستر کی تعداد میں تھے، بنی عامر کی طرف بھیجا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو میرے ماموں (حرام بن مِلحان ) نے انہیں کہا: (تم ٹھہرو!) میں تم سے آگے جاتا ہوں، اگر انہوں نے مجھے امن دیا، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کا پیغام انہیں پہنچا سکوں تو بہتر ورنہ تم میرے قریب ہی ہو۔ چنانچہ وہ آگے گئے اور لوگ ان کے ساتھ امن سے پیش آئے۔ ابھی وہ ان سے نبی ﷺ کی باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنے ایک شخص کو اشارہ کیا جس نے ان کو برچھا مارا، جو اُن کے بدن سے پار نکل گیا اور انہوں نے کہا: اللہ اکبر! کعبہ کے ربّ کی قسم! میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔ پھر وہ ان کے باقی ساتھیوں پر پل پڑے اور ان کو مار ڈالا، سوائے ایک لنگڑے شخص کے جو پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ ہمام کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ تب جبرائیل علیہ السلام نے نبی ﷺ کو بتادیاکہ وہ اپنے ربّ سے جاملے ہیں اور وہ ان سے خوش ہے اور اس نے ان کو بھی خوش کردیا ہے۔ (حضرت انسؓ کہتے تھے کہ) ہم یوں پڑھا کرتے تھے: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ سے جا ملے ہیں۔ وہ ہم سے خوش ہوگیا اور اس نے ہم کو خوش کردیا۔ پھر اس کے بعد اس کا پڑھنا منسوخ ہوگیا۔ نبیﷺ نے چالیس دن تک صبح کو رِعل، ذکوان، بنی لحیان اور بنی عصیہ کے خلاف دعا کی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔