بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم سے، عاصم نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب بھی کسی وادی کے کنارے پر آنکلتے تو ہم لاالٰہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتے۔ ہماری آوازیں بلند ہوجاتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! آہستہ، ضبط سے کام لو۔ کیونکہ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ ایسے کو جو یہاں موجود نہیں۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تو بہت ہی شنوا ہے۔ بہت ہی نزدیک ہے۔ اس کانام بہت ہی مبارک ہے اور اس کی شان بہت ہی بلند ہے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین بن عبدالرحمن سے، حصین نے سالم بن ابی جعد سے، سالم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم جب بلندی پر چڑھتے اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اُترتے تو سبحان اللہ کہتے۔ طرفہُ: ۲۹۹۴۔ اللہ اکبر کہنا جب کسی بلندی پر چڑھے
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عدی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے حصین سے، حصین نے سالم سے، سالم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اُترتے تو سبحان اللہ کہتے۔ طرفہُ: ۲۹۹۳۔
عبداللہ (بن یوسف) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ جب حج یا عمرہ سے لوٹتے اور میں یہی جانتا ہوں کہ انہوںنے کہا: جب غزوہ سے لوٹتے، کہتے تھے: جب آپؐ کسی گھاٹی یا اونچے میدان میں پہنچتے تو آپؐ تین بار اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد فرماتے: لا الہ الا اللہ یعنی ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہت اسی کی ہے اور اسی کیلئے تمام کی تمام خوبیاں ہیں اور وہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے۔ ہم سفر سے لوٹ رہے ہیں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ ہم آئندہ غلطیاں نہیں کریں گے۔ ہم اپنے ربّ ہی کی عبادت کرنے والے ہیں، اپنے ربّ ہی کے سامنے سر جھکانے والے ہیں، اپنے ربّ ہی کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ نے یقینا اپنا وعدہ سچا کردیا اور اپنے بندے کی یاوری فرمائی اور تمام جتھوں کو تنہا شکست دے کر بھگادیا۔ صالح نے کہا: میں نے سالم سے پوچھا: کیا حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا؟ کہا: نہیں۔
(تشریح)مطر بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔عوام (بن حوشب) نے ہم سے کہا کہ ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے ابوبردۃ (بن ابی موسیٰ )سے سنا اور وہ اَور یزید بن ابی کبشہ کسی سفر میں اکٹھے رہے تھے اور یزید اس سفر میں روزے رکھتے تھے تو ابوبردہ نے ان سے کہا: میں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) سے بارہا سناہے۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب بندہ بیمارہوجائے یا وہ سفر کرے تو اس کے لئے ویسے ہی عمل لکھے جاتے ہیں جو وہ بحالت صحت گھر میں کیا کرتا تھا۔ اکیلے سفر کرنا
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ محمد بن منکدر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ خندق میں لوگوں سے پوچھا کہ ان میں سے کون فلاں کام کرے گا؟ حضرت زبیرؓ نے جلدی سے جواب دیا کہ میں کروں گا۔ پھر آپؐ نے ان سے پوچھا کہ کون ان میں سے فلاں کام کرے گا؟ پھر حضرت زبیرؓ نے جلدی سے جواب دیاکہ میں کروں گا۔ پھر آپؐ نے ان سے پوچھا کہ کون ان میں سے فلاں کام کرے گا؟ پھر حضرت زبیرؓ نے جلدی سے جواب دیا کہ میں کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔ سفیان نے کہا: حواری کے معنی ہوتے ہیں مددگار۔
ابوالولید نے ہمیں بتایا کہ عاصم بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (دوسری سند) اور ابونعیم نے بھی ہم سے بیان کیا کہ عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تنہا سفر کرنے میں جو خطرے میں جانتا ہوں اگر لوگ انہیں جانتے تو رات کو کوئی سوار اکیلا سفر نہ کرتا۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا، کہا: زید بن اسلم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہا: میں مکہ کے راستے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ انہیں صفیہ بنت ابی عبید (ان کی بیوی) کے متعلق خبر پہنچی کہ وہ سخت بیمار ہیں۔ انہوں نے رفتار تیز کر دی اور جب شفق غائب ہوگئی، وہ اُترے، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں اور کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ جب آپؐ کو چلنے میں جلدی ہوتی تو مغرب میں دیرکرتے اور پھر مغرب و عشاء دونوں کو جمع کرتے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیاکہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبکر کے آزاد کردہ غلام سُمَیّ سے، سُمَیّ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر ایک قسم کا عذاب ہے۔ تم میں سے ایک کو اس کی نیند سے اور اس کے کھانے اور پینے سے محروم کردیتا ہے۔ سوجب تم میں سے کوئی اپنا کام پورا کرچکے تو اپنے گھر والوں کے پاس جلدی چلا آئے۔