بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 34 hadith
قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ حسن بن عمرونے ہم سے بیان کیا کہ مجاہد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما سے، حضرت عبداللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے ایسے آدمی کو قتل کیا جس سے معاہدہ ہو، اس نے جنت کی خوشبو نہ سونگھی بحالیکہ جنت کی خوشبو تو ایسی ہے کہ چالیس برس کی مسافت پر بھی محسوس ہوتی ہے۔ طرفہُ: ۶۹۱۴۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہؓسے مروی ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادوکیا گیا۔ یہاں تک کہ آپؐ کو یہ خیال ہوتا کہ آپؐ نے کوئی کام کیا ہے۔ مگر آپؐ نے نہ کیا ہوتا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: سعید مقبری نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم مسجد میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور آپؐ نے فرمایا: یہودیوں کے پاس چلو۔ ہم باہر نکلے۔ اس مدرسہ میں پہنچے جہاں تورات کا درس ہوتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسلام قبول کر لو تم سلامتی میں رہوگے اور تمہیں معلوم ہوکہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تم کو اس زمین سے نکالنا چاہتا ہوں۔ اس لئے تم میںسے جو شخص اپنی جائیداد کی کچھ قیمت پاتا ہو وہ اس کو بیچ دے ورنہ معلوم رہے کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ أطرافہُ: ۶۹۴۴، ۷۳۴۸۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے سلیمان بن ابی مسلم اَحول سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ کہتے تھے: جمعرات کا دن۔ جمعرات کا دن بھی کیا مصیبت کا دن تھا۔ یہ کہہ کر وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں نے کنکریاں بھی تر کردیں۔ میں نے کہا: ابن عباسؓ ! وہ جمعرات کا دن کیا تھا۔ کہنے لگے: جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری نے سخت نڈھال کردیا۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس شانے کی ایک ہڈی لائو۔ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ لوگوں نے آپس میں جھگڑنا شروع کردیا اور نبی ﷺ کے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے تھا۔ لوگوں نے کہا: آپؐ کو کیا ہوگیا ہے کیا آپؐ بیماری کی شدت میں بول رہے ہیں؟ آپؐ سے پوچھ کر سمجھ تولو۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے چھوڑدو۔ میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جدھر تم مجھے بلاتے ہو اور آپؐ نے ان کو تین باتوں کا حکم دیا۔ فرمایا: جزیرئہ عرب سے مشرکوں کو نکال دو اور نمائندوں کی ویسے ہی خاطر کرتے رہنا جس طرح کہ میں کرتا تھا اور تیسری بات }بھی بہت اچھی ہے٭{ یا تو سعید خاموش ہورہے، اس کو بیان نہ کیا یا انہوں نے وہ بات بتائی اور میں وہ بھول گیا۔ سفیان نے کہا: یہ جملہ (وَالثَّالِثَۃُ خَیْرٌ) سلیمان (اَحْوَل) کا قول ہے۔ أطرافہُ: ۱۱۴، ۳۰۵۳، ۴۴۳۱، ۴۴۳۲، ۵۶۶۹، ۷۳۶۶۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب خیبر فتح کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک بھنی ہوئی) بکری ہدیہ بھیجی گئی جو زہرآلود تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو یہودی یہاں ہوں ان کو اکٹھا کرکے میرے پاس لے آئو۔ چنانچہ وہ آپؐ کے پاس لائے گئے۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ کیا تم اس بارہ میں مجھ سے سچ کہو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ یہود نے کہا: فلاں شخص۔ آپؐ نے فرمایا: تم نے جھوٹ کہا ہے۔ بلکہ تمہارا باپ توفلاں ہے۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے سچ کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے سچ بات بیان کرو گے اگر میں تم سے وہ پوچھوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابوالقاسم۔ اوراگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپؐ ہمارے جھوٹ کوپہچان لیں گے۔ جیسا کہ باپ سے متعلق ہمارا جھوٹ پہچان گئے ہیں۔ آپؐ نے ان سے پوچھا: آگ میں پڑنے والے کون ہیں؟ انہوں نے کہا: تھوڑی دیر تو ہم اس میں رہیں گے۔ پھر ہمارے بعد تم لوگ اس میں رہ جائو گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چلو دور ہو۔ تم ہی اس میں رہوگے۔ بخدا ! ہم اس میں کبھی بھی تمہارے جانشین نہیں ہوں گے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے سچ بات بیان کروگے، اگر میں تم سے وہ پوچھوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابوالقاسم۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: تمہیں کس بات نے اس پر آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا: }ہم٭ چاہتے تھے کہ{ اگر تم کاذب ہوئے تو ہم تم سے آرام پائیں گے اور اگر تم نبی ہوئے تو یہ زہر تمہیں نقصان نہ دے گا۔ أطرافہُ: ۴۲۴۹، ۵۷۷۷۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت بن یزید نے ہمیں بتایا۔ عاصم نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قنوت کی بابت پوچھا۔ انہوں نے کہا: رکوع کرنے سے پہلے۔ میں نے کہا: فلاں شخص کہتا ہے کہ آپؐ نے کہا ہے: رکوع کے بعد ہوتا ہے۔ تو انہوں نے کہا: اس نے غلط کہا ہے۔ پھر حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہمیں بتایا کہ آپؐ رکوع کے بعد کھڑے ہوکر ایک مہینہ تک بنی سلیم کے چند قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے قاریوں میں سے چالیس یا ستر آدمیوں کو بعض مشرک لوگوں کے پاس بھیجا تو یہ قبائل آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالانکہ ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ میں نے آپؐ کو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی پر اتنا غم کیا ہو جتنا کہ آپؐ نے ان قاریوں پر غم کیا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابو نضر سے روایت کی کہ ابومرہ نے جو حضرت امّ ہانی بنت ابی طالبؓ کے غلام تھے، ان کو بتایا کہ انہوں نے حضرت امّ ہانی بنت ابی طالبؓ سے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ جس سال مکہ فتح کیا گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور مجھے معلوم ہو ا کہ آپؐ نہا رہے ہیں اور فاطمہؓ آپؐ کی بیٹی آپؐ کے سامنے پردہ کئے ہوئے تھیں۔ میں نے آپؐ کو السلام علیکم کہا: آپؐ نے پوچھا۔ یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں امّ ہانی ابوطالب کی بیٹی۔آپؐ نے فرمایا: مرحبا امّ ہانی۔ جب آپؐ غسل سے فارغ ہوئے، کھڑے ہوکر آپؐ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ آپؐ نے ایک ہی کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری ماں کا بیٹا علیؓ کہتا ہے کہ وہ اس شخص کو ضرور مار ڈالے گا جس کو میں نے پناہ دی ہے۔ یعنی ہُبَیرہ کے فلاں بیٹے کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امّ ھانی! جس کو تم نے پناہ دی، ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔ امّ ھانی کہتی تھیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت علیؓ نے ہمیں مخاطب کیا اور کہا: ہمارے پاس اور کوئی کتاب نہیں جسے پڑھتے ہوں۔ مگر اللہ کی کتاب ہی ہے اور وہ جو اس ورق میں ہے۔ انہوں نے کہا: اس میں زخموں کے قصاص ہیں اور اونٹوں کے نصاب سے متعلق احکام اور یہ بھی کہ مدینہ کی زمین جبل عیر سے فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حرم میں کوئی بدعت کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس سے نہ کوئی فریضہ عمل قبول کیا جائے گا نہ کوئی معاوضہ اور جس نے اپنے موالی کے سوا کسی اور کو مولی بنایا تو اس پر بھی اسی طرح لعنت ہوگی اور مسلمانوں کی ذمہ داری ایک ہی سی ہے جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا تو اس پر بھی ویسی ہی لعنت ہوگی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشرنے جو مفضل کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا کہ یحيٰ (بن سعید انصاری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بُشَیربن یسار سے، بُشَیر نے حضرت سہل بن ابی حثمہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبداللہ بن سہلؓ اور محیصہ بن مسعود بن زیدؓخیبر کو گئے اور اہل خیبر نے ان دنوں صلح کرلی تھی وہ دونوں الگ ہوگئے۔ پھر محیصہ عبداللہ بن سہل کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ مقتول ہیں اور خون میں تڑپ رہے تھے۔ آخر انہیں دفن کیا۔ پھر وہ مدینہ میں آئے اور عبدالرحمن بن سہلؓ اور محیصہؓ اور حویصہؓ جو دونوں مسعود کے بیٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عبدالرحمن بولنے لگے تو آپؐ نے فرمایا: بڑے کو بولنے دو اور وہ ان لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ چنانچہ وہ خاموش ہوگئے اور دوسرے دونوں نے گفتگو شروع کی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم قسم کھائو گے؟ اور اس صورت میں اپنے قاتل سے دیت لینے کے حق دار ہوگے۔ قَاتِلَکُمْ کا لفظ حضور نے فرمایا یا صَاحِبَکُمْ فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: ہم کیسے قسم کھائیں حالانکہ ہم موجود نہ تھے اور ہم نے دیکھا نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسمیں دلوا کر تمہارے سامنے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: ہم کافرلوگوں کی قسمیں کیسے لیں؟ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ( انہوں نے ان کو خبردی۔) حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ ابوسفیان بن حرب نے ان کو بتایا کہ ہرقل نے انہیں قافلہ قریش سمیت بلا بھیجا۔ وہ شام میں تجارت کے لئے گئے ہوئے تھے۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان سے کفارِ قریش کے متعلق میعادی صلح کی تھی۔
(تشریح)