بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جامع بن شداد سے، جامع نے صفوان بن محرز سے، صفوان نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی تمیم کے کچھ لوگ آئے تو آپؐ نے فرمایا: اے بنی تمیم ! تمہیں بشارت ہو۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے ہمیں بشارت دی ہے تو ہمیں کچھ دیں بھی۔ یہ سن کر آپؐ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر آپؐ کے پاس یمن کے لوگ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: یمن والو! یہ بشارت قبول کرو۔ جبکہ بنوتمیم نے اس کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے قبول کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے پیدائش اور عرش کے متعلق باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے عمران! تمہاری اونٹنی نکل بھاگی ہے (اور میں مجبوراً آنحضرت ﷺ کی مجلس سے اُٹھ بیٹھا) کاش کہ میں نہ اُٹھتا (اورحضور کی باتیں سنتا رہتا۔)
اور عیسیٰ (بن موسیٰ )نے رقبہ سے، رقبہ نے قیس بن مسلم سے، قیس نے طارق بن شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان منبر پر کھڑے ہوئے اور آپؐ نے ابتدائے پیدائش کے متعلق ہم سے بیان کیااور اس وقت تک کی حالت بیان کی جبکہ جنت والے اپنے ٹھکانوں میں اور دوزخ والے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوگئے۔ جس نے اس کو یاد رکھا یاد رکھا اور جو اس کو بھول گیا بھول گیا۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ مخلوقات پیدا کرچکاتو اس نے اپنی کتاب میں جو کہ اس کے پاس عرش پر ہے یہ لکھا: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
بشربن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم (بن عبداللہ بن عمر) سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زمین سے کچھ ناحق لیا توقیامت کے دن ساتوں زمینوں تک اسے دھنسایا جائے گا۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ جامع بن شداد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے بتایا، کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا اور اپنی اونٹنی دروازے پر باندھ دی۔ بنی تمیم کے کچھ لوگ آپؐ کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی تمیم اس بشارت کو قبول کرلو۔ انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں بشارت تو دے دی ہے ہمیں کچھ دیجئے بھی۔ دو دفعہ انہوں نے کہا۔ پھر اس کے بعد آپ کے پاس اہل یمن میں سے کچھ لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا: یمن والو! اس خوشخبری کو قبول کرو۔ جبکہ بنوتمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم قبول کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم (آپ کے پاس) اس امر (پیدائش) کے متعلق پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: پہلے اللہ ہی تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا اور قرآنِ مجید میں اس نے ہر بات لکھ دی ہے اور اس نے ان بلندیوں کو اور اس زمین کو پیدا کیا۔ اتنے میں ایک پکارنے والے نے آواز دی۔ حصین کے بیٹے! تمہاری اونٹنی چلی گئی ہے۔ یہ سن کر میں چل دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ اتنی دور نکل گئی ہے کہ اس کے اس طرف سراب لہریں مار رہا ہے۔ اللہ کی قسم میں نے آرزو کی کہ میں اس کو چھوڑ دیتا۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے ابواحمد سے، ابواحمد نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے (عبدالرحمن) اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے (تعجب ہے کہ) ابن آدم نے مجھے گالیاں دیں اور اسے نہیں چاہیے کہ وہ مجھے گالیاں دے اور اس نے مجھے جھٹلایا اور اسے یہ شایانِ شان نہیں تھا۔ اس کا گالی دینا جو ہے تو وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ میری اولاد ہے اور اس کا جھٹلانا جو ہے تو اس کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پہلے پیدا کیا، اَب وہ پھر مجھے دوبارہ نہیں پیدا کرے گا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ (اسماعیل) بن علیہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی بن مبارک سے، علی نے یحيٰبن ابی کثیر سے، یحيٰنے محمد بن ابراہیم بن حارث سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی اور ابوسلمہ اور کچھ لوگوں کے درمیان کسی زمین کے متعلق جھگڑا تھا تو وہ حضرت عائشہؓ کے پاس اندر آئے اور ان سے اس جھگڑے کا ذکر کیا۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے کہا: ابوسلمہ زمین سے بچو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے بالشت برابربھی ناحق لی اسے سات زمینوں کا طوق پہنایاجائے گا۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، محمد بن سیرین نے (عبدالرحمن) بن ابی بکرہ سے، انہوں نے }حضرت ابوبکرہ٭{ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: زمانہ چکر کھاکر پھر اسی حالت میں آگیا ہے جس حالت میں وہ اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیداکیا۔ سال بارہ مہنیے کا ہے۔ ان میں سے چار مہینے قابل عزت ہیں۔ تین پے دَر پے، ذوالقعدہ، ذوالحج اور محرم اور وہ رجب مضر جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے٭ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیلؓ سے روایت کی کہ ارویٰ (بنت ابی اویس) نے (ان کے برخلاف) مروان کے پاس ایک حق کے متعلق مقدمہ دائر کیا جو وہ خیال کرتی تھیں کہ حضرت سعیدؓ نے ان کو کم دیا ہے۔ حضرت سعیدؓ نے کہا: میں اروٰی کے حق سے کچھ کم کرسکتا ہوں؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس نے ظلم سے زمین کا ایک بالشت بھی لیا اس کو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایاجائے گا۔ ابن ابی الزناد نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے یوں نقل کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت سعید بن زیدؓ نے مجھ سے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا۔
(تشریح)محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہو رہا تھا حضرت ابوذرؓ سے پوچھا: تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ جاتا ہے اور جاکر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور جانے کی اجازت مانگتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ زمانہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا مگر اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے گا اور اجازت مانگے گا اور اسے اجازت نہ دی جائے گی۔ اسے کہا جائے گا: جہاں سے آئے ہو، وہیں لوٹ جائو۔ پھر جہاں ڈوبا تھا، وہاں سے سورج نکلے گا اور یہی مراد ہے اس آیت سے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سورج بھی ایک جائے قرار تک پہنچنے کے لئے چلا جارہا ہے جو اس کے لئے مخصوص ہے۔ یہی تقدیر ہے اس کی جو عزیز ہے اور علیم ہے۔