بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 34 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ اور شعبہ نے ثابت سے بھی روایت کی۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے،انہوں نے نبی ﷺ سے کہ آپؐ نے فرمایا: ہر دغاباز کا قیامت کے روز ایک جھنڈا ہوگا۔ ان دونوں راویوں میں سے ایک نے کہا: جھنڈا نصب کیا جائے گا اور دوسرے نے کہا: قیامت کے روز جھنڈا دیکھنے سے وہ پہچانا جائے گا کہ یہ دغاباز ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ ہر دغاباز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جو اس کی دغابازی کے موافق نصب کیا جائے گا۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ اور شعبہ نے ثابت سے بھی روایت کی۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے،انہوں نے نبی ﷺ سے کہ آپؐ نے فرمایا: ہر دغاباز کا قیامت کے روز ایک جھنڈا ہوگا۔ ان دونوں راویوں میں سے ایک نے کہا: جھنڈا نصب کیا جائے گا اور دوسرے نے کہا: قیامت کے روز جھنڈا دیکھنے سے وہ پہچانا جائے گا کہ یہ دغاباز ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اب ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں (جہاد کے لئے) نکلنے کو کہا جائے تو تم (جہاد کے لئے) نکلو اور فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا کہ اس شہر (مکہ) کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے، اس دن سے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تو یہ روزِ قیامت تک اللہ کی حرمت سے حرم ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس میں جنگ جائز نہیں ہوئی۔ اور میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے ہی جائز ہوئی ہے تو یہ شہر قیامت کے روز تک اللہ تعالیٰ کی حرمت سے حرم (معزز) ہے۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور اس کا شکاری جانور نہ بدکایا جائے۔ کوئی اس کی گری پڑی چیز نہ اُٹھائے مگر وہی جو اسے شناخت کرائے اور اس کا گھاس نہ کاٹا جائے۔ حضرت عباسؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اِذخرکو مستثنیٰ فرمائیں کیونکہ یہ ان کے کاریگروں کے کام آتی ہے اور ان کے گھروں کے لئے درکار ہے۔ فرمایا: سوائے اِذخر کے۔
(تشریح)