بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
اور ابو زناد نے محمد بن حمزہ بن عمرو اسلمی سے روایت کرتے ہوئے کہا۔ محمد نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمر ص نے انہیں محصل زکوٰۃ بنا کر بھیجا تو (انہیں وہاں علم ہوا کہ) ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مباشرت کی ہے۔ حمزہ نے اس شخص سے ضامن لیے؛ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے (اور سارا واقعہ بیان کیا۔) حضرت عمرؓ نے اس کو سو کوڑوں کی سزا دی۔ کیونکہ آپؓ نے واقعہ بیان کرنے والوں کی بات کو سچ پایا اور تصدیق کی۔ ہاں اس کو مسئلہ کے نہ جاننے کی وجہ سے ایک حد تک معذور سمجھا۔ اور حضرت جریرؓ اور حضرت اشعثؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مرتدوں کی نسبت کہا: ان سے توبہ کرائو اور ان کی ضمانتیں لو۔ پس انہوں نے توبہ کی اور ان کے قبیلوں نے ان کی ضمانت دی اور حماد نے کہا: اگر کوئی شخص کسی کا کفیل ہوا ہو اور (جس کا کفیل ہوا ہے) وہ مرجائے تو ضامن کے ذمہ کچھ نہ ہوگا۔ حکم نے کہا: ضمانت ادا کرنی ہوگی۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عوفؓ ہمارے پاس (مکہ سے ہجرت کرکے) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیعؓ کے درمیان برادرانہ تعلق قائم کیا۔
محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن زکریا نے ہمیں بتایا کہ عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپؓ کو یہ خبر پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں (جاہلیت کے) عہد وپیمان نہیں۔ تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو میرے گھر میں قریش اور انصار کے درمیان عہدوپیمان کرایا تھا۔
ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) کا قول ہے کہ لیث نے کہا کہ جعفر بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے بنی اسرائیل میں سے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار اَشرفیاں قرض مانگیں تو اُس نے کہا: میرے پاس کوئی گواہ لے آئو۔ میں ان کو گواہ ٹھہرائوں (اور رقم دے دوں) تو اس نے کہا: اللہ ہی کافی گواہ ہے۔ اس نے کہا: پھر (اپنا) کوئی ضامن پیش کرو۔ اس نے کہا: اللہ ہی کافی ضامن ہے۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا اور اُس کو ایک مقررہ میعاد کے لئے (اشرفیاں) دے دیں۔ (جس نے قرض لیا تھا) اس نے سمندرکا سفر کیا اور اپنا کام سرانجام دیا اور اس کے بعد جہاز کی تلاش کی کہ جس پر وہ سوار ہو کر اُس کے پاس اس میعاد پر پہنچے جو اس نے مقرر کی تھی۔ مگر اس نے کوئی جہاز نہ پایا۔ آخر اس نے ایک لکڑی لی اور اسے کریدا اور اس میں ایک ہزار اشرفیاں اور اپنا ایک خط اپنے دوست کے نام رکھ دئیے۔ پھر اس کا منہ بند کردیا اور پھر اسے لے کر سمندر پر آیا اور کہا: اے میرے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے ضامن مانگا تھا اور میں نے کہا تھا: ا للہ تعالیٰ ہی کافی ضامن ہے اور وہ تیرا نام سن کر راضی ہوگیا اوراُس نے مجھ سے گواہ مانگا تھا اور میں نے کہا تھا: اللہ ہی کافی گواہ ہے اور وہ تیرا نام سن کر راضی ہو گیا تھا۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز پائوں کہ تا اس کا مال اس کو بھیج دوںمگر مَیں نہ کر سکا اور اَب میں یہ مال تیرے سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اُس نے وہ لکڑی سمندر میں ڈال دی؛ یہاں تک کہ وہ سمندر میں آگے چلی گئی۔ پھر اس کے بعد وہ واپس (گھر کو) لوٹا اور جہاز کی تلاش میں رہا۔ تا اپنے ملک کو واپس آجائے۔ وہ شخص جس نے اس کو قرض دیا ہوا تھا، ایک دن باہر نکلا کہ دیکھے شائد کوئی جہاز اس کا مال (روپیہ) لے کر آیا ہو تو اُس کی نظر اُس لکڑی پر پڑی جس کے اندر مال رکھا ہوا تھا۔ وہ اسے اپنے گھروالوں کے لئے ایندھن سمجھ کر لے گیا۔ جب اس نے اس کو چیرا، اس میں مال اور خط پایا۔ پھر کچھ مدت کے بعد وہ شخص بھی آپہنچا جس کو اس نے مال قرض دیا تھا۔ وہ ایک ہزار دینار اپنے ساتھ لایا اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے جہاز کی انتہائی تلاش کی تا تمہارا مال تمہیں واپس کروں۔ مگر جس جہاز میں مَیں آیا ہوں، اس سے پہلے میں نے کوئی جہاز نہیں پایا تو قرض خواہ نے کہا: کیا تو نے کوئی (رقم) میرے لئے بھیجی تھی؟ اس نے کہا کہ میں تجھے بتاتا ہوں کہ مجھے اس جہاز کے سوا جس میں اب آیا ہوں کوئی جہاز نہیں ملا۔ قرض خواہ نے کہا: اللہ نے تیری طرف سے وہ مال مجھے پہنچا دیا ہے جو تو نے لکڑی میں بند کرکے بھیجا تھا۔ پس تو اطمینان سے ہزار اشرفیاں لے کر واپس لوٹ جا۔
(تشریح)صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے ادریس سے، ادریس نے طلحہ بن مصرف سے، طلحہ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت ابن عباسؓ نے آیت وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ میں مَوَالِيَ کے معنے وارثوں کے کئے ہیں (اور آیت کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے ہر ایک کے لئے وارث بنائے ہیں) اور آیت وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ (یعنی اور وہ جن سے تم نے پختہ عہد وپیمان کئے ہیں۔۔۔۔) کی تشریح حضرت ابن عباسؓ یوں کرتے تھے کہ مہاجر جب مدینہ میں آئے تو مہاجر اَنصار ی کا وارث ہوتا۔ اس کے رشتہ دار وارث نہ ہوتے اور یہ اس برادرانہ تعلق کی وجہ سے تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قائم کیا تھا۔ لیکن جب آیت وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ نازل ہوئی کہ ہر ایک کیلئے کچھ وارث بنائے ہیں تو (آیت وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ کی یہ تشریح)منسوخ ہوگئی۔ پھر حضرت ابن عباسؓ نے وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ کے تحت آنے والوں کے متعلق فرمایا کہ اب صرف ان کی مدد اور خیر خواہی کی جاسکتی ہے۔ ترکہ کی تقسیم کا حکم ختم ہوگیا۔ ہاں حق میں ان کے وصیت کی جاسکتی ہے۔
ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبیدسے، یزید نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا؛ تا کہ آپؐ اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اس پر کوئی قرضہ ہے؟ لوگوںنے کہا: نہیں۔ تب آپؐ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر اس کے بعد ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپؐ نے پوچھا: کیا اس پرکوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تم ہی اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ ابوقتادہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اس کے قرضہ کا میں ذمہ دار ہوں۔ تب آپؐ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ طرفہُ: ۲۲۸۹۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان ( بن عیینہ)نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن علی (باقر) سے سنا کہ وہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ حضرت جابرؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: اگر بحرین سے مال آیا ہوتا تو مَیں تمہیں اس طرح (دونوں لپ بھر کر ) اس طرح (اس طرح) دیتا۔ بحرین کا مال نہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے۔ جب بحرین سے مال آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے حکم دیا اور منادی کرائی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جس کسی کا کوئی وعدہ یا قرضہ ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ میں بھی اُن کے پاس گیا اور میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یوں فرمایا تھا تو انہوں نے مجھے ایک لپ بھر کردیا اور میں نے اسے گنا تو وہ پانچ سو تھے اور انہوں نے کہا: اس سے دوگنے اور لے لو۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ عقیل سے مروی ہے کہ ابن شہاب نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، میرے ماں باپ اسی دین پر تھے۔ اور ابوصالح (سلیمان) نے کہا: مجھے عبداللہ (بن مبارک) نے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میرے ماں باپ اسی دین پر تھے اور ہم پر کوئی ایسا دن نہیں گزرا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس صبح و شام دونوں وقت نہ آئے ہوں۔ جب مسلمانوں کو تکلیف دی گئی تو حضرت ابوبکرؓ ہجرت کرکے حبشہ کی طرف چل پڑے۔ جب وہ بَرْکُ الْغِمَاد مقام پر پہنچے تو انہیں (مالک) بن دغنہ ملا اور وہ قارہ قبیلہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا: ابوبکرؓ کہاں کا قصد ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیاہے اور میں چاہتا ہوں کہ ملک میں چلوں پھروں اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا رہوں۔ ابن دغنہ نے کہا: تمہارے جیسا آدمی خود وطن نہیں چھوڑتا اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔ تم تو کنگال کو کما کر دیتے رہے ہو، رشتہ داروں سے نیک سلوک کیا کرتے ہو اور بے چاروں کو سنبھالتے ہو اور مہمان نواز اور حادثوں میں حق بات کی مدد کرتے ہو اور میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ واپس چلو اور اپنے وطن میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرو اور ابن دغنہ بھی چل پڑا اور حضرت ابوبکرؓکے ساتھ (مکہ میں) آیا اور کفارِ قریش کے سرداروں سے ملا اور اُن سے کہا: ابوبکرؓ تو ایسے ہیں کہ ان جیسا آدمی وطن سے نہیں نکلنا چاہیے اور نہ نکالا جانا چاہیے۔ کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو غریب کی پرورش کرتا ہے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا ہے اور بے سہاروں کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر لیتا ہے اور مہمانوں کی بہترین خاطر مدارات کرتا ہے اور حوادث میں حق بات کی مدد کرتا ہے۔ اس پر قریش نے ابن دغنہ کی پناہ منظور کرلی اور حضرت ابوبکرؓ کو اَمن دیا مگر ابن دغنہ سے کہا: ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ اپنے ربّ کی عباد ت اپنے گھر میں ہی کیا کرے۔ (وہیں) نماز پڑھے اور جو چاہے پڑھے۔ لیکن ہمیں (اپنی عبادت اور قرآن پڑھنے) سے تکلیف نہ دے اور اعلانیہ نہ پڑھے۔ کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے بیٹوں اور ہماری عورتوں کو گمراہ کردے گا۔ ابن دغنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے یہ کہہ دیا تو حضرت ابوبکرؓ اپنے گھر میں ہی اپنے ربّ کی عبادت کرنے لگے اور اپنے گھر کے سوا کسی اور جگہ نماز اور قرآن اعلانیہ نہ پڑھتے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو خیال آیا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنالی اور کھلی جگہ میں نکلے۔ وہیں نماز بھی پڑھتے اور قرآنِ مجید بھی اور اُن کے پاس مشرکوں کی عورتیں اور بچے جمگھٹا کرتے۔ وہ تعجب کرتے اور حضرت ابوبکرؓ کو دیکھتے اور حضرت ابوبکرؓ بہت ہی رونے والے آدمی تھے۔ جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوئوں کو نہ تھام سکتے۔ اس کیفیت نے قریش کے مشرک سرداروں کو گھبرا دیا اور انہوں نے ابن دغنہ کو بلا بھیجا۔ وہ ان کے پاس آیا اور انہوں نے اسے کہا: ہم نے تو ابوبکرؓ کو اِس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے ربّ کی عبادت کرتا رہے۔ لیکن انہوں نے اس شرط کی پرواہ نہ کی اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی ہے اور نمازاورقرآن اعلانیہ پڑھنا شروع کردیا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمارے لڑکوں اور ہماری عورتوں کو گمراہ کردے گا۔ تم اس کے پاس جائو۔ اگر وہ پسند کرے کہ اپنے گھر کے اندر ہی رہ کر اپنے ربّ کی عبادت کرے تو کرے ورنہ اگر اعلانیہ ہی پڑھنے پر مصر رہے تو اسے کہو: تمہاری (امان کی) ذمہ داری تمہیں واپس کردے۔ کیونکہ ہمیں یہ برا معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری ذمہ داری توڑیں اور ہم تو (ابوبکرؓ کو٭) کبھی بھی اعلانیہ عبادت کرنے نہیں دیں گے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں کہ ابن دغنہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ کو اِس شرط کا علم ہی ہے جس پر میں نے آپ کی خاطر عہد کیا تھا۔ اس لئے یا تو آپ اس پر قائم رہیں ورنہ میری ذمہ داری مجھے واپس کردیں۔ کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ عرب یہ بات سنیں کہ جس شخص کو میں نے پنا ہ دی تھی، اس کے بارے میں بدعہدی کی گئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں آپ کی پناہ آپ کو واپس کرتا ہوں اور اللہ ہی کی پناہ پر راضی ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں ہی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے۔ میں نے ایک کھاری زمین دیکھی ہے جس میں کھجوریں ہیں اور وہ دو پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذکر کیا تو جس (مسلمان) نے ہجرت کرنی تھی، اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو حبشہ کے ملک میں ہجرت کرگئے تھے ان میں سے بھی بعض مدینہ پہنچ گئے اور حضرت ابوبکرؓ نے بھی ہجرت کرنے کی تیاری کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھہریں۔ کیونکہ میں امید کرتا ہوں کہ مجھے بھی (ہجرت کی) اجازت دی جائے گی۔ تب حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! کیا آپؐ بھی (ہجرت کی) اُمید رکھتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ تب حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر رُک گئے کہ آپؐ کے ساتھ ہی جائیں گے اور حضرت ابوبکرؓ نے دو اونٹنیوں کو جو اُن کے پاس تھیں، چار مہینے تک ببول کے پتے کھلائے (تاکہ وہ ہجرت کے سفر کے لئے تیار ہوجائیں۔)
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ آتا جس پر قرضہ ہوتا، آپؐ پوچھتے: آیا اس نے اپنا قرضہ چکانے کے لئے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے: ہاں تو آپؐ اس پر نمازِ جنازہ پڑھتے، ورنہ مسلمانوں سے کہتے: تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔ جب اللہ نے آپؐ کو فتوحات دیں تو آپؐ نے فرمایا: میں مسلمانوں کا اُن (کے رشتہ داروں) سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔ اس لئے مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرضہ چھوڑ جائے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔
(تشریح)