بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 21 hadith
قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں ان قربانی کے اونٹوں کی جھولیں اور ان کی کھالیں صدقے میں دے دوں جو ذبح کئے گئے تھے۔
عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید (بن ابی حبیب) سے، یزید نے ابوالخیر سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چند بکریاں دیں کہ انہیں آپؐ کے صحابہ میں بانٹ دیں تو ایک سال کا بکری کا بچہ بچ رہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تم خود اس کی قربانی دے دو۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یوسف بن ماجشون نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے امیہ بن خلف کو خط لکھا کہ وہ مکہ میں (جواُس وقت دارالحرب تھا) میرے مال اور بال بچوں کی حفاظت کرے اور میں اس کے مال و اسباب کی مدینہ میں حفاظت کروں گا۔ جب میں نے اپنا نام عبدالرحمن لکھا تو (امیہ نے) کہا: میں عبدالرحمن کو نہیں جانتا۔ تم مجھے اپنا وہ نام لکھو جو جاہلیت میں تھا۔ اس پر میں نے اپنا نام عبدعمرو لکھا۔ جب وہ بدر کی جنگ میں تھا تو میں ایک پہاڑ کی طرف جب لوگ سو چکے تھے نکل گیا؛ تا میں اس کی حفاظت کروں تو بلالؓ نے اسے کہیں دیکھ لیا۔ چنانچہ وہ گئے اور اَنصار کی ایک مجلس میں کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ اُمیہ بن خلف ہے۔ اگر بچ نکلا تو میری خیر نہیں۔ اس پر بلالؓ کے ساتھ کچھ لوگ ہمارے تعاقب میں نکلے۔ میں ڈرا کہ وہ ہمیں پالیں گے۔ اس لئے میں نے اس کے بیٹے کو اس کی خاطر پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑائی میں مشغول ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کو مار ڈالا۔ انہوں نے میرا دائو کارگر نہ ہونے دیا اور ہمارا پیچھا کیا۔ اُمیہ چونکہ بھاری بھرکم آدمی تھا (اس لئے جلدی اِدھر اُدھر نہ ہوسکا۔) آخر جب انہوں نے ہمیںپا لیا؛ میں نے اسے کہا: بیٹھ جائوتو وہ بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے آپ کو اُس پر ڈال دیا کہ اسے بچائوں تو انہوں نے میرے نیچے سے اس کے بدن میں تلواریں گھونپیں٭؛ یہاں تک کہ اسے مارڈالا۔ ان میں سے ایک نے اپنی تلوار سے میرے پائوں پر بھی زخم کردیا۔ (ابراہیم نے کہا:) حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف ہمیں اپنے پائوں کی پشت پر وہ نشان دکھایا کرتے تھے۔ }ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔۱؎{ طرفہُ: ۳۹۷۱۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا عامل مقرر کیا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیدہ کھجوریں لے آیا تو آپؐ نے پوچھا: کیا خیبرکی ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: ہم }اس کا٭{ ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع اور اس کے دو صاع دوسری کھجور کے تین صاع دے کر خریدتے ہیں تو آپؐ نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ پہلے ملی جلی کھجوروں کو نقد روپیہ پر بیچو۔ پھر اس رقم سے عمدہ کھجور خریدلو۔ اور تولنے کی چیزوں میں بھی یہی حکم فرمایا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا عامل مقرر کیا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیدہ کھجوریں لے آیا تو آپؐ نے پوچھا: کیا خیبرکی ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: ہم }اس کا٭{ ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع اور اس کے دو صاع دوسری کھجور کے تین صاع دے کر خریدتے ہیں تو آپؐ نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ پہلے ملی جلی کھجوروں کو نقد روپیہ پر بیچو۔ پھر اس رقم سے عمدہ کھجور خریدلو۔ اور تولنے کی چیزوں میں بھی یہی حکم فرمایا۔
(تشریح)اسحق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے معتمر سے سنا۔ (کہتے تھے:) عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت کعب بن مالکؓ کے بیٹے سے سنا۔ وہ اپنے باپ کی نسبت بیان کرتے تھے کہ ان کی بکریاں تھیں جو سلع پہاڑ پر چَرا کرتی تھیں۔ ہماری ایک لونڈی نے ہماری بکریوں میں سے ایک بکری کو دیکھا کہ وہ مر رہی ہے۔ اس نے ایک پتھر توڑا اور اُس سے اُس کو ذبح کیا۔ حضرت کعبؓ نے گھر والوں سے کہا: جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مَیں پوچھ نہ لوں اسے نہ کھانا۔ یا (کہا:) جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی کو بھیج کر میں آپؐ سے پچھوا نہ لوں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت پوچھا۔یا کسی کو بھیج کر پچھوایا۔ آپؐ نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔ عبیداللہ کہتے تھے: مجھے یہ بات بہت پسند آئی کہ اس نے لونڈی ہوکر (بکری کو) ذبح کردیا۔ (معتمر کی طرح) عبدۃ(بن سلیمان) نے بھی عبیداللہ ( بن عمرالعمری) سے یہ روایت بیان کی۔
(تشریح)ابونعیم(فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلمہ بن کُہَیل سے، سلمہ نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص کا یک سالہ اونٹ کا بچہ نبی ا کے ذمہ قرض تھا۔ وہ آپؐ کے پاس آپؐ سے تقاضا کرنے آیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے دے دو۔ انہوں نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا۔ یک سالہ تو نہ ملا، اس سے بڑی عمر کا ملا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے (بڑی عمر ہی کا) دے دو۔ اس شخص نے کہا: آپؐ نے (میرے حق سے) بڑھ کر ادا کیا ہے۔ اللہ آپؐ کو بھی بڑھ کر دے۔ نبی ا نے فرمایا: تم میں اچھے وہی لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی عمدگی سے کرتے ہیں۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیںبتایا کہ سلمہ بن کُہَیل سے مروی ہے (وہ کہتے تھے:) میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے سنا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے قرض کا تقاضا کرنے لگا۔ لب و لہجہ سخت تھا۔ آپؐ کے صحابہ اُسے مارنے کے لئے لپکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو؛ کیونکہ حق والا ایسی باتیں کہتا ہی ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اس کو ویسی عمر کا اونٹ دے دو جیسا کہ اس کا تھا۔ صحابہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اس سے بہتر ہی ملتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: وہی دے دو۔ کیونکہ تم میں عمدگی سے قرض ادا کرنے والے ہی بہترین لوگ ہیں۔
(تشریح)سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیث نے مجھ سے بیان کیا۔ (لیث نے) کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اورعروہ کا خیال تھا کہ مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہؓ دونوں نے انہیں بتایا کہ جب ہوازن کے نمائندے مسلمان ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپؐ اُٹھے۔ انہوں نے آپؐ سے درخواست کی تھی کہ ان کے مال اور ان کے قیدی ان کو واپس کردئیے جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: سچی بات مجھے بہت ہی پسندیدہ ہے۔ دو باتوں میں سے تم ایک بات اختیار کرلو۔ قیدی (واپس لو) یا مال اور میں نے تو (جعرّانہ میں) ان کا انتظار کیا تھا اور فی الواقعہ رسول اللہﷺ جب طائف سے لوٹے تو دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار کرتے رہے۔ جب انہیں اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں واپس دینے کے نہیں مگر دو میں سے ایک ہی شئے۔ انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے قیدی لیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف کی جو اس کے شایان ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ پس جو شخص تم میں سے خوشی سے واپس کرنا چاہے تو وہ واپس کردے اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم رہے تو وہ بھی واپس کردے۔ ہم اس کو اس کا حصہ غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا، دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہم نے اپنی خوشی سے یہ (قیدی) یونہی دے دئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں کہ تم میں سے کس نے اس کی اجازت دی اور کس نے نہیں دی۔ تم لوٹ جائو اور تمہارے سربراہ تمہارا فیصلہ ہمارے سامنے پیش کریں۔ اس پر لوگ چلے گئے اور ان کے سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ سب لوگوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے (کہ قیدی واپس کردئیے جائیں۔)
(تشریح)سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیث نے مجھ سے بیان کیا۔ (لیث نے) کہا: عقیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اورعروہ کا خیال تھا کہ مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہؓ دونوں نے انہیں بتایا کہ جب ہوازن کے نمائندے مسلمان ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپؐ اُٹھے۔ انہوں نے آپؐ سے درخواست کی تھی کہ ان کے مال اور ان کے قیدی ان کو واپس کردئیے جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: سچی بات مجھے بہت ہی پسندیدہ ہے۔ دو باتوں میں سے تم ایک بات اختیار کرلو۔ قیدی (واپس لو) یا مال اور میں نے تو (جعرّانہ میں) ان کا انتظار کیا تھا اور فی الواقعہ رسول اللہﷺ جب طائف سے لوٹے تو دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار کرتے رہے۔ جب انہیں اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں واپس دینے کے نہیں مگر دو میں سے ایک ہی شئے۔ انہوں نے کہا: پھر ہم اپنے قیدی لیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف کی جو اس کے شایان ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس توبہ کرکے آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ پس جو شخص تم میں سے خوشی سے واپس کرنا چاہے تو وہ واپس کردے اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم رہے تو وہ بھی واپس کردے۔ ہم اس کو اس کا حصہ غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا، دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہم نے اپنی خوشی سے یہ (قیدی) یونہی دے دئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں کہ تم میں سے کس نے اس کی اجازت دی اور کس نے نہیں دی۔ تم لوٹ جائو اور تمہارے سربراہ تمہارا فیصلہ ہمارے سامنے پیش کریں۔ اس پر لوگ چلے گئے اور ان کے سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ سب لوگوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے (کہ قیدی واپس کردئیے جائیں۔)
(تشریح)