بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 4 of 14 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے، ربیعہ نے منبعث کے غلام یزید سے، یزید نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے ایک سال تک شناخت کراتے رہو۔ پھر اس کے بعد اس کا بندھن اور اس کا تھیلہ پہچان رکھو اور اسے اپنے مصرف میں لے آئو ۔ اگر اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اس کے حوالے کردو۔ اس نے کہا: یارسول اللہ! اور جو بھولی بھٹکی بکری ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اسے لے لے کیونکہ وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی۔ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اور بھولا بھٹکا اُونٹ ہو؟ (حضرت زیدؓ) کہتے تھے: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا یہاں تک کہ آپؐ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے یا (کہا:) آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا۔ اس کے ساتھ اس کے پائوں ہیں اور اس کی مشک ہے۔ یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو آملتا ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے سُوَید بن غفلہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں سلمان بن ربیعہؓ اور زید بن صوحانؓ کے ساتھ تھا۔ میں نے ایک کوڑا پایا۔ (اس کو اُٹھا لیا) اُن دونوں نے مجھے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ اگر میں نے اس کا مالک پا لیا تو اس کو دے دوں گا۔ ورنہ میں اس سے فائدہ اُٹھائوں گا۔ جب ہم لوٹے تو ہم حج کو گئے پھر میں مدینہ سے گذرا اور میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کے زمانے میں ایک تھیلی پائی تھی جس میں ایک سو اَشرفیاں تھیں۔ میں وہ نبی ﷺ کے پاس لایا۔ آپؐ نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ سو میں ایک سال تک اس کی شناخت کراتا رہا۔ پھر آیا تو آپؐ نے فرمایا: ایک اور سال اس کا اعلان کرو اور میں اس کا ایک اور سال اعلان کرتا رہا۔ پھر آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ نے فرمایا: ایک اور سال اس کا اعلان کرو۔ چنانچہ میں نے ایک اور سال اس کا اعلان کیا۔ پھر چوتھی دفعہ آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ نے فرمایا: اشرفیوں کی تعداد یاد رکھو اور تھیلی کا بندھن اور اُس کا ظرف پہچان رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر، ورنہ اشرفیوں سے فائدہ اُٹھائو۔ عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلمہ سے روایت کی اور یہی حدیث بتائی۔ (شعبہ نے) کہا: پھر اس کے بعد میں مکہ میں اُن سے ملا تو (سلمہ نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ (سُوَید نے) تین سال بتائے یا ایک سال۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہمیں بتایا۔ سفیان(ثوری) نے ربیعہ سے، ربیعہ نے منبعث کے غلام یزید سے، یزید نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ایک بدوی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کا ایک سال اعلان کرتے رہو۔ اگر کوئی ایسا آجائے جو تمہیں اس کے تھیلے اور اُس کے بندھن کا پتہ دے تو اسے دے دو۔ ورنہ اسے اپنے مصرف میں لے آئو۔ اور اس نے آپؐ سے بھولے بھٹکے اُونٹ کی نسبت پوچھا۔ اس پر آپؐ کا چہرہ (غصہ سے) سرخ ہوگیا اورآپؐ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا؟ اس کے ساتھ اس کی مشک ہے اوراس کے پائوں۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے۔ اسے رہنے دو کہ اس کا مالک اسے تلاش کرلے۔ اور اس نے آپؐ سے بھولی بھٹکی بکری کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی۔
اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر نے ہمیں خبردی۔ اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت براء (بن عازبؓ) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ عبداللہ بن رجاء نے بھی ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت برائؓ سے، حضرت برائؓ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں چل پڑا۔ کیا دیکھتا ہوںکہ بکریوں کا ایک چرواہا ہے جو اپنی بکریوں کو ہانک رہا ہے۔ میں نے کہا: تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے کہا: قریش کے ایک شخص کا۔ اس نے اس کا نام لیا۔ میں نے اس کو پہچان لیا۔ میں نے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں کا کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا تو میرے لئے دودھ دوہے گا؟ اُس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ میں نے اس سے فرمائش کی۔ اس پر اس نے اپنے ریوڑ سے ایک بکری پکڑی۔ میں نے کہا: اس کے تھن کو غبار سے جھاڑ کر صاف کرلے۔ پھر میں نے کہا: اپنے دونوں ہاتھوں کو بھی جھاڑ لے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا۔ پھر ایک پیالہ بھر دودھ دوہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی کی ایک چھاگل رکھ لی تھی۔ اس کے منہ پر کپڑا تھا۔ میں نے دودھ پر پانی ڈالا۔ یہاں تک کہ اس کے نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے کہا: یارسول اللہ! پیجئے۔ آپؐ نے پیا اور میں خوش ہوگیا۔