بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ معاذ بن ہشام نے ہمیں خبردی ( انہوں نے کہا:) میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالمتوکل ناجی سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جب مومن دوزخ سے نجات پائیں گے وہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دئیے جائیں گے۔ پھر وہ ایک دوسرے سے ان ظلموں کا بدلہ لیں گے جو دنیا میں ان کے درمیان ہوئے۔ یہاں تک کہ جب وہ ہر نقص سے پاک و صاف کر دئیے جائیں گے تو ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اُسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے؛ اُن میں سے ہر شخص جنت میں اپنے اپنے ٹھکانے سے متعلق زیادہ علم رکھنے والا ہوگا،بہ نسبت اس علم کے جو وہ اپنے دنیاوی مکان کا رکھتا تھا۔ اور یونس بن محمد نے بھی کہا کہ شیبان نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے روایت ہے کہ ابوالمتوکل نے ہمیں یہی بتایا۔ طرفہُ: ۶۵۳۵۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں بتایا۔ ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن ابی بکر بن انس اور حمید طویل نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کر،خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔ (صحابہؓ نے) کہا: یا رسول اللہ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں گے کیونکہ وہ مظلوم ہے، لیکن ظالم ہو تو اُس کی کیسے مدد کریں؟ آپؐ نے فرمایا: اُس کے ہاتھوں کو پکڑ لو۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایسی عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے اور (یہ کہہ کر وضاحت کے لئے) آپؐ نے ایک ہاتھ کی اُنگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں میں ڈالا۔
ا حمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز ماجشون نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے بیان کیاکہ انہوں نے کہا: قتادہ نے صفوان بن محرز مازنی سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: ایک بارمیں حضرت(عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چلا جا رہا تھا اور ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا کہ ایک شخص سامنے سے آیا اور اس نے کہا: آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نَجْوَی (سرگوشی) کی نسبت کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ مومن کو اتنا قریب کرلے گا کہ اس پر وہ اپنا سایۂ رحمت ڈالے گا اور اس کی پردہ پوشی کرے گا اور پوچھے گا: کیا تجھے فلاں گناہ معلوم ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ معلوم ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! ہاں۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے سارے گناہوں کا اقرار کرالے گا اور وہ مومن اپنے دل میں سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی تھی اور میں آج بھی تیری پردہ پوشی کرتا ہوں۔ پھر اس کی نیکیوں کی کتاب اس کو دی جائے گی اور جو کافر٭و منافق ہوں گے تو سب گواہ کہیں گے:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ باندھا ۔ ہوشیار رہو، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو گی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم نے انہیں خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ خود اُس پر ظلم کرے اور نہ اسے (ظالم کے) سپرد کرے۔ اورجو شخص اپنے بھائی کے کام میں مشغول ہوگا، اللہ بھی اس کے کام میں مشغول رہے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی تکلیف دور کی اللہ یومِ قیامت کی تکالیف میں سے ایک تکلیف اُس سے دور کرے گا۔ اور جس نے ایک مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ بھی قیامت کے روز اُس کی پردہ پوشی کرے گا۔ طرفہُ: ۶۹۵۱۔
سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اشعث بن سُلیم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے معاویہ بن سُوَید سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہماسے سنا۔ انہوں نے کہا:نبی ﷺ نے سات باتیں کرنے کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا۔ پھر انہوں نے (اُن باتوں کا) ذکر کیا (جن کے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یعنی) بیمارکی عیادت اور جنازوں کے ساتھ جانا اور چھینک مارنے والے کا جواب دینا اور سلام کا جواب دینا اور مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنا اور قسم دینے والے٭ کی قسم پورا کرنا۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ وکیع نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا بن اسحاق مکی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، یحيٰ نے حضرت ابن عباسؓ کے غلام ابومعبد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور آپؐ نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اُس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں۔
آدم بن ابی ایاس نے ہمیں بتایا۔ ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ سعید مقبری نے ہمیں بتایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دوسرے٭ کی بے عزتی کی ہو یا کوئی اور ظلم کیا ہو تو چاہیے کہ ظلم کرنے والا اُس سے آج دنیا میں معاف کرالے، پیشتر اس کے کہ جب نہ دینار ہو گا نہ درہم ۔ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو جس قدر مظلوم پر ظلم ہوگا، اس کے مطابق اس کے نیک اعمال سے لے لیا جائے گا اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ)نے کہا:اسماعیل بن ابی اُوَیس کہتے تھے: (سعید کا) نام مقبری اس لئے ہوا کہ انہوں نے مقبرہ کے پاس ڈیرہ لگا لیا تھا۔ ابوعبداللہ نے کہا: اور سعید مقبری بنی لیث کے آزاد کردہ غلام تھے اور وہ وہی سعید ہیں جو ابوسعید کے بیٹے تھے اور ابوسعید کا نام کیسان ہے۔