بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 6 hadith
اور لیث نے کہا کہ یونس نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: بریرہؓ اُن کے پاس آئیں اور اپنی مکاتبت کے بارے میں مددچاہتی تھیں اور انہیں پانچ اوقیہ چاندی ادا کرنا تھا، جو پانچ سال میں قسط وار دینا تھی اور حضرت عائشہؓ چاہتی تھیں کہ آزاد کرائیں۔ انہوں نے (بریرہؓ سے)کہا: اگر میں ان کو ایک ہی دفعہ گن کردے دوں، تو کیا تمہارے مالک میرے ہاتھ فروخت کردیں گے کہ میں تمہیں خرید کر آزاد کروں گی اورتمہارے ترکہ کا حق مجھے ہو گا۔ تو بریرہؓ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی۔ تو انہوں نے کہا: ہرگزنہیں، بلکہ یہ حق وراثت ہمار اہوگا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپؐ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اسے خرید لواور اسے آزاد کردو، کیونکہ حق وراثت تو اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ اِس کے بعد رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: ان لوگوں کی کیسی حالت ہے جو ایسی شرطیں کرتے ہیں، جو کتاب اللہ میں نہیں۔ جس نے کوئی ایسی شرط کی جو کتاب اللہ میں نہیں تو وہ شرط باطل ہو گئی۔ اللہ کی شرط ہی عمل کرنے کے زیادہ لائق ہے اور زیادہ پائدار ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ ایک لونڈی کو( اس غرض سے) خریدیں کہ وہ اسے آزاد کریں؛ تو اس لونڈی کے مالکوں نے کہا: اس کا حق وراثت ہمارا ہی رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت عائشہؓ سے) فرمایا: (ان کی) یہ بات تمہیں نہ روکے۔ کیونکہ حق وراثت تو اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو بتایا کہ بریرہؓ آئیں اور ان سے اپنی مکاتبت کے لئے مدد مانگی اور انہوں نے ابھی تک اپنی مکاتبت سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا کہ اپنے مالکوں کے پاس لوٹ جائو، اگر وہ پسند کریں تو مَیں تمہاری طرف سے مکاتبت ادا کر دوں اور تمہاری وراثت کا حق میرا ہوگا، تو میں ادا کئے دیتی ہوں۔ بریرہؓ نے اپنے مالکوں سے اس کا ذکر کیا تو وہ نہ مانے اور کہنے لگے کہ اگر حضرت عائشہؓ چاہیں کہ اللہ کی رضامندی کے لئے تم پر احسان کریں تو وہ کریں اور تمہارا حق وراثت ہمارا ہوگا۔ حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم بریرہؓ کو خرید لو اور آزاد کردو، کیونکہ حق وراثت تو اس کاہوتا ہے جس نے آزاد کیا ہو۔ انہوں نے کہا: اس کے بعد رسول اللہ ﷺ (خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: لوگوں کی کیا حالت ہے کہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ جس نے کوئی ایسی شرط کی جو کتاب اللہ میں نہیں تو وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اگرچہ وہ سوبار بھی شرط کرے۔ اللہ کی شرط ہی زیادہ لائق ہے (کہ اس پر عمل کیا جائے) اور وہ زیادہ مضبوط ہے۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ بریرہؓ آئی اور اس نے کہا: میں نے اپنے مالکوں سے نو(۹) اَوقیے چاندی پر مکاتبت کی ہے۔ ہر سال ایک اوقیہ مجھے ادا کرنا ہے۔ اس لئے آپؓ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں ان کو ایک ہی دفعہ گن کر دے دوں اور تمہیں آزاد کردوں تو میں ادا کئے دیتی ہوں اور تمہارا حق وراثت میرا ہوگا۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی تو انہوں نے اس کی یہ بات نہ مانی۔ اس نے (حضرت عائشہؓ سے) کہا کہ میں نے تو یہ بات ان کے سامنے پیش کی تھی مگر انہوں نے انکار کردیا ہے، سوائے اس کے کہ حق وراثت انہی کا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا اور مجھ سے دریافت فرمایا، تو میں نے آپؐ سے (سارا واقعہ) بیان کردیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے خرید لو اور آزاد کردو اور حق وراثت کی شرط ان سے ٹھہرا لو۔ حق وراثت تو اسی کا ہوگا جس نے آزاد کیا ہو۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں میں(خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے اور آپؐ نے اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: اما بعد، تم میں سے بعض مردوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں۔ جو شرط بھی کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، اگر چہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا حکم ہی زیادہ لائق ہے (کہ اس پر عمل کیا جائے) اور اللہ کی شرط ہی زیادہ مضبوط ہے۔ تم میں سے بعض لوگوں کی کیسی حالت ہے کہ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ فلاں کو آزاد کردو اور حق وراثت میرا ہوگا۔ حق وراثت تو اس کا ہوگا جو آزاد کرے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری)سے، یحيٰنے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ بریرہؓ آئی۔ حضرت عائشہ امّ المؤمنین رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کرنے لگی تو حضرت عائشہؓ نے اس سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں ان کے سامنے تمہاری قیمت ایک ہی دفعہ ڈال دوں اور تمہیں آزاد کر دوں تو یہ کئے دیتی ہوں۔ بریرہؓ نے اپنے مالکوں سے اس کا ذکرکیا تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر اس شرط پر کہ (تمہارا) حق وراثت ہمارا ہوگا۔ مالک کہتے تھے کہ یحيٰنے کہا: عمرہ کہتی تھیں کہ حضرت عائشہؓ نے رسول اللہﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: تم اسے خرید لو اور اس کو آزاد کردو۔ حق وراثت تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔
(تشریح)ابونعیم نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد بن اَیمن نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ اَیمن نے مجھ سے بیان کیا، کہتے تھے: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے کہا: میں ابولہب کے بیٹے عتبہ کا غلام تھا اور وہ مرگیا۔ اس کے بیٹے میرے وارث ہوئے اور انہوں نے مجھے (عبداللہ) بن ابی عمرو کے پاس فروخت کردیا۔ }پھر ابن ابی عمرو نے مجھے آزاد کرد٭یا {اورعتبہ کے بیٹوں نے حق وراثت کی شرط کرلی تھی۔ (حضرت عائشہؓ نے) کہا: بریرہؓ میرے پاس آئی اور وہ مکاتب تھی اور اس نے کہا: آپؐ مجھے خرید لیں اور مجھ کو آزاد کردیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: اچھا۔ بریرہؓ بولی: وہ مجھے نہیں بیچتے جب تک میرے حق وراثت کی شرط (اپنے لئے) منظور نہ کروا لیں۔ (حضرت عائشہؓ نے) کہا: مجھے اس شرط پر خریدنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات نبی ﷺ نے سنی یا آپؐ کو پہنچی۔ آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے ذکر کیا، تو حضرت عائشہؓ نے جو کچھ بریرہؓ نے کہا تھا، بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے خریدلو اور اسے آزاد کردو اور جو وہ شرطیں چاہیں لگائیں۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے اسے خرید لیا اور آزاد کردیا اور اس کے مالکوں نے حق وراثت کی شرط کی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق وراثت اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے، اگرچہ مالک سو شرطیں ہی کیوں نہ کریں۔
(تشریح)