بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 43 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم بن محمد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: واقد بن محمد نے مجھے بتایا۔ واقد نے کہا: سعید بن مرجانہ نے جو (امام زین العابدین) حضرت علی بن حسین کے مصاحب تھے، مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے بھی کسی مسلمان شخص کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے بچائے گا۔ سعید بن مرجانہ کہتے تھے: یہ سن کر میں حضرت علی بن حسین کے پاس گیا (اور انہیں یہ حدیث سنائی) تو حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما نے اپنا ایک غلام آزاد کردیا جس کے عبداللہ بن جعفر انہیں دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دیتے تھے۔ طرفہُ: ۶۷۱۵۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر (مقدمی) نے ہمیں بتایا کہ عثام نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے، فاطمہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہماسے یہی روایت کی ۔ کہتی تھیں: سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا ہمیں حکم دیا جاتا تھا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان( بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار)سے، عمرو نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ(حضرت ابن عمر) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے ایسے شخص کو آزاد کیا جو دو شخصوں کا مشترکہ غلام ہو۔ اگر وہ آزاد کرنے والا مالدار ہو تو غلام کی قیمت کا اندازہ کرکے آزاد کرنے والے سے وہ رقم لے کر دوسرے حصہ داروں کو ادا کی جائے پھر وہ غلام آزاد کردیا جائے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا وہ حصہ آزاد کرے جو کسی غلام میں رکھتا ہو اور پھر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ جو اس غلام کی قیمت پوری کرے تو اس غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے اور وہ اپنے شریکوں کو ان کا حصہ دے دے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا ورنہ پھر اس کا جتنا حصہ آزا دہوا، اتنا ہوگیا۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابی مراوح سے، انہوں نے حضرت ابوذر (غفاری) ص سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے پوچھا: کونسا عمل افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میںجہاد کرنا۔ میں نے کہا: گردنوں میں سے کون سی گردن آزاد کرنا بہتر ہے؟ آپؐ نے فرمایا:ـ وہ جو قیمت میں سب سے زیادہ ہو اور جو اپنے مالکوں کو زیادہ پسندیدہ ہو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ نہ کرسکوں؟ تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر کسی بے کار کی مدد کرکے اسے باکار بنائے یا بے ہنر کو جو کما نہ سکے، کما کر مدددے۔ انہوں نے کہا: اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر لوگوں کو شر پہنچانے سے علیحدہ رہ کیونکہ یہ صدقہ ہوگا جو تو اپنے نفس کے لئے کرے گا۔
(تشریح)موسیٰ بن مسعود نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ بن قدامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے فاطمہ بنت منذرسے، فاطمہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ۔ موسیٰ کی طرح علی (بن مدینی) نے ( عبدالعزیز بن محمد) دَرَاوَرْدِی سے، دَرَاوَرْدِی نے ہشام سے یہ حدیث نقل کی۔
عبید بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواُسامہ سے، ابواُسامہ نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا وہ حصہ جو کسی غلام میں ہے آزاد کرے تو اس کے ذمّے ہے کہ وہ اسے سارے کا سارا آزاد کرائے بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کے برابر ہو۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو آزاد کرنے والے پر ہے کہ غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے اور جو اس نے آزاد کیا وہ حصہ اس کا آزاد کردیا جائے۔ مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر نے بھی عبیداللہ سے یہی حدیث نقل کرتے ہوئے ہمیں بتائی۔ انہوں نے اس کو مختصر بیان کیا۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے اپنا حصہ کسی غلام میں آزاد کردیا یا فرمایا اپنی شراکت کسی غلام میں آزاد کردی اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی منصفانہ قیمت کے برابر ہو، (اس سے اتنی رقم لے کرحصہ داروں کو دے دی جائے گی) اور غلام آزاد ہوگا۔ نافع نے کہا: ورنہ پھر جو غلام کا حصہ آزاد ہوچکا وہ تو آزاد ہو ہی چکا۔ ایوب کہتے تھے: میں نہیں جانتا کہ یہ بات نافع نے خود کہی یا اس حدیث میں ہے۔
احمد بن مقدام نے ہمیں بتایا۔ فضیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ وہ اس غلام یا لونڈی سے متعلق جو شریکوں کی مشترکہ ہو اور پھر حصہ داروں میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کردے، یہ فتویٰ دیتے تھے کہ اب ایک حصہ آزاد کرنے والے کے ذمہ ہے کہ اسے سارا آزاد کرادے بشرطیکہ جس نے آزاد کیا ہے اس کے پاس اتنا مال ہوجو اس کی منصفانہ قیمت کے برابر ہو اور اس کے شریکوں کو ان کے حصے ادا کردئیے جائیں اور آزاد کردہ غلام چھوڑ دیا جائے۔ حضرت ابن عمرؓ اس فتوے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔ اور لیث اور ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق اور جویریہ اور یحيٰبن سعید اور اسماعیل بن امیہ نے بھی یہی روایت اختصار سے نقل کی ہے۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماسے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی۔
(تشریح)احمد بن ابی رجاء نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰبن آدم نے ہمیں بتایا۔ جریر بن حازم نے ہم سے بیان کیا، کہتے تھے: میں نے قتادہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نضر بن انس بن مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے غلام کا ایک حصہ آزادکردیا ہو…