بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 71 hadith
عاصم بن علی( ابوالحسین واسطی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سعید )مقبری سے، (سعید) مقبری نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ص سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اے مسلم خواتین ! غور سے سنو۔ کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر نہ سمجھے گو وہ بکری کا کھر ہی (بھیجے۔) طرفہُ: ۶۰۱۷۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ عبدہ (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیاکہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ لوگ حضرت عائشہؓ کی باری میں اپنے ہدیئے بھیجنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ ( عبدالعزیز) بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے یزید بن رومان سے، یزید نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے عروہ سے کہا: میری بہن کے بیٹے ! ہماری کبھی یہ حالت تھی کہ ہم ایک چاند دیکھتے ، پھر دوسرا چاند دیکھتے۔ پھر تیسرا چاند دیکھتے؛ اس طر ح دو مہینے گزر جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر وں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ میں نے کہا: خالہ ! آپؓ کا گزارہ کن چیزوں پر ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: دو سیاہ چیزیں: کھجور اور پانی ، مگر یہ بات تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری ہمسائے تھے۔ ان کی دودھ دینے والی بکریاں تھیںاور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دودھ سے بطور تحفہ بھیجا کرتے تھے اور آپؐ ہم کو بھی پلاتے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے، سلیمان نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ ص سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کی ایک دستی یا پایہ کھانے کی دعوت دی جائے تو میں (اس دعوت کو) ضرورقبول کروں اور اگر بکری کی دستی یا پایہ مجھے بطور ہدیہ بھیجا جائے تو میں اس کو ضرور لے لوں۔ راوی کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لفظ ذِرَاعٌ فرمایا یا کُرَاعٌ۔ طرفہُ: ۵۱۷۸۔
(تشریح)(سعید) بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ہم سے ابوغسان (محمد بن مطرف) نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوحازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین میں سے ایک عورت کو کہلا بھیجا اور اس کاایک غلام تھا جو بڑھئی تھا۔ آپؐ نے اسے کہا: اپنے غلام سے کہو کہ وہ ہمارے لئے لکڑی کا منبر بنادے۔ اس نے اپنے غلام کو حکم دیا۔ وہ گیا اور اس نے جھائو کی لکڑی کاٹی اور آپ کے لیے ایک منبر بنایا۔ جب اس نے وہ مکمل کر لیا تو اس عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجا کہ اس غلام نے کام ختم کرلیا ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: وہ (منبر) میرے پاس بھیج دو اور لوگ اسے لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اُٹھواکر وہاں رکھاجہاں تم (اب) دیکھتے ہو۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا،کہا: محمد بن جعفر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سلمی سے، انہوں نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ پر ایک پڑائو میں بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے ڈیرا لگایا ہوا تھا اور لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر دیکھا اور میں مشغول تھا اور اپنی جوتی گانٹھ رہا تھا ۔ انہوں نے مجھے اس کی خبرنہ دی، مگر وہ دل سے چاہتے تھے کہ کاش میں اسے دیکھ لوں۔ میں جو مڑا تو میں نے اس کو دیکھ لیا۔ میں گھوڑے کی طرف اُٹھ کر گیا اور اس پر زین لگائی اور سوار ہوگیا اور کوڑا اور برچھا لینا بھول گیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے کوڑا اور برچھا پکڑائو، تو کہنے لگے: نہیں ۔ بخدا ! ہم تو تمہیں اس پر حملہ کرنے کے لئے کسی چیز سے مدد نہیں دیں گے۔ مجھے غصہ آیا اورمیں نے خود اُتر کر وہ دونوں چیزیں لے لیں اور پھر سوار ہوگیا اور اس گورخر پر زور سے حملہ کیا اور اسے زخمی کردیا اور اسے لے آیا اور وہ مرچکا تھا۔ پھر میرے ساتھی اس پر آپڑے ، لگے اس کو (پکاکر) کھانے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے احرام کی حالت میں اس کے کھانے کے بارے میں شک کیا ۔ ہم وہاں سے چل پڑے اور میں نے اپنے ساتھ اگلی ران چھپا رکھی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے اور آپؐ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور میں نے وہ اگلی ران آپؐ کو دے دی۔ آپؐ نے اسے کھایا یہاں تک کہ اسے ختم کردیا، حالانکہ آپؐ احرام باندھے ہوئے تھے۔ یہ روایت زید بن اسلم نے مجھ سے بیان کی۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابوقتادہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے اسے نقل کیا۔
(تشریح)مجھ سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، (کہا:) سلیمان بن بلال نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوطوالہ نے مجھے بتایا۔ ان کا نام عبداللہ بن عبدالرحمن ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس ص سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس گھر میں آئے اور آپؐ نے پانی مانگا۔ ہم نے آپؐ کے لئے اپنی ایک بکری دوہی۔ پھر میں نے اس (دودھ) میں اپنے اُس کنوئیں کا پانی ملایا اور آپؐ کو دیا اور حضرت ابوبکرؓ آپؐ کے بائیں طرف تھے اور حضرت عمرؓ آپؐ کے سامنے اور ایک بدوی آپؐ کے داہنی طرف ۔ جب آپؐ پی چکے تو حضرت عمرؓ نے کہا: یہ ابوبکرؓ ہیں۔ آپؐ نے اپنا بچا ہوا اُس بدوی کو دیا اور اس کے بعد فرمایا: جو داہنی طرف ہے وہی مقدم ہوگا۔ تم لوگ داہنی طرف سے ہی شروع کیا کرو۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: آپؐ کی سنت یہی ہے۔ تین بار کہا۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک سے، ہشام نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مَرّ الظہران میں ایک خرگوش کو (جھاڑی سے) نکالا۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور تھک گئے۔ میں نے اس کو جالیا اور اسے لے کر حضرت ابوطلحہؓ کے پاس آگیا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا پٹھہ یا اس کی رانیں بھجوائیں۔ (شعبہ نے) کہا: رانیں ہی بھیجی تھیں۔ اس میں شک نہیں ۔ آپؐ نے اسے قبول کیا۔ (سلیمان کہتے تھے:) میں نے پوچھا اور آپؐ نے اس میں سے کھایا بھی ۔ شعبہ نے کہا اور آپؐ نے اس میں سے کھایا۔ پھر انہوں نے کہا: آپؐ نے اس کو قبول کیا۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے مالک نے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودسے، عبیداللہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے، حضرت عبداللہؓ نے حضرت صعب بن جثامہ ث سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک گورخر بطور تحفہ ہدیہ بھیجا اور آپؐ اُس وقت ابواء یا ودّان مقام میں تھے، آپؐ نے واپس کر دیا مگر جب آپؐ نے ان کے چہرہ پر اثر پایا تو آپؐ نے فرمایا: ہم نے تمہیں صرف اس لئے لَوٹا دیا ہے کہ ہم احرام میں ہیں۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیاکہ جعفر بن ایاس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا:حضرت ابن عباسؓ کی خالہ حضرت امّ حفیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر اور گھی اور گوہ بطور ہدیہ بھیجی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی سے کچھ تناول فرمایا اور گوہ بوجہ کراہت چھوڑ دی۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھائی گئی اور اگر حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھائی جاتی۔