بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 38 hadith
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپؐ کو سخت بخار تھا تو میں نے آپؐ کو اپنے ہاتھ سے چھوا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ کو تو نہایت سخت بخار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مجھے اتنا بخار ہوتا ہے کہ جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: یہ اس لئے کہ آپؐ کو دہرا ثواب ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہو بیماری یا اس کے سوا کوئی اور تو ضرور ہی اللہ اس(کی بہتری) کے لئے اس کے گناہوں کو جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو جھاڑتا ہے۔
(تشریح)عمرو بن عباس نے ہمیں بتایا کہ عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے محمد سے جو منکد ر کے بیٹے ہیں اُنہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میری عیادت کرنے کو آئے آپؐ نہ خچر پر سوار تھے اور نہ گھوڑے پر ۔
(تشریح)قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپؐ کی بیماری میں آیا اور میں نے آپؐ کو چھوا۔ آپؐ کو تیز بخار تھا۔ میں نے کہا: آپؐ کو تو شدید بخار ہے اور یہ اس لئے کہ آپؐ کو دہرا ثواب ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں اور کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہو مگر ضرور ہی اس سے اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
اسحاق (بن شاہین واسطی) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے خالد (حذاء) سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس اس کی عیادت کرنے کو گئے تو آپؐ نے فرمایا: فکر کی بات نہیں انشاء اللہ شفا ہوجائے گی۔ اس نے کہا: ہرگز نہیں بلکہ یہ تپ تو ایک بوڑھے پر ایسا جوش مار رہا ہے کہ اس کو قبریں ہی دکھا کر چھوڑے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر ایسا ہی۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے،ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے ان کو خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھی اور پالان پر فَدک کی ایک چادر ڈالی گئی تھی اور آپؐ نے اُسامہؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کو جارہے تھے۔ یہ بدر کی لڑائی سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپؐ گئے یہاں تک کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے کہ جس میں عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول بھی تھا اور یہ واقعہ عبداللہ (بن اُبَیّ) کے مسلمان ہونے سے پہلے کا ہے اور اس مجلس میں مسلمانوں مشرکوں، بت پرستوں اور یہودیوں میں سے ملے جلے لوگ تھے اور مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب اس مجلس کو سواری کی دھول نے ڈھانپ لیا تو عبداللہ بن اُبَیّ نے اپنی چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی کہنے لگا: تم ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے اور اُتر پڑے اور پھر ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کے سامنے قرآن پڑھا۔ عبداللہ بن اُبَیّ نے یہ سن کر آپؐ سے کہا: بھلے آدمی اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں جو تم کہتے ہو اگر یہ حق ہے تو پھر ہماری مجلس میں آکر ہمیں اس سے تکلیف نہ دیا کرو اور اپنے گھر کو لوٹ جاؤ اورہم میں سے جو تمہارے پاس آئے اس کو یہ کہانی سنایا کرو۔ حضرت ابن رواحہؓ نے کہا:نہیں یا رسول اللہ ! بلکہ آپؐ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں یہ سنایا کریں کیونکہ ہم یہ باتیں پسند کرتے ہیں۔ اس پر مسلمان اور مشرک اور یہودی آپس میں سبّ و شتم کرنے لگے یہاں تک کہ قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جوش کو دباتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانور پر سوار ہوگئے اور حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس پہنچے آپؐ نے فرمایا: سعدؓ کیا تم نے نہیں سنا جو ابوحباب نے کہا؟ آپؐ کی مراد عبداللہ بن اُبَیّ سے تھی۔ حضرت سعدؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ اس کو معاف کریں اور اس سے درگزر کریں اللہ نے آپؐ کو عطا کیا ہے اور کیا خوب عطا کیا ہے۔ اس بستی کے لوگوں نے اتفاق کرلیا تھا کہ اس کو تاج پہنائیں اور اس کی دستاربندی کریں۔ جب اللہ نے اس تجویز کو اس حق کی وجہ سے رد کردیا جو اس نے آپؐ کو دیا تو اس سے (غصے کے مارے) اس کا گلا گھٹ گیا۔ یہ وجہ ہے اس نے جو کیا آپؐ نےجو دیکھا۔
قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ)بن ابی نجیح اور ایوب سے،انہوں نے مجاہد سے ، مجاہد نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں ہانڈی تلے آگ جلا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں تو آپؐ نے حجام کو بلایا اور اس نے ان کا سر مونڈ ڈالا۔ پھر آپؐ نے مجھے فدیہ دینے کا حکم دیا۔
: یحيٰ بن یحيٰ ابوزکریا نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے قاسم بن محمد سے سنا وہ کہتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کہہ رہی تھیں: ہائے مرا سر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسی بات ہو جائے اور میں زندہ ہوں تو میں تمہارے لئے استغفار کروں گا اور تمہارے لئے دعا کروں گا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: ہائے میں گئی،اللہ کی قسم میں یہ گمان کرتی ہوں کہ آپؓ یہ چاہتے ہیں کہ میں مر جاؤں اگر یہ بات ہو گئی تو اسی شام آپؐ اپنی کسی بیوی کے ساتھ شادی منائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: نہیں بلکہ ہائے میر ا سر ۔ مجھے تو یہی فکر تھی یا فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ ابوبکرؓ اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور وصیت کردوں کہ کہیں کہنے والے نہ کہیں یا آرزو کرنے والے آرزو نہ کریں پھر میں نے سوچا۔ اللہ اس بات سے انکار کرے گا اور مؤمن نہیں مانیں گے یا (فرمایا:) اللہ نہیں مانے گا اور مؤمن اس سے انکار کریں گے۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان (اعمش) نے ہم سے بیان کیا۔ سلیمان نے ابراہیم (بن یزید) تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت (عبداللہ) بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپؐ کو بخار تھا۔ میں نے آپؐ کو ہاتھ لگایا اور کہا: آپؐ کو سخت بخار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں اتنا جتنا کہ تم میں سے دو آدمیوں کو بخار ہوتا ہے۔ میں نے کہا: آپؐ کو دو ثواب ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا۔ ہاں کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں کہ جسے کوئی تکلیف پہنچتی ہو بیماری یا اس کے سوا کوئی اور تو ضرور ہی اللہ اس کے گناہوں کو جھاڑ دے گا جیسے درخت اپنے پتوں کو جھاڑدیتا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے عامر بن سعد (بن ابی وقاص) سے، عامر نے اپنے باپ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس میری اس بیماری میں عیادت کرنے کے لئے آئے کہ جس نے حجۃ الوداع کے زمانے میں مجھے سخت تکلیف دی تھی۔ میں نے کہا: میری بیماری جس حد تک پہنچ چکی ہے آپؐ دیکھ ہی رہے ہیں اور میں مالدار ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ تو کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا۔ ایک تہائی؟ فرمایا۔ ایک تہائی بھی بہت ہے یہ کہ تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم جو بھی خرچ کرو گے تو ضرور تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام(بن یوسف صنعانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر(بن راشد) سے روایت کی۔ نیز ہمیں عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں خبر دی، معمر نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا اس وقت گھر میں کچھ آدمی تھے، ان میں حضرت عمر بن خطابؓ بھی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو۔ حضرت عمرؓ نے کہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تکلیف نے نڈھال کیا ہوا ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ ہمارے لئے کتاب اللہ ہی کافی ہے۔ تو جو لوگ گھر میں تھے انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے۔ ان میں سے بعض کہتے تھے (قلم دوات کاغذ) قریب کرو تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو اور ان میں سے بعض وہ کہتے تھے جو حضرت عمر ؓنے کہا۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بے مقصد باتیں اور جھگڑا بہت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھو چلے جاؤ ۔ عبید اللہ نے کہا اور حضرت ابن عباسؓ کہاکرتے تھے: بڑی مصیبت ساری مصیبتوں کی مصیبت وہ بات تھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے اس تحریر کے لکھنے سے روک دیا۔
(تشریح)