بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 38 hadith
ابوالیمان حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے تو ضرور ہی اللہ اس کی وجہ سے اس کے گناہ دور کردیتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹے کی وجہ سے بھی جو اسے چبھ جاتا ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ (وضاح یشکری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر ) سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھلاؤ ، بیمار کی عیادت کرو اور گرفتارِ بلا کو چھڑاؤ۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالملک بن عمرو نے ہم سے بیان کیا۔ زُہیر بن محمدنے ہمیں بتایا ۔ زُہیر نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، محمد نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے، ان دونوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: مسلمان کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچتی اور نہ بیماری اور نہ غم اور نہ رنج اور نہ کوئی دکھ اور نہ کوئی ملال یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھ جاتا ہے مگر ضرور ہے کہ اللہ اس کی وجہ سے اس کی غلطیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالملک بن عمرو نے ہم سے بیان کیا۔ زُہیر بن محمدنے ہمیں بتایا ۔ زُہیر نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، محمد نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے، ان دونوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: مسلمان کو کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچتی اور نہ بیماری اور نہ غم اور نہ رنج اور نہ کوئی دکھ اور نہ کوئی ملال یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھ جاتا ہے مگر ضرور ہے کہ اللہ اس کی وجہ سے اس کی غلطیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔
مسدد نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے سعد (بن ابراہیم) سے، سعد نے عبداللہ بن کعب سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مؤمن کی مثال اس نرم و نازک پودے کی طرح ہے کہ جسے ہوا کبھی ادھر جھکاتی ہے اور کبھی ادھر جھکاتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو کبھی جھکتا نہیں یہاں تک کہ پھر ایک ہی دفعہ میں اکھڑ جاتا ہے۔ اور زکریا (بن ابی زائدہ) نے کہا کہ مجھ سے سعد (بن ابراہیم) نے بیان کیا کہ مجھے (عبد اللہ) بن کعب نے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ حضرت کعبؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا محمد بن فلیح نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے جو بنو عامر بن لوئی میں سے تھے۔ ہلال نے عطاء بن یسار سے،عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کی مثال اس ہرے بھرے نرم پودے کی سی ہے کہ جسے جس طرف سے بھی ہوا آئے اس کو جھکا دے اور پھر ویسے کا ویسا سیدھا ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی وہ ابتلا میں جھک جاتا ہے اور فاجر اس شمشاد کی طرح ہے جو سخت سیدھا کھڑا ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے توڑ ڈالتا ہے۔
قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی۔ نیز بشر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ شعبہ نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے،ابووائل نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی آپ بیان کرتی ہیں: میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اسے تکلیف پہنچی ہو۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نبیﷺکے پاس آپؐ کی بیماری میں آیا اور آپؐ کو نہایت سخت بخار چڑھا ہوا تھا اور میں نے کہا:آپؐ کو تو نہایت سخت بخار چڑھا ہوا ہے۔ میں نے کہا:یہ اس لئے ہے کہ آپؐ کو دہرا ثواب ہو۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں کہ جس کو کوئی تکلیف پہنچے مگر ضرور ہی اللہ اس سے اس کے قصوروں کو جھاڑ دے گا جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
(تشریح)عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حمزہ (محمد بن میمون) سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپؐ کو بخار چڑھا ہوا تھا میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ کو تو نہایت سخت بخار چڑھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں مجھے اتنا ہی بخار چڑھتا ہے جتنا کہ تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے۔ میں نے کہا: یہ اس لئے کہ آپؐ کو دہرا ثواب ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں یہ اس طرح ہی ہے کوئی بھی مسلمان نہیں جس کو تکلیف پہنچتی ہو کانٹے کی یا اس سے بھی کم تو اللہ ضرور اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو دور کردیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو جھاڑ دیتا ہے۔
(تشریح)