بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 38 hadith
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم نے جو کہ اسماعیل کے بیٹے تھے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعید سے، جعید نے کہا میں نے حضرت سائب (بن یزیدؓ صحابی)سے سنا وہ کہتے تھے: میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! میرا بھانجا بیمارہے۔ تو آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ۔ پھر آپؐ نے وضو کیا اور میں نے آپؐ کے وضو سے بچا ہوا پانی پیا اور آپؐ کی پیٹھ کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور میں نے آپؐ کے دونوں کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر کو دیکھا جوچکور کے انڈے کی طرح تھی۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ثابت بنانی نے ہمیں بتایا۔ ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے موت کی آرزو نہ کرے اور اگر وہ ایسا کرنے کے لیے لاچار ہے تو یوں دعا کرے: اے اللہ مجھے زندہ رکھیو جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہو اور مجھے وفات دیدے اگر وفات میرے لئے بہتر ہو۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہا ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں: میں نے نبی
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہا شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی۔ (اُنہوں نے کہا:) ہم حضرت خبابؓ (بن ارت صحابی) کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے اورانہوں نے سات داغ لگوائے ہوئے تھے وہ کہنے لگے: ہمارے ساتھی جو پہلے تھے وہ چلے گئے اور اس دنیا نے ان کے ثواب کو کم نہیں کیا اور ہم نے اتنی (دولت) پائی ہے کہ اس کے رکھنے کے لئے مٹی کے سوا اور کوئی جگہ نہیں پاتے اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ پھر ایک اور دفعہ ہم ان کے پاس آئے اور وہ اپنی ایک دیوار بنا رہے تھے تو کہنے لگے: مسلمان جو بھی خرچ کرتا ہے اُس کا اجر ضرور اُس کو دیا جاتا ہے سوائے اس کے جسے وہ اس مٹی میں رکھ دیتا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زُہری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ابوعبید جو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے آزاد کردہ غلام تھے، نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے: کسی کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں مجھے بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت میں ڈھانپ لے۔ اس لئے جو عمل کرو تو نہایت سنوار کر کرو اور(اسے) قربِ الٰہی کیلئے بجا لاؤ اورتم میں سے کوئی موت کی آرزو ہرگزنہ کرے اگر وہ نیک ہوا تو ہوسکتا ہے کہ وہ نیکی میں اور ترقی کرے اور اگر بدہوا تو ہوسکتا ہے کہ وہ توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دور کرے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کسی بیمار کے پاس آتے یا آپؐ کے پاس کوئی بیمار لایا جاتا تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام یہ دعا کرتے: لوگوں کے ربّ! اس تکلیف کو دور کر، شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں۔ ایسی شفا دے کہ جو بیماری کا کچھ (بھی اثر باقی) نہ چھوڑے۔ اور عمر وبن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے، منصور نے ابراہیم(نخعی) اور ابوالضحیٰ سے یوں نقل کیا کہ جب آپؐ کے پاس بیمار لایا جاتا۔ اور جریر نے منصور سے، منصور نے ابوالضحیٰ سے اکیلے یوں نقل کیا اور کہا کہ جب آپؐ کسی بیمار کے پاس آتے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) آئے ، حضرت ابوبکرؓ اور بلالؓ کو بخار ہونے لگا۔ بیان فرماتی ہیں میں ان دونوں کے پاس گئی میں نے کہا: ابا آپ اپنے تئیں کیسے پاتے ہیں؟ اور بلالؓ تم اپنے آپ کو کیسے پاتے ہو؟ بیان فرماتی ہیں جب حضرت ابوبکرؓ کو بخار ہوتا تو یوں پڑھتے: ہر آدمی جو اپنے کنبے میں صبح اٹھتا ہے تو اسے سلامتی کی دعائیں دی جاتی ہیں حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی نزدیک ہوتی ہے ۔اور بلالؓ کی عادت تھی کہ جب ان کا بخار اُترتا تو وہ بڑے جوش سے یہ شعر پڑھتے: اے کاش کہ مجھے پتہ ہو کہ آیا وادی (مکہ) میں رات گزاروں گا جبکہ میرے اردگرد اذخر اور جلیل گھاس ہوں گے اور آیا میں کسی دن مجنہ کے پانی پر بھی پہنچوں گا اور کیا شامہ اور طفیل پہاڑ مجھے کبھی دکھائی دیں گے۔عروہ نے کہا۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی تھیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپؐ سے ان کا حال بیان کیا۔ آپؐ نے یہ دعا کی: اے اللہ ! ہمیں مدینہ بھی ایسا ہی پیارا بنا دے جیسا کہ ہم مکہ سے پیار رکھتے ہیں یا اس سے بھی بڑھ کر اور اسے صحت افزا بنا دے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور اس کے مد میں برکت عطا کر دے اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جاکر جحفہ میں ڈال دو۔
(تشریح)