بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 31 hadith
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ (دوسری سند) اور عبدالرحمن بن مبارک نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس ص سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے اور پھر اُس سے کوئی پرندہ یا انسان یا چوپایہ کھاتا ہے تو یہ (کھیتی اور درخت) اس کے لئے ثواب کا موجب بن جائے گا۔ اور مسلم (بن ابراہیم ازدی) نے ہم سے کہا: ابان (بن یزید عطار) نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ طرفہُ: ۶۰۱۲۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے بنو نضیر کی کھجوریں جلوا دیں اورکٹوا دیں اور اسی باغ کو بُوَیرہ کا باغ کہتے تھے۔ چنانچہ اس کے بارے میں حضرت حسانؓ کا شعر ہے: جو آگ بُوَیرہ باغ میں ہر طرف مشتعل ہوئی وہ بنی لوئی کے سرداروں کے لئے بالکل معمولی سی بات تھی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے روایت کی کہ نافع نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمینوں کی بٹائی نصف پیداوار کی شرط پر کی؛ خواہ میوہ ہو یا اناج۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن سالم حمصی نے ہمیںبتایا کہ محمد بن زیاد الہانی نے ہمیں حضرت ابوامامہ باہلیؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی باڑی کے آلات دیکھ کر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپؐ فرماتے تھے: جس قوم کے گھر میں یہ (سامان) داخل ہوگا، اللہ تعالیٰ اس قوم پر ضرور ذلت لے آئے گا۔ محمد (بن زیاد)نے کہا: حضرت ابوامامہؓ کا نام صدی بن عجلانؓ ہے۔
(تشریح)معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا رکھا تو اس کے اعمال سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا جائے گا، سوائے اس کتے کے جو کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کی غرض سے رکھا جائے۔ ابن سیرین اور ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: اس کتے کے سوا جو بکریوں یا کھیتی کی حفاظت کے لئے یا شکار کے لئے رکھا جائے۔ ابوحازم نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہ کہا: اس کتے کے سوا جو شکار یا جانوروں کی حفاظت کے لئے رکھا ہو۔ طرفہُ: ۳۳۲۴۔
عبدا للہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن خُصَیفہ سے روایت کی کہ سائب بن یزید نے ان سے بیان کیا انہوں نے حضرت سفیان بن ابی زُہَیرؓ سے سنا؛ جو اَزدِشنو ء ۃ قبیلے کے ایک آدمی تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے ایسا کتا رکھا جو نہ اُس کو کھیتی میں فائدہ دیتا ہو اور نہ بکریوں کی حفاظت میں تو ہر روز اس کے ثواب اعمال سے ایک قیراط کم ہوتا جائے گا۔ میں نے (سفیانؓ سے) پوچھا کہ کیا آپؓ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس مسجد کے ربّ کی قسم۔ طرفہُ: ۳۳۲۵۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ (کہا:) ہم سے غندر نے بیان کیا۔ (غندر نے کہا:) ہمیں شعبہ نے بتایا۔ شعبہ نے سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن عوف زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ سے سنا۔ وہ حضرت ابوہریرہ ص سے اور حضرت ابوہریرہؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: ایک بار ایک شخص بیل پر سوار جا رہا تھا۔ اتنے میں بیل نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا اور یوں گویا ہوا کہ میں سواری کیلئے پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ ہل چلانے کیلئے پیدا کیا گیا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے اور ابوبکرؓ اور عمرؓ نے اس کو مانا۔ (اسی طرح فرمایا:) کوئی بھیڑیا؛ بکری لے گیا۔ گڈریے نے اس کا پیچھا کیا تو بھیڑیے نے اس سے کہا: درندوں کے زمانے میں اس کا محافظ کون ہوگا؟ جس وقت میرے سوا اِس کا کوئی رکھوالا نہ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے اور ابوبکرؓ اور عمرؓ نے اس کو مانا۔ ابوسلمہ کہتے تھے۔ حالانکہ وہ دونوں (یعنی حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ) اس دن مجلس میں نہ تھے۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حنظلہ بن قیس انصاری سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیجؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: مدینے والوں میں سب سے زیادہ کھیت ہمارے تھے؛ جو ہم بٹائی پر دیا کرتے۔ اس شرط پر کہ زمین کے ایک معین حصہ کی پیدا وار زمین کے مالک کے لئے ہوگی۔ وہ کہتے تھے کہ کبھی ایسا ہوتا کہ وہ حصہ خراب ہوجاتا اور باقی زمین محفوظ رہتی اور کبھی ایسا ہوتا کہ باقی ساری زمین خراب ہوجاتی اور وہ حصہ محفوظ رہتا۔ اس لئے ہمیں (اس کی) ممانعت کی گئی۔ سونے اور چاندی (کے بدلے ٹھیکہ دینے) کااُن دنوں رواج نہ تھا۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا: نبی ﷺ نے (یہودیوں کو) خیبر کی زمین نصف پیدا وار لینے کی شرط پر دی تھی۔ خواہ پھل ہوں یا اناج۔ پھر آپؐ اپنی ازواج کو سَو وسق دیا کرتے تھے؛ اَسّی وسق کھجور کے اور بیس وسق جَو کے۔ حضرت عمرؓ نے (اپنی خلافت کے زمانہ میں یہودیوں کو نکال کر) خیبر کی زمین تقسیم کردی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو عمرؓ اُن کو زمین اور پانی کا حصہ دے دیں (اور کاشت کا انتظام وہ خود کریں) یا جس طرح پہلے ان کو پیدا وار ملا کرتی تھی، ویسی ملتی رہے۔ ازواج مطہرات میں سے بعض نے زمین پسند کی اور بعض نے وسق اور حضرت عائشہؓ نے زمین لینی پسند کی۔
(تشریح)