بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ )بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے حَکَم (بن عتیبہ) نے بیان کیا۔ حَکَم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) حضرت علیؓ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپؐ سے اس تکلیف کا شکوہ کیا، جو چکّی سے اُن کے ہاتھوں کو ہوتی تھی۔ اور حضرت فاطمہؓ کو یہ خبر پہنچی تھی کہ آپؐ کے پاس لونڈی غلام آئے ہیں تو حضرت فاطمہؓ نے اتفاق سے آپؐ کو نہ پایا اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اس کا ذکر کیا۔ جب آپؐ آئے تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کو بتایا۔ حضرت علیؓ کہتے تھے: اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم اپنے بستروں میں لیٹ گئے تھے۔ ہم کھڑے ہونے لگے: آپؐ نے فرمایا: اپنی جگہ ہی رہو۔ آپؐ آئے اور میرے اور فاطمہؓ کے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے پاؤں کی ٹھنڈک میں نے اپنے پیٹ پر محسوس کی۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی بات نہ بتاؤں جو اس سے بہتر ہے جو تم نے مانگا ہے ۔ جب تم اپنے بستروں میں لیٹنے لگو یا (فرمایا:) جب تم اپنے بچھونے پر آرام کرو تو تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو، یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیاکہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم بن عتیبہ سے، حکم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اَسود بن یزید سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا(: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپؐ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے جب اذان سنتے تو باہر جاتے۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبدالملک بن میسرہ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ریشمی جوڑا لائے ۔ میں نے اس کو پہنا تو میں نے آپؐ کے چہرے میں غصہ دیکھا۔ پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
محمد بن یوسف (فریابی)نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کی۔ ہندؓ نے کہا:یا رسول اللہ! ابوسفیان بہت ہی کنجوس شخص ہے۔ کیا مجھ پر گناہ ہوگا اگر میں اس کے مال سے اتنا لے لوں جو مجھے اور میرے بیٹوں کو کافی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: دستور کے مطابق لے لو۔
(عبداللہ بن زبیر) حُمَیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) عبیداللہ بن ابی یزید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مجاہد سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا۔ وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ سے بیان کرتے تھے کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپؐ سے خادم مانگنے لگیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم سونے لگو تو اس وقت تینتیس بار اللہ کی تسبیح بیان کرو اور تینتیس بار اللہ کی حمد بیان کرو اور چونتیس بار اللہ کی بڑائی بیان کرو۔ پھر اس کے بعد سفیان (بن عیینہ) نے کہا کہ ان تین باتوں میں سے ایک چونتیس بار ہے۔ (اور حضرت علیؓ کہتے تھے کہ) میں نے پھر اس کے بعد ان باتوں کو نہیں چھوڑا۔ ان سے پوچھا گیا: صفین کی رات میں بھی نہیں؟ انہوں نے کہا: صفین کی رات میں بھی نہیں۔
محمد بن مثنیّٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ہند بنت عتبہؓ نے کہا:یا رسول اللہ! ابوسفیانؓ بہت بخیل شخص ہے اور مجھے اتنا نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لئے کافی ہو مگر جو میں اُس کے علم کے بغیر اس سے لے لوں۔ آپؐ نے فرمایا: جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو وہ دستور کے مطابق لے لیا کرو۔
علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ (عبد اللہ) بن طاؤس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے اور ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورتیں جو اونٹ پر سواری کرتی ہیں ان میں سے نہایت اچھی عورتیں قریش کی عورتیں ہیں۔ اور ایک راوی نے یہ کہا: قریش کی صالح عورتیں ہیں جو بچوں پر جب چھوٹے ہوں بہت مہربان ہوتی ہیں اور خاوند کا جو مال ہے اس کی نہایت خوبی سے نگرانی رکھتی ہیں۔ اور حضرت معاویہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے بھی یہی ذکر کیا جاتا ہے، ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ روایت کی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ فوت ہو گئے اور وہ سات بیٹیاں یا کہا: نو بیٹیاں چھوڑ گئے۔ میں نے ایک ثیبہ(بیوہ) عورت سے نکاح کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابرؓ!نکاح کرلیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: باکرہ سے یا ثیبہ سے؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ ثیبہ سے۔ آپؐ نے فرمایا: لڑکی سے کیوں نہ کیا؟ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے ہنستے اوروہ تم سے ہنستی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: میں نے آپؐ سے کہا: حضرت عبداللہؓ وفات پا گئے اور کچھ بیٹیاں چھوڑ گئے او ر میں نے ناپسند کیا کہ میں اُن کے پاس اُن جیسی لے آؤں۔ اس لئے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو اُن کی پرورش کرے اور اُن کی اصلاح کرے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ برکت دے یا (فرمایا:) اللہ تجھے بھلائی عطا فرمائے۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید بن عبدالرحمٰن سے، حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: رمضان میں بیوی سے مباشرت کربیٹھا ۔ آپؐ نے فرمایا: پھر ایک گردن آزاد کر دو۔ اُس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: لگاتار دومہینے کے روزے رکھو۔ اُس نے کہا: میں نہیں رکھ سکتا۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اُس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں کچھ کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ وہ کہنے لگا: یہ میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ صدقہ میں دے دو۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اُسے جو ہم سے زیادہ محتاج ہو؟ اس ذات کی قسم، جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے (مدینہ کے) دو پتھریلے میدانوں میں کوئی گھر والے ایسے نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہوں۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت ظاہر ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: تب تو تم ہی زیادہ مستحق ہو۔