بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 22 hadith
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جو ایسی حالت میں فوت ہو جاتا کہ اس کے ذمہ قرض ہوتا تو آپؐ پوچھتے: کیا اس نے اپنے قرض کے ادا کرنے کے لئے کوئی جائیداد چھوڑی ہے؟ اگر آپؐ کوبتایا جاتا کہ اس نے قرض کے ادا کرنے کے لیے جائیداد چھوڑی ہے تو آپؐ اُس کا جنازہ پڑھتے ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: تم اپنے ساتھی پر نمازِ جنازہ پڑھو۔ جب اللہ نے آپؐ کو فتوحات دیں تو آپؐ نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی ذات سے بڑھ کر تعلق رکھتا ہوں۔ سو مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اُس قرض کا ادا کرنا میرے ذمے ہے۔ اور جو جائیداد چھوڑ جائے تو وہ اُس کے وارثوں کی ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) مجھے عروہ (بن زبیر) نے خبر دی کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت امّ حبیبہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ میری بہن ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ میں آپؐ کے لئے اکیلی تو رہنے کی نہیں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ جو بھلائی میں میرا شریک ہو وہ میری بہن ہو۔ آپؐ نے فرمایا: یہ تو میرے لئے جائز نہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم تو آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ آپؐ ابوسلمہؓ کی بیٹی دُرّہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: امّ سلمہؓ کی بیٹی سے ؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ بھی ہوتی تب بھی وہ میرے لئے جائز نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ ثویبہ نے مجھے اور ابوسلمہؓ کو دودھ پلایا تھا ۔ تم اپنی بیٹیاں مجھے پیش نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی بہنیں۔ شعیب نے زُہری سے نقل کیا کہ عروہ نے کہا: ثویبہ کو ابولہب نے آزاد کردیا تھا۔