بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
آدم بن ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن یزید انصاریؓ سے سنا۔ انہوں نے حضرت ابومسعود انصاریؓ سے روایت کی۔ (حضرت عبداللہ بن یزیدؓ کہتے تھے:) میں نے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپؓ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہی، آپؐ نے فرمایا: اگر مسلمان اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے اور اس میں اس کی نیت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہو تو وہ (خرچ) اُس کے لئے صدقہ ہوگا۔
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ (تعالیٰ) فرماتا ہے: ابن آدم خرچ کرو میں تمہیں دئیے جاؤں گا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو بیواؤں اور مسکینوں کے لئے کما رہا ہے (ان کی پرورش کیلئے کو شش کررہا ہے) اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کررہا ہویا وہ اس شخص کی طرح ہے جو رات کو عبادت میں کھڑا ہو، دن کو روزے دار ہو۔
یحيٰ (بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر (بن راشد) سے، معمر نے ہمام (بن منبہ) سےروایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر عورت اپنے خاوند کی کمائی سے بغیر اُس کے حکم کے خرچ کرے تو اس کے خاوند کو بھی اس خرچ کا آدھا ثواب ملے گا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیاکہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے عامر بن سعد سے، عامر نے حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیا کرتے تھے اورمیں مکہ میں بیمار تھا۔ میں نے کہا: میری جائیداد ہے۔ کیا میں اپنی تمام جائیداد کی وصیت کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: پھر آدھی؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تہائی ؟ آپؐ نے فرمایا: تہائی۔ اور تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پسارتے پھریں۔ اور جتنا بھی تم خرچ کرو گے تمہارے لئے صدقہ ہی ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ اور امید ہے کہ اللہ تمہیں (بستر سے) اٹھائے تاکہ کچھ لوگ تمہارے ذریعہ سے نفع حاصل کریں اور کچھ لوگوں کو تمہارے ذریعہ سے نقصان پہنچے۔
(تشریح)عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ ابوصالح (ذکوان) نے ہمیں بتایا، کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر صدقہ وہ ہے جو ضرورت پوری کرنے کے بعد ہو۔ اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہی ہوتا ہے۔ اور پہلے اُن کو دے جن کی تم پرورش کر رہے ہو۔ بیوی کہتی ہے یا تم مجھے کھلاؤ یا مجھے آزاد کردو۔ اور غلام کہتا ہے مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو۔ اور بیٹا کہتا ہے مجھے کھانے کو دو مجھ کو کس پر چھوڑے جارہے ہو؟ لوگوں نے کہا: ابوہریرہؓ! کیا تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ ابوہریرہؓ کی عقل سے ہی ہے۔
محمد بن سلام (بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سفیان) بن عیینہ سے۔ ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے روایت کی۔معمر کہتے ہیں: (سفیان) ثوری نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے ایسے شخص کے متعلق کچھ سنا ہے کہ جو اپنے بیوی بچوں کے لئے ان کے ایک سال کا یا ایک سال سے کم کا خرچ جمع رکھتا ہے؟ معمر نے کہا: مجھے کوئی حدیث یاد نہیں۔ پھر اس کے بعد مجھ کو وہ حدیث یاد آئی جو ابن شہاب زہری نے ہمیں مالک بن اوس سے، مالک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نضیر کے کھجوروں کے باغ بیچا کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کے لئے ان کے ایک سال کا خرچ رکھ لیتے تھے۔
سعید بن عُفَیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ لیث (بن سعد) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عُقَیل نے مجھے بتایا۔ عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: مجھے مالک بن اَوس بن حدثان نے بتایا۔ اور محمد بن جبیر بن مطعم نے بھی مجھ سے مالک کی حدیث کا کچھ ذکر کیا۔ میں سن کر چلا گیا اور مالک بن اوس کے پاس پہنچا اور اُن سے پوچھا۔ مالک نے کہا: میں چلا گیا اور حضرت عمرؓ کے پاس پہنچا۔اتنے میں ان کا دربان یرفا اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا آپ حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰنؓ،حضرت زبیرؓ اور حضرت سعد (بن ا بی وقاصؓ) سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ اندر آنے کی اجازت مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں اور پھر اُس نے اُن کو اند ر آنے کی اجازت دی۔ مالک کہتے تھے کہ وہ اندر آئے اور انہوں نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ اس کے بعد یرفا تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ اُس نے حضرت عمرؓ سے کہا: کیا آپ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے ملنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ اس نے ان کو اندر آنے کی اجازت دی۔ وہ دونوں اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت عباسؓ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کیجئے۔ دوسرے لوگوں نے یعنی حضرت عثمانؓ اور اُن کے ساتھیوں نے بھی کہا: امیر المؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیجئے اور ایک کو دوسرے سے آرام دیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ٹھہرو۔ میں تم کو اسی اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا وارث کوئی نہیں جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی مراد خود اپنے آپ سے ہی تھی۔ اُن لوگوں نے کہا: بے شک آپؐ نے یہ فرمایا۔ اس پر حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اورحضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: میں آپ دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا؟ ان دونوں نے کہا: آپؐ نے یہ فرمایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:پھر میں تم کو اس جائیداد کی حقیقت بتاتا ہوں۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مال سے کچھ ایسے طور سے مخصوص کیا تھا کہ آپؐ کے سوا کسی اور کو یہ حکم نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور جوکچھ اللہ نے اُن (برگشتہ لوگوں) کا مال اپنے رسول کو دیا (تم کو معلوم ہی ہے کہ ) تم نے اپنے گھوڑے اور اُونٹ اس مال کے حصول کے لیے نہیں دوڑائے تھے۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس کا چاہتا ہے مالک بنا دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو یہ جائیدادیں خاص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھیں مگر اللہ کی قسم! آپؐ نے ان کو تم سے سنبھال نہیں رکھا اور نہ ہی ان میں اپنے آپ کو تم پر مقدم کیا۔ تم کو بھی ان سے دیا اور تم میں تقسیم کردیا یہاں تک کہ ان (جائیدادوں) سے یہ مال بچ رہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے اُن کے ایک سال کا خرچ اس مال سے لیا کرتے تھے پھر جو بچ رہتا وہ لیتے اور اس کو وہاں خرچ کرتے جہاں اللہ کا مال خرچ کیا جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنی زندگی میں کاربند رہے۔ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم یہ جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے فرمایا: میں آپ دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا آپ جانتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی اور حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قائم مقام ہوں اور حضرت ابوبکرؓ نے ان جائیدادوں کو اپنے قبضے میں لیا اور ان میں اسی طرح پر تصرف کرتے رہے جیسے رسول اللہﷺ نے تصرف کیا تھا۔ اور حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: آپ دونوں اس وقت خیال کرتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ نے (ان جائیدادوں کے متعلق) ایسا ایسا کیا۔ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ ان (جائیدادوں کے مصرف) میں سچے تھے، نیک تھے، صحیح راستے پر تھے، حق پر چلنے والے تھے۔ پھر اللہ نے حضرت ابوبکرؓ کو وفات دی اور میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلماور حضرت ابوبکرؓ کا جانشین ہوں اور میں نے ان کو اپنے قبضے میں دو سال رکھا۔ میں ان میں وہی تصرف کرتا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ نے کیا۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے اور آپ دونوں کی بات ایک ہی تھی اور آپ کی رائے متفقہ تھی، آپ (عباسؓ) میرے پاس آئے کہ اپنے بھتیجے کی طرف سے اپنا حصہ مجھ سے مانگنے لگے اور یہ(علیؓ) بھی آئے کہ اپنی بیوی کا حصہ جو اِن کے باپ کی طرف سے ہے، مجھ سے مانگنے لگے۔ میں نے کہا: اگر آپ دونوں چاہیں تو میں یہ جائیداد آپ کے حوالے کئے دیتا ہوں اس شرط پر کہ آپ دونوں کو اللہ کا عہد اور اس کا پختہ پیمان دینا ہوگا کہ آپ دونوں کو اس جائیدا د میں وہی تصرف کرنا ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کیا اور جو تصرف اس میں حضرت ابوبکرؓ نے کیا۔ اور جو میں نے کیا جب سے میں اس کا سرپرست ہوا ورنہ آپ دونوں اس جائیداد کے متعلق مجھ سے گفتگو نہ کریں۔ آپ دونوں نے کہا: اس شرط پر یہ جائیداد ہمارے سپرد کردیں اور میں نے آپ دونوں کو اس شرط پر دے دی۔ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا میں نے یہ جائیداد اس شرط پر ان دونوں کے حوالے نہیں کی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ مالک بن اوس کہتے تھے: پھر حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے: میں آپ دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے یہ جائیداد آپ دونوں کے حوالے اس شرط پر کی تھی؟ ان دونوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: کیا پھر آپ دونوں مجھ سے اس کے سوا کچھ اور فیصلہ چاہتے ہو؟ اس ذات کی قسم ہے جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ میں اس (جائیداد) کے متعلق نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ گھڑی بھی برپا ہو جائے پس اگر آپ دونوں اس کے بندوبست سے عاجز آگئے ہیں تو اس کو میرے حوالے کر دیں میں آپ کی بجائے اس کا انتظام کروں گا۔
(تشریح)(محمد) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ یونس (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ہند بنت عتبہ آئیں اور کہنے لگیں:یا رسول اللہ! ابوسفیانؓ ایک بہت ہی بخیل شخص ہے۔ کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا اگر میں اس کے مال میں سے اپنے بال بچوں کو کھلاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں مگر دستور کے موافق ہو۔