بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
اسماعیل بن عبداللہ (اُوَیسی) نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُنہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں طلاق دی اور وہ حائضہ تھی۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے اِس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہو کہ اس کو واپس لائے اور پھر اُس وقت تک اپنے پاس رکھے کہ جب تک وہ پاک نہ ہو جائے اور پھر اس کے بعد حائضہ ہو اور پھر پاک ہو پھر اس کے بعد اگر چاہے تو روکے، چاہے تو طلاق دے دے پیشتر اس کے کہ اس کو چھوئے یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ عورتوں کو اُن کی عدت پر طلاق دی جائے.
(تشریح)ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میرے لئے ایک طلاق شمار کی گئی تھی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے انس بن سیرین سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے سنا،وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی جبکہ وہ حائضہ تھی تو حضرت عمر ؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو واپس کرے۔ (انس بن سیرین کہتے تھے کہ) میں نے کہا: کیا وہ شمار ہو گی؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا :چپ رہو۔ اور قتادہ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے یونس بن جبیر سے، یونس نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اس میں یوں ہے،آپؐ نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ اس کو واپس کرے۔ (یونس بن جبیرکہتے تھے کہ) میں نے کہا: کیا وہ شمار کی جائے گی؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: بھلا بتاؤ کہ تب بھی کہ جب وہ کسی فرض کو ادا نہ کر سکا ہو اور احمق بنا ہو۔
(عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ ولید (بن مسلم) نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے زہری سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کس نے آپؐ سے پناہ مانگی تھی؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ جَون کی بیٹی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رخصت کیا گیا اور آپؐ اس کے قریب گئے وہ کہنے لگی: میں آپؐ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: تم نے بہت ہی بڑے کی پناہ لی ہے۔ جاؤ اپنے رشتہ داروں سے جاملو۔ ابوعبداللہ نے کہا: اس حدیث کو حجاج بن (یوسف بن) ابی منیع نے بھی اپنے دادا (ابومنیع عبیداللہ بن ابی زیاد) سے، اُن کے دادا نے زہری سے روایت کی کہ عروہ نے ان کو بتایا کہ حضرت عائشہؓ نے کہا۔
ابونعیم (فضل بن دکین)نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن غسیل (بن سلیمان بن عبداللہ بن حنظلہ انصاری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمزہ بن ابی اُسید سے، حمزہ نے حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ایک باغ کو چلے گئے جسے شوط کہتے تھے۔ ہم دو باغوں میں پہنچ کر اُن دونوں کے درمیان بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھ جاؤ اور آپؐ باغ میں گئے اور وہاں آپؐ کے پاس جَون قبیلے کی ایک عورت لائی گئی تھی اور اُسے ایک گھر میں جو کھجور کے باغ میں تھا ٹھہرایا گیا تھا یعنی اُمیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے گھر میں، اور اُس عورت کے ساتھ اُس کی دایہ بھی تھی جو اُس کی کھلائی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے پاس گئے آپؐ نے فرمایا: تم اپنے آپ کو مجھے ہبہ کردو۔ وہ بولی: کیا بادشاہ زادی بھی اپنے تئیں بازاریوں کو ہبہ کیا کرتی ہے؟ راوی نے کہا: آپؐ نے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ اس پر اپنا ہاتھ رکھیں تا کہ اس کی گھبراہٹ دور ہو۔ وہ کہنے لگی: تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپؐ نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایک ایسے کی پناہ لی ہے جس کی پناہ لی جاتی ہے اور یہ کہہ کر آپؐ ہمارے پاس باہر آگئے اور فرمایا: ابواُسیدؓ اِس کو ایک رازقی جوڑا پہننے کے لئے دو اور اِس کے گھر والوں کے پاس اِس کو پہنچا دو۔
اور حسین بن ولید نیشا پوری نے کہا: اُنہوں نے عبدالرحمٰن (بن غسیل) سے، عبدالرحمٰن نے عباس بن سہل سے، عباس نے اپنے باپ (حضرت سہل بن سعدؓ) اور حضرت ابواُسیدؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا، اُن دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمیمہ بنت شراحیل سے شادی کی تھی۔ جب اس کو آپؐ کے پاس رخصت کیا گیا، آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے اس نے اس کو ناپسند کیا ہے۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے حضرت ابواُسیدؓ کو حکم دیا کہ اُس کے لئے سامانِ سفر تیار کریں اور ایک سفید کتانی جوڑا پہننے کے لئے بھی دیں۔ عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن ابی الوزیر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن (بن غسیل) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمزہ بن ابی اُسید سے، حمزہ نے اپنے باپ سےروایت کی۔ نیز (عبد الرحمٰن نے) عباس بن سہل بن سعد سے اور اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا
اور حسین بن ولید نیشا پوری نے کہا: اُنہوں نے عبدالرحمٰن (بن غسیل) سے، عبدالرحمٰن نے عباس بن سہل سے، عباس نے اپنے باپ (حضرت سہل بن سعدؓ) اور حضرت ابواُسیدؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا، اُن دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمیمہ بنت شراحیل سے شادی کی تھی۔ جب اس کو آپؐ کے پاس رخصت کیا گیا، آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے اس نے اس کو ناپسند کیا ہے۔ یہ دیکھ کر آپؐ نے حضرت ابواُسیدؓ کو حکم دیا کہ اُس کے لئے سامانِ سفر تیار کریں اور ایک سفید کتانی جوڑا پہننے کے لئے بھی دیں۔ عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن ابی الوزیر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن (بن غسیل) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمزہ بن ابی اُسید سے، حمزہ نے اپنے باپ سےروایت کی۔ نیز (عبد الرحمٰن نے) عباس بن سہل بن سعد سے اور اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے یہی بتایا
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابو غلاب یونس بن جبیر سے روایت کی، وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عمرؓ سے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایسے وقت میں طلاق دے دی ہو جبکہ وہ حائضہ ہے؟ تو اُنہوں نے کہا: کیا تم ابن عمر ؓ کو جانتے ہو؟ ابن عمر ؓ نے بھی اپنی بیوی کو ایسے وقت میں طلاق دے دی تھی جب وہ حائضہ تھی۔ اس پر حضرت عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپؐ سے یہ ذکر کیا تو آپؐ نے اُن کو حکم دیا کہ وہ اُس کو واپس لے لے۔ جب وہ حیض سے پاک ہو اور اُس کو طلاق دینا چاہے تو پھر اُس کو طلاق دے۔ (یونس کہتے تھے:) میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا: کیا آپؐ نے اُس کو طلاق شمار کیا ؟ تو اُنہوں نے کہا: بھلا بتلاؤ تو سہی کہ تب بھی اگر وہ عاجز ہو اور احمق بنے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ نے اُنہیں خبر دی کہ عویمر عجلانیؓ، عاصم بن عدی انصاریؓ کے پاس آئے اور اُن سے کہا: عاصمؓ بتائیں تو سہی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو پایا ہو تو کیا وہ جو اس کو مار ڈالے تم بھی اس کو مارڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصمؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے متعلق مجھے پوچھ دو، چنانچہ عاصمؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے متعلق پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مسائل کو ناپسند کیا اور اِسے معیوب جانا۔ یہاں تک کہ عاصمؓ پر جو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا گراں گزرا۔ جب عاصمؓ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آئے تو عویمرؓ آئے اور کہنے لگے: عاصم ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ عاصمؓ نے کہا: تم نے مجھ سے اچھا نہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس مسئلہ کو برا منایا جس کے متعلق میں نے آپ سے پوچھا۔عویمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں تو رکنے کا نہیں، جب تک کہ آپؐ سے اس کے متعلق پوچھ نہ لوں۔ یہ کہہ کر عویمر ؓ چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپؐ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے آئے اور کہا: یا رسولؐ اللہ !آپؐ ایسے شخص کے متعلق بتلائیں کہ جس نے اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے شخص کو پایا ہو تو کیا وہ جو اسے مار ڈالے؟ پھر آپ (لوگ) اسے بھی مار ڈالیں گے؟ یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق اللہ نے حکم نازل کردیا ہے جاؤ اُس کو لے آؤ۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: پھر اُن دونوں نے ایک دوسرے کو لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س بیٹھا تھا۔ جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو عویمرؓ نے کہا: یا رسولؐ اللہ ! اگر میں نے اس کو گھر میں رکھا تو میں نے اس کے متعلق جھوٹ ہی کہا، اس لئے اس نے اس عورت کو پیشتر اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو حکم دیتے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب نے کہا: پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہوگیا۔
سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے مجھ سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: عقیل نے مجھ سے بیان کیا ۔ عقیل نے ابن شہاب سے، اُنہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہؓ نے اُن کو بتایا: رفاعہ قرظیؓ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ ! رفاعہؓ نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی قطعی دی اور میں نے اس کے بعد عبدالرحمٰنؓ بن زبیر قرظی سے نکاح کیا۔ اس کے پاس تو کپڑے کے پلّو جیسا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم رفاعہؓ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو، کبھی نہیں، جب تک کہ عبدالرحمٰن تمہارا مزہ نہ چکھے اور تم اُس کا مزہ نہ اٹھاؤ۔