بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 9 hadith
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ہشام (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زِرہ جو کے عوض گرو رکھی تھی اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور بودار چربی لے کر گیا اور میں نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس صبح وشام کے لئے سوا ایک صاع( اناج) کے اور کچھ نہیں، بحالیکہ وہ نَو(۹) گھر ہیں (حیرت ہے۔) طرفہُ: ۲۰۶۹۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا ( بن ابی زائدہ) نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے عامر سے، عامر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آنحضرتؐ فرماتے تھے کہ گروی شدہ جانور پر اس وجہ سے کہ اس پر خرچ کیا جاتا ہے سواری کی جائے اور جو دودھ دینے والا جانور ہو اس کا دودھ بھی پیا جائے جبکہ وہ رہن ہو۔ طرفہُ: ۲۵۱۲۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زِرہ رہن رکھی۔
(تشریح)خلّا د بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ کو( دو عورتوں کے مقدمہ میں) لکھا تو انہوں نے مجھے جواباً لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ قسم مدعا علیہ سے لی جائے گی۔
مسدّد نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد ( بن زیاد) نے ہمیں خبردی کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابراہیم (نخعی) کے پاس کوئی چیز ادھار خرید کر کوئی مملوکہ چیز گرو رکھنے اور ضمانت دینے کا ہم نے ذکر کیا تو ابراہیم نے کہا: اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے مقررہ معیاد تک کے لئے ادھار پر کچھ اناج لیا اور آپؐ نے اس کے پاس اپنی زِرہ رہن رکھی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو( بن دینار) نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نسبت سخت گندہ دہنی کی ہے ۔ اس پر محمد بن مسلمہؓ نے کہا: میں ۔ چنانچہ وہ اس کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیں ایک وسق (ایک من) یا دو وسق( دومن) غلّہ اُدھار دے دو۔ اس نے کہا: اپنی عورتیں میرے پاس گرو کردو۔ انہوں نے کہا: ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس کیسے گرو رکھیں جبکہ تم عربوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔ اُس نے کہا: پھر تم اپنے بیٹوں کو ہی میرے پاس گرو کردو۔ انہوں نے کہا: ہم تمہارے پاس اپنے بیٹے کیسے گرور کھیں ان میں سے ایک کو طعنہ ملتا رہے گا۔ لوگ کہیں گے: ایک وسق یا دووسق کے بدلے وہ گروی رکھا گیا تھا۔ یہ تو ہمارے لئے عار ہے۔ البتہ ہم تمہیں زرہ رہن کرتے ہیں۔ سفیان نے کہا: لَاْمَۃٌ سے مراد ہتھیار ہیں۔ اس نے محمد بن مسلمہؓ سے وعدہ کیاکہ وہ پھر اس کے پاس آئے تو انہوں نے اس کو مارڈالا اور اس کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے واقعہ بیان کیا۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جانور پر جو رہن ہو، سواری کی جائے کیونکہ اس کو چارہ دینے پر خرچ کیا جاتا ہے اور اسی طرح دودھ والا جانور بھی جو رہن ہو،دوہاجائے کیونکہ اس کے چارہ پر بھی خرچ کیا جاتا ہے اور جو شخص سواری کرے اور جو جانور کا دودھ پئے، اس کے ذمہ اس کے چارے کا خرچ ہوگا۔ طرفہُ: ۲۵۱۱۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریرنے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا:حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جس شخص نے قسم کھائی کہ کسی مال کو اس قَسم کے ذریعے سے اپنا بنا لے اور وہ اس قَسم میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ نے اس قول کی تصدیق نازل کی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑامول لیتے ہیں … دردناک عذاب ہے۔ (اخیر آیت) تک پڑھی۔ اس کے بعد حضرت اشعث بن قیسؓ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: ابوعبدالرحمن تم سے کیا باتیں کررہے تھے؟ (ابووائل نے) کہا: ہم نے ان سے یہ حدیث بیان کی۔ کہتے تھے:انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن نے سچ کہا ہے۔ یہ آیت بخدا میرے متعلق ہی اتاری گئی۔٭میرے اور کسی شخص کے درمیان ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گواہ لائو یا وہ قسم کھائے۔ میںنے کہا: وہ تو قسم کھالے گا او رپروا نہیں کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ایسی قسم کھائے کہ وہ اس کے ذریعہ کسی مال کو اپنا بنانا چاہتا ہو حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی۔ پھر (حضرت اشعثؓ نے) یہ آیت پڑھی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑامول لیتے ہیں … اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تک۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریرنے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابووائل سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا:حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جس شخص نے قسم کھائی کہ کسی مال کو اس قَسم کے ذریعے سے اپنا بنا لے اور وہ اس قَسم میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ نے اس قول کی تصدیق نازل کی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑامول لیتے ہیں … دردناک عذاب ہے۔ (اخیر آیت) تک پڑھی۔ اس کے بعد حضرت اشعث بن قیسؓ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: ابوعبدالرحمن تم سے کیا باتیں کررہے تھے؟ (ابووائل نے) کہا: ہم نے ان سے یہ حدیث بیان کی۔ کہتے تھے:انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن نے سچ کہا ہے۔ یہ آیت بخدا میرے متعلق ہی اتاری گئی۔٭میرے اور کسی شخص کے درمیان ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گواہ لائو یا وہ قسم کھائے۔ میںنے کہا: وہ تو قسم کھالے گا او رپروا نہیں کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ایسی قسم کھائے کہ وہ اس کے ذریعہ کسی مال کو اپنا بنانا چاہتا ہو حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی۔ پھر (حضرت اشعثؓ نے) یہ آیت پڑھی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑامول لیتے ہیں … اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تک۔
(تشریح)