بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 25 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے وہب بن کیسان سے، وہب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے سمندر کے کنارے کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓکو امیر مقرر کیا اور وہ کل تین سو تھے اور میں بھی ان میں تھا۔ ہم چل پڑے۔ یہاں تک کہ ہم راستے ہی میں تھے کہ زادِراہ ختم ہو گیا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے حکم دیا کہ لشکریوں کے توشے جمع کئے جائیں۔ چنانچہ سب جمع کئے گئے اور وہ دوتھیلے کھجوروں کے ہوئے اور ہمیں ہر روز تھوڑا تھوڑا کھانے کے لئے دیتے۔ حتیٰ کہ وہ بھی ختم ہوگیا۔ تب ہمیں صرف ایک ایک کھجور ہی ملتی رہی۔ (وہب کہتے تھے:) میں نے(حضرت جابرؓ سے) پوچھا: ایک کھجور بھوک کو کیا دُورکرسکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جب وہ بھی نہ رہی تو ہمیں اس کی قدر ہوئی۔ (حضرت جابرؓ)کہتے تھے: اس کے بعد ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پہاڑی کی طرح ایک مچھلی ہے۔ تو لشکر نے اس سے اٹھارہ دن تک کھایا۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا: اس کی پسلیوں میں سے دو پسلیاں کھڑی کی جائیں اور وہ کھڑی کی گئیں۔ پھر فرمایا: ایک اُونٹنی گزاری جائے۔ اس پر کجاوا رکھا گیا اور وہ ان کے نیچے سے آسانی سے گزرگئی۔ اس نے انہیں چھوا تک نہیں۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ ابونجاشی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے اور پھر اُونٹ ذبح کرتے اور وہ دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا اور ہم سورج غروب ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھاتے۔
خلّاد بن یحيٰنے ہمیں بتایا کہ سفیان نے ہم سے بیان کیا کہ جبلہ بن سُحَیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا:میں نے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے جب تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت نہ لے لے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جبلہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم مدینہ میں تھے او ر ہم پر قحط پڑگیا۔ تو حضرت (عبداللہ) بن زبیرؓ ہمیں کھانے کے لئے کھجوریں دیا کرتے تھے اور حضرت (عبداللہ) ابن عمرؓ ہمارے پاس سے گزرے اور کہنے لگے: دو دو کھجوریں ملا کر مت کھائو کیونکہ نبی
بشر بن مرحوم نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، انہوں نے حضرت سلمہ (بن اکوع) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: لوگوں کے توشے (غزوہ ہوازن میں) کم ہوگئے اور ان کے پاس کچھ نہ رہا۔ تب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے کہ اپنے اُونٹ ذبح کرنے کی اجازت لیں۔ آپؐ نے ان کو اجازت دی۔ پھر حضرت عمرؓ ان سے ملے اور ان سے انہوں نے اپناحال بیان کیا۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا: اپنے اُونٹوں کے بعد تم کیسے جیوگے؟ یہ کہہ کر وہ نبی ﷺ کی خدمت میںآئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے اُونٹ کھالینے کے بعد کیسے جئیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں منادی کرو کہ وہ اپنے اپنے بچے ہوئے توشے لے کر آجائیں اور اس کے لئے ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا گیا اور انہوں نے اپنا اپنا توشہ دسترخوان پر رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپؐ نے دعا کی اور اس کے لئے برکت چاہی۔ پھر ان سے کہا کہ اپنے تھیلے لے آئو اور لوگوں نے لپ بھربھر کر توشہ لینا شروع کیا۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنی ضرورت کے موافق لے لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ طرفہُ: ۲۹۸۲۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا،(کہا) کہ حماد بن اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسٰی ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشعری قبیلہ کے لوگ جب لڑائی میں محتاج ہوجاتے یا مدینہ میں اُن کے بال بچوں کی خوراک کم ہوجاتی تو جو کچھ زاد اُن کے پاس ہوتا ایک ہی کپڑے میں اکٹھا کرلیتے۔ پھر وہ آپس میں ایک برتن سے اسے برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں۔ وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔
(تشریح)علی بن حکم انصاری نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن مسروق سے، سعید نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، عبایہ نے اپنے دادا (حضرت رافع ؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں تھے۔ وہاں لوگوں کو بھوک لگی اور انہوں نے (غنیمت میں) کچھ اُونٹ اور بکریاں پائیں۔ کہتے تھے: اس وقت نبی ﷺ اخیر کے لوگوں میں تھے۔ لوگوں نے جلدی میں جانوروں کو ذبح کرلیا اور ہانڈیاں رکھ دیں۔ تو نبی ﷺ نے ہانڈیوں کی نسبت فرمایا تو وہ اُنڈیل دی گئیں۔ پھر آپؐ نے تقسیم کیں اور دس بکریوں کو ایک اُونٹ کے برابر رکھا۔ ان میں سے ایک اُونٹ بھاگ نکلا۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا۔اُس نے اُن کو تھکا دیا اور اس وقت لشکر میں گھوڑے کم تھے۔ اُن میں سے ایک شخص نے آگے بڑھ کر تیر مارا۔ تو اللہ نے اس کو وہیں ٹھہرادیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دیکھو! چوپایوں میں ایسے بھی جانور ہوتے ہیںجو سدھائے نہیں جاسکتے۔ وحشی جانوروں کی طرح ہوتے ہیں۔اس لئے ان میں سے جو تمہیں تکلیف میں ڈال دیں تو تم ان سے اسی طرح برتائو کرو۔ میرے دادا نے عرض کیا۔ ہمیں امید ہے یا (کہا:) اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے مٹھ بھیڑ ہوگی اور چھریاں ہمارے پاس نہیں۔ تو کیا ہم بانس کی کھپاج سے کاٹ ڈالیں؟ آپؐ نے فرمایا: جو چیز خون بہا دے۔ اور جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اُسے کھالو۔ دانت اور ناخن سے ذبح نہ کرنا۔ میں تم سے اس کی وجہ بیان کرتا ہوں۔ دانت جو ہے تو وہ ہڈی ہے اورناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔
(تشریح)عمران بن میسرہ ( ابوالحسن بصری) نے ہمیں بتایا۔ عبدالوارث ( بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں اپنا تھوڑا سا حصہ یا (فرمایا:)اپنی شراکت یا فرمایا: اپنا حصہ (چھوڑ کر اُسے) آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو منصفانہ قیمت کے لحاظ سے اس غلام کی ساری قیمت کے برابر ہوتو وہ پورا آزاد ہوگا۔ اگر اتنا مال نہ ہو تو وہ غلام اس قدر آزاد تو بہر حال ہوچکا جتنا اس نے آز اد کردیا ہے۔ (ایوب نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ حدیث کا یہ فقرہ ’’وہ غلام اس قدر آزاد تو بہر حال ہوچکا جتنا اس نے آز اد کردیا ہے‘‘ نافع کا قول ہے یا نبی ﷺ کی حدیث میں ہی ایسا ہے۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے نضر بن انس سے، نضر نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص اپنے مشترکہ غلام سے اپنا حصہ آزاد کردے تو اُس کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے مال سے اسے پورے طور پر آزاد کرائے۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے۔ پھر اس سے محنت مزدوری کروائی جائے لیکن ایسی نہ ہو جس کا وہ متحمل نہ ہوسکے۔ پھر وہ اس مزدوری سے اپنی باقی قیمت ادا کردے اور آزاد ہوجائے۔
(تشریح)