بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
حامد بن عمر نے بشر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ عاصم نے بیان کیا کہ واقد نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عمر سے یا ابن عمرو سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا۔
اور عاصم بن علی نے کہا: ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی مگر میں نے اسے یاد نہ رکھا تو واقد نے مجھ کو یہ حدیث صحیح صحیح بتائی۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا اور وہ کہتے تھے: حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن عمرو! تیرا کیا حال ہوگا جب تو اس کے ساتھ ناکارہ لوگوں میں رہ جائے گا۔
ہم سے خلاد بن سکی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو بردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے دادا سے، ان کے دادا نے حضرت ابوموسیٰ سے، حضرت ابوموسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ فرماتے تھے: مومن مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کیے رکھتا ہے۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا۔
اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بھی نماز پڑھی، جہاں چھوٹی مسجد ہے۔ وہ جو کہ اس مسجد سے آگے ہے جو شرف الروحاء میں ہے اور حضرت عبد اللہ اس جگہ کا نشان دیتے تھے، جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ کہتے تھے کہ جب تم مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو تو (وہ جگہ) تمہارے دائیں طرف ہوتی ہے اور وہ (چھوٹی) مسجد تمہارے راستہ کے دائیں کنارے پر ہوگی جبکہ تم مکہ کی طرف جا رہے ہو۔ اس کے اور بڑی مسجد کے درمیان ایک پتھر کی مار یا اس کے قریب قریب فاصلہ ہے۔
اور یہ کہ حضرت عبد اللہ نے اُن سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستہ کے دائیں طرف روَیْنَہ کے آگے ایک بڑے درخت کے نیچے نرم ہموار جگہ میں اور راستہ کے عین مقابل پر ڈیرہ لگایا کرتے تھے۔ پھر آپ ٹیلہ سے جو کہ برید الرویثہ سے دو میل اوپر ہے، نکل کر کھلے میدان میں آتے اور اب اس درخت کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور درمیان سے مڑ کر دوہرا ہو گیا ہے اور وہ اپنے تنے پر کھڑا ہے اور اس کے تنے میں بہت سےٹبے ہیں۔
اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے اُن سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹیلے کے کنارے پر بھی نماز پڑھی ہے جو عرج کے پرے آتا ہے جبکہ تم پہاڑی کی طرف جا رہے ہو۔ اس مسجد کے قریب دو یا تین قبریں ہیں۔ ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر ہیں۔ یہ راستہ کے دائیں طرف ہیں۔ راستے کے پتھروں کے پاس نماز پڑھتے۔ ان پتھروں کے درمیان حضرت عبداللہ دوپہر کو سورج ڈھلنے کے بعد عرج سے چلا کرتے اور اس مسجد میں ظہر کی نماز پڑھتے۔
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: ابن شمیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عون نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب وعشاء کی نمازوں میں سے ایک نماز ہمیں پڑھائی۔ ابن سیرین کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ نے اس کا نام لیا تھا لیکن میں بھول گیا۔ کہتے تھے: آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آپ نے سلام پھیرا اور ایک لکڑی کی طرف اٹھ کر گئے جو مسجد میں رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے اس پر ٹیک لگائی۔ (ایسا معلوم ہوتا تھا) جیسے آپ ناراض ہیں اور آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو قینچی کیا اور اپنا دایاں رخسارا اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور کہنے لگے: نماز کم ہوگئی ہے۔ اور لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی تھے۔ مگر دونوں آپ سے بات کرنے میں ڈرے۔ اور لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے۔ اسے ذو الیدین کہا جاتا تھا۔ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ فرمایا: میں بھولا نہیں اور نہ کم کی گئی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا ایسا ہی ہے جیسا ذو الیدین کہتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ آگے بڑھے اور جو رکعت آپ نے چھوڑی تھی اسے پڑھا۔ پھر آپ نے سلام پھیرا اور اللہ اکبر کہا اور جس طرح آپ سجدہ کیا کرتے تھے اسی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا اسی طرح جس طرح آپ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا۔ کئی بار لوگوں نے ابن سیرین سے پوچھا کہ کیا پھر آپ نے سلام پھیرا؟ تو وہ کہتے: مجھے بتایا گیا کہ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ پھر آپ نے سلام پھیرا۔
(تشریح)ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا: فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتلایا۔ کہا: موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: میں نے سالم بن عبد اللہ کو دیکھا کہ وہ راستے میں بعض مناسب جگہیں تلاش کرتے، پھر ان میں نماز پڑھتے اور بیان کرتے تھے کہ ان کے والد ان جگہوں میں نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جگہوں میں نماز پڑھتے دیکھا۔ اور نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ وہ ان جگہوں میں نماز پڑھا کرتے تھے اور میں نے سالم سے پوچھا۔ سو میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے بھی ان تمام جگہوں کے متعلق نافع کے ساتھ ہی اتفاق کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے ایک مسجد کے متعلق اختلاف کیا جو شرف الروحاء میں ہے۔
ہم سے ابراہیم بن منذر (حزامی) نے بیان کیا، کہا: انس بن عیاض نے ہم سے بیان کیا، کہا: موسى بن عقبہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ حضرت عبد اللہ (بن عمر) نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے لیے نکلتے تو ذو الحلیفہ مقام میں ڈیرہ لگاتے اور اپنے حج میں تو ایک بیری کے درخت کے نیچے اترے جو اس جگہ تھا جہاں وہ مسجد ہے جو ذو الحلیفہ میں ہے۔ اور جب کبھی آپ اس غزوہ سے جو اس راستہ میں ہوتا یا حج سے یا عمرہ سے لوٹتے تو وادی کے نشیب میں اترتے اور جب نشیب وادی سے نکلتے تو آپ اس میدان میں اونٹ بٹھاتے جو وادی کے شرقی کنارے پر ہے اور رات کے پچھلے پہر ڈیرہ لگا کر آرام کرتے یہاں تک کہ آپ کو وہیں صبح ہوتی اس مسجد کے پاس نہیں جو کہ پتھروں پر ہے اور نہ اس ٹیلے پر جس پر مسجد ہے۔ وہاں ایک جوہڑ تھا۔ حضرت عبد اللہ اس کے پاس نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کے اندر ریت کے ڈھیر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھا کرتے تھے۔ سیلاب بطحاء سے اس میں مٹی ڈالتا رہا۔ یہاں تک کہ اُس نے اُس جگہ کو دبا دیا جہاں حضرت عبداللہ نماز پڑھا کرتے تھے۔
اور حضرت ابن عمر اس چھوٹی پہاڑی کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے جو روحاء کے موڑ کے پاس ہے اور اس پہاڑی کا سرا راستہ کے کنارہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس مسجد سے ذرا آگے جو اس راستے اور موڑ کے درمیان ہے، جبکہ تم مکہ جارہے ہو اور وہاں ایک مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ اس مسجد میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔ اسے اپنے بائیں طرف اور پس پشت چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس کے آگے اس چھوٹی پہاڑی کے قریب نماز پڑھا کرتے تھے اور حضرت عبداللہ روحاء سے چل پڑتے اور ظہر نہ پڑھتے جب تک اس جگہ نہ پہنچ جاتے۔ وہاں جا کر ظہر پڑھتے اور جب مکہ سے آتے تو اگر صبح سے ایک گھڑی پہلے یا سحری کے آخر میں اس جگہ سے گزرتے تو وہاں اتر کر آرام کرتے۔ یہاں تک کہ وہیں صبح کی نماز پڑھتے۔