بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے بائیں طرف ہرشی سے آگے نالے میں درختوں کے پاس اُترے۔ وہ نالہ ہرشی کے کنارے سے ملا ہوا ہے۔ اس کے اور راستہ کے درمیان قریباً ایک تیر کی مار ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر اس درخت کے قریب نماز پڑھا کرتے تھے جو کہ اُن درختوں میں سے راستے کے قریب ہے اور وہ ان سب سے لمبا ہے۔
اور یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اُن سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اُترا کرتے تھے جو مَر الظہرَان کے قریب مدینہ کی طرف سے آتا ہے جب تم صَفْرَاوَات سے نیچے اُترتے ہو۔ آپ اسی نالے کی وادی میں اُترا کرتے تھے جو راستہ کے بائیں طرف آتا ہے جبکہ تم مکہ جارہے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈیرے اور اس راستہ کے درمیان ایک پتھر کی مار ہے۔
اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کو آتے تو ذی طُویٰ میں اترا کرتے تھے اور (وہیں) رات گزارتے، یہاں تک کہ آپ کو صبح ہو جاتی اور آپ وہیں صبح کی نماز پڑھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نماز گاہ ایک پُرچٹان ٹیلے پر ہے۔ اس مسجد میں نہیں جو کہ وہاں بنائی گئی ہے بلکہ اس مسجد کے نیچے سخت ٹیلے پر۔
اور یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے اُن سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف منہ کرتے ہوئے اس پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کو اپنے سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے درمیان تھی اور اس طرح اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے اس مسجد کے بائیں طرف رکھا جو کہ ٹیلہ کے کنارہ پر ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ اس سے نیچے کالے ٹیلے پر ہے۔ تم دس ہاتھ یا اسی کے قریب اس ٹیلے سے چھوڑ دو پھر تم اس پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کی طرف منہ کرتے ہوئے نماز پڑھو جو کہ تمہارے اور کعبہ کے درمیان ہے۔
(تشریح)ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبید اللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو برچھی گاڑنے کے لیے فرماتے اور وہ آپ کے سامنے گاڑ دی جاتی۔ آپ اس کی طرف منہ کر کے پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے اور سفر میں بھی آپ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ پھر یہیں سے امراء نے یہ سنت اختیار کر لی۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا۔ (کہتے تھے) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں ان کو ظہر کی دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں نماز پڑھائی اور آپ کے آگے برچھی تھی۔ عورت بھی آپ کے سامنے سے گزرتی تھی اور گدھا بھی۔
(تشریح)ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا: عبد العزيز بن ابی حازم نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی۔
ہم سے مکی (بن ابراہیم) نے بیان کیا، کہا: یزید بن ابی عبید نے حضرت سلمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی دیوار منبر کے اتنی قریب تھی کہ ایک بکری وہاں سے نہیں گزر سکتی تھی۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: یحییٰ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برچھی گاڑی جاتی تھی تو آپ اس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے۔
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے، عبید اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک گدھی پر آرہا تھا اور میں اس وقت ابھی بلوغت کو پہنچا ہی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مِنىٰ میں لوگوں کو بغیر کسی دیوار کی طرف منہ کیے نماز پڑھا رہے تھے۔ پس میں صف کے ایک حصہ کے سامنے سے گزرا۔ پھر میں اترا اور میں نے گدھی کو چھوڑ دیا کہ وہ چرے اور میں صف میں شامل ہو گیا۔ کسی نے بھی مجھ سے یہ بات بُری نہ منائی۔