بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے عبد الرحمن اعرج سے، عبدالرحمن نے حضرت ابو ہریرۃ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک ہی کپڑے میں نماز نہ پڑھے درآنحالیکہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا: شیبان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے یحیی بن ابی کثیر سے، بیٹی نے عکرمہ سے روایت کی، کہا کہ میں نے ان سے سنا یا (کہا) میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ جو ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھے تو چاہئے کہ وہ مخالف سمت سے دونوں کناروں کو اُلٹ دے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: بیٹی نے ہمیں بتلایا کہ سفیان سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: ابو حازم نے مجھے بتلایا کہ حضرت سہل سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: کچھ لوگ بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر اپنے نہ بند باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔اور عورتوں سے کہا جاتا تھا کہ اپنے سراُس وقت تک نہ اٹھا ؤ جب تک کہ لوگ سیدھے ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا لیث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) اشتمالِ صمّاء سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ آدمی ایک ہی کپڑا پہنے ہوئے زانو اُٹھا کر اس طرح بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے میں سے کچھ نہ ہو۔
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ابوز ناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے لِمَاس اور نَبَاذ سے۔نیز اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی (نماز میں) کپڑے کو اس طرح پر لیٹے کہ ہاتھ بغیر نِگَا ہونے کے باہر نہ نکال سکے اور اس سے کہ ایک ہی کپڑے میں ہو اور وہ گھٹنے اُٹھا کر بیٹھے۔
ہم سے یحیی بن صالح نے بیان کیا کہا، فلح بن سلیمان نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے سعید بن حارث سے روایت کی۔کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبد الله سے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے سفروں میں سے ایک سفر میں نکلا اور میں رات کو اپنے کسی کام کے لیے آیا تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔اور میرے بدن پر ایک ہی کپڑا تھا تو میں نے اپنے آپ کو اس میں لپیٹ لیا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے جابر ! یہ رات کا آنا کیسے؟ میں نے آپ کو اپنی ضرورت بتلائی۔ جب میں نے بات ختم کی تو آپ نے فرمایا: یہ کپڑا لپیٹنا کیا ہے جو میں نے دیکھا؟ میں نے کہا: ایک ہی کپڑا تھا۔آپ نے فرمایا: اگر فراخ ہو تو اس کو اپنے اردگرد لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس سے تہ بند باندھو۔
ہم سے یحیی نے بیان کیا کہا: ابو معاویہ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔آپ نے فرمایا: مغیرہ! چھا گل لو۔میں نے وہ لے لی اور رسول اللہ لے چل پڑے۔اتنی دور گئے کہ مجھ سے پوشیدہ ہو گئے۔آپ نے قضائے حاجت کی اور آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے لگے تو وہ تنگ تھی اس لئے آپ نے اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے سے نکالا اور میں نے آپ پر پانی ڈالا۔اور آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح کہ نماز کے لیے کیا کرتے اور آپ نے موزوں پر مسح کیا۔پھر آپ نے نماز پڑھی۔
(تشریح)ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا کہا: روح نے ہمیں بتلایا۔کہا: زکریا بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے ہم کو بتلایا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا۔وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ پتھر اٹھا کر کعبہ کے لئے لے جاتے تھے۔اور آپ تہ بند پہنے ہوئے تھے۔اس پر آپ کے چچا حضرت عباس نے کہا: بھتیجے! اگر اپنا تہ بند کھول کر اسے اپنے کندھوں پر پتھروں کے نیچے رکھو (تو تمہیں تکلیف نہ ہو)۔(حضرت جابر) کہتے تھے کہ انہوں نے آپ کا تہ بند کھول کر آپ کے کندھوں پر ڈال دیا۔اور آپ غش کھا کر گر پڑے۔پھر اس کے بعد آپ کو کبھی ننگا نہ دیکھا گیا۔
(تشریح)ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آیا۔اور اُس نے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ سے پوچھا: آپٴ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے مل جاتے ہیں؟ پھر ایک شخص نے حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ کشائش کرے تو تم بھی کشائش سے کام لو۔کوئی آدمی ایک سے زیادہ اکٹھے کپڑے پہن لے۔کوئی آدمی تہ بند اور چادر میں نماز پڑھے۔کوئی نہ بند اور قمیض میں، تہ بند اور چونے میں، پاجامے اور چادر میں، پاجامے اور قمیض میں، پاجامے اور چوغے میں۔جانیے اور چوغے میں۔جانگیے اور قمیض میں۔(حضرت ابو ہریرۃ) کہتے تھے اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانگیے اور چادر میں۔
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا کہا: ابن ابی ذئب نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔کہا: احرام باندھنے والا کیا پہنے؟ آپ نے فرمایا: قمیض نہ پہنے اور نہ پاجامہ اور نہ ہی کنٹوپ اور نہ ہی ایسا کپڑا جسے زعفران یا ورس لگا ہو اور جو شخص جوتا نہ پائے وہ موزے ہی پہن لے اور چاہئے کہ انہیں اتنا کاٹ لے کہ وہ ٹخنوں کے نیچے تک ہوجائیں اور نافع سے بھی اسی طرح مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عمر سے۔حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
(تشریح)