بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ ابوالتیاح (یزید بن حمید) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعثمان (عبدالرحمن نہدی) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے جانی دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی مجھے تاکید فرمائی ہے۔ یعنی ہر مہینے میں تین روزے اور دو رکعت ضحٰی (چاشت) کی، اور یہ کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں۔
(تشریح)ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سے، عبدالحمید نے محمد بن عباد سے روایت کی کہ انہوںنے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دِن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ابوعاصم کے سِوا دوسرے روایوں نے یہ الفاظ مزید کہے کہ وہ صرف جمعہ کا روزہ رکھے۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیاکہ ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ تم میں سے کوئی جمعہ کے روزروزہ نہ رکھے مگر اس صورت میں کہ اُس سے پہلے یا اُس کے بعد بھی ایک دِن روزہ رکھے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہاکہ خالد نے جو حارث کے بیٹے تھے؛ مجھے بتایا (کہا) کہ حمید نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امّ سلیمؓ کے پاس آئے تو وہ آپؐ کے پاس کھجور اور گھی لائیں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنا گھی اُس کی کُپی میں اور اپنی کھجوراُس کے تھیلے میں لَوٹا دو کیونکہ میں روزہ دار ہوں، اور پھر اُٹھ کر گھر کے ایک کونے کی طرف گئے اور نماز پڑھی جو فریضہ نہ تھی اور حضرت امّ سلیمؓ کے لئے اور اُس کے گھر والوں کے لئے دُعا کی۔ حضرت امّ سلیمؓ نے کہا: یارسول اللہ! میری ایک خاص عرض ہے۔ فرمایا: وہ کیا؟ کہنے لگیں: آپؐ کا خادم انسؓ ہے۔( اُس کے لئے دُعا کریں۔) تو آپؐنے کوئی بھلائی آخرت اور دنیا کی ایسی نہ چھوڑی جس کی میرے لئے دُعا نہ کی ہو۔ (فرمایا:) اے اللہ ! اسے مال اور اولاد دے اور اسے برکت دے۔ سو میں (آج) اُن انصاریوں میں سے ہوں جو سب سے زیادہ مالدار ہیں اور میری بیٹی اُمَینہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حجاج بصرہ میں آیاتو اُس وقت میری پشت سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ بچے فوت ہوچکے تھے۔ (سعید) بن ابی مریم نے کہا کہ یحيٰ بن ایوب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے کہا: حمید نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔
(تشریح)صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی (بن میمون) نے غیلان سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ نیز ابونعمان نے بھی ہم سے بیان کیا کہ مہدی بن میمون نے ہمیں بتایا کہ غیلان بن جریر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مطرف (بن عبداللہ) سے اور مطرف نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے، حضرت عمرانؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اُن سے پوچھا یا (یہ کہا) کہ کسی اور شخص سے پوچھا اور عمرانؓ سن رہے تھے اور آپؐ نے فرمایا: فلاں کے باپ! کیا تم نے اس مہینے کے آخری دِنوں میں روزہ نہیں رکھا؟ (ابونعمان نے) کہا: میرا خیال ہے کہ اس مہینے سے آپؐ کی مراد رمضان کا مہینہ تھی۔ اُس شخص نے کہا: نہیں۔ یارسول اللہ! (میں نے روزہ نہیں رکھا۔) آپؐ نے فرمایا: جب تم روزہ چھوڑو تو دو دِن روزہ رکھو۔ صلت نے اپنی روایت میں وَاَظُنُّہٗ یَعْنِی رَمَضَانَ نہیں بیان کیا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: ثابت نے کہا: مطرف سے، مطرف نے حضرت عمرانؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو روایت نقل کی ہے، اُس میں یہ لفظ ہیں: مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ۔ شعبان کے آخری دنوں میں۔ }٭اور ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: شعبان زیادہ درست ہے۔{
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ سے مروی ہے۔ نیز محمد (بن بشار) نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوایوب سے، ابوایوب نے حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دِن اُن کے پاس آئےاور وہ روزہ دار تھیں تو آپؐنے فرمایا: کیا تم نے کل روزہ رکھاتھا؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔آپؐنے فرمایا: کیا تم چاہتی ہو کہ کل روزہ رکھو؟ کہا: نہیں۔فرمایا: تو روزہ افطار کرو۔اور حماد بن جعد نے کہا: انہوں نے قتادہ سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) ابوایوب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جویریہؓ نے انہیں بتایا کہ آپؐنے انہیں (روزہ کھول دینے کا) حکم دیا تو انہوں نے روزہ کھول دیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیاکہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے روایت کی کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دِن (روزہ کے لئے) مخصوص کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ۔ آپؐ کا عمل دوامی صور ت رکھتا تھا اور تم میں سے کون ہے جو ایسی طاقت رکھتا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ مالک سے مروی ہے کہ انہوںنے کہا: سالم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمیر نے جو حضرت امّ فضلؓ کے آزاد کردہ غلام تھے، مجھے بتایا کہ حضرت امّ فضلؓ نے اُن سے بیان کیا۔ نیز عبداللہ بن یوسف نے بھی ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ ابونضر سے جو عمر بن عبیداللہ کے آزادکردہ غلام تھے، مروی ہے۔ انہوںنے عمیر سے جو کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ عمیر نے حضرت امّ فضلؓ بنت حارث سے روایت کی کہ اُن کے پاس عرفہ کے دِن کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے روزے کی نسبت اِختلاف کیا۔ اُن میں سے بعض نے کہا کہ آپؐ روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا: روزہ دار نہیں۔ تو (حضرت٭ امّ فضلؓ) نے آپؐ کے پاس دودھ کا پیالہ بھیجا۔ اُس وقت آپؐ بحالت وقوف عرفہ اپنے اُونٹ پر سوار تھے تو آپؐ نے وہ پی لیا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے مجھے خبر دی۔ یا (کہا) کہ اُن کے سامنے پڑھا گیا۔انہوںنے کہا: عمرو(بن حارث) نے مجھے بکیر سے روایت کرتے ہوئے خبردی کہ کریب سے مروی ہے۔ انہوںنے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ لوگوں نے عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کی نسبت شک کیا توانہوں نے آپؐکے پاس دودھ بھیجا جبکہ آپؐعرفات کے میدان میں وقوف فرما تھے تو آپؐنے اُس سے لے کر پیا اور لوگ آپؐکودیکھ رہے تھے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوعبید سے جو کہ ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں نے عید کی نماز پڑھی تو آپؓ نے کہا: یہ دو دِن ہیں جن میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ ایک تو عید الفطر کا وہ دن جس میں تم اپنے روزوں کی افطاری کرتے ہو اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔