بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ (بن ابی کثیر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ص سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو کوئی لیلۃ القدر میں اِیمان رکھ کر ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو؛ اُس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جو کوئی رمضان کے روزے اِیمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھے گا، اُس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوںنے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں کہ ایسا شخص کھانا اور پینا چھوڑ دے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ افطار نہ کرو جب تک کہ (شوال کا چاند) نہ دیکھ لو۔ اور اگر تم کو اَبر کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو پھر اُس کے لئے دِنوں کا اندازہ کرلو۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دِنوں کا بھی ہوتا ہے۔ روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھو۔ اگر اَبر کی وجہ سے چاند تم کو نظر نہ آئے تو پھر گنتی تیس دِن کی پوری کرلو۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیںبتایا۔ جبلہ بن سُحَیم سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی اُنگلیوں سے اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مہینہ اِتنا ہے اور اِتنا۔ اور تیسری بار انگوٹھے کو دبا لیا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُسے دیکھ کر روزہ رکھو اور اُسے دیکھ کر افطار کرو اور اگر اَبر کی وجہ٭ سے تمہیں نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دِن کی گنتی پوری کرلو۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہمیں خبردی۔ عبیداللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیکی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں بہت ہی سخاوت کرتے تھے۔ جب حضرت جبرائیل ؑ آپؐ سے ملتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپؐ سے ملاقات کرتے تھے، یہاں تک کہ (رمضان) گزرجاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کا دَو ر کرتے۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپؐ سے ملتے تو آپؐ نیکی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبردی کہ ابن جریج سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عطاء نے ابوصالح زیّاتسے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اُس کے لئے ہوتا ہے سوائے روزہ کے۔ کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اُس کا بدلہ ہوتا ہوں اور روزے ایک ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دِن ہوتو وہ کوئی فحش بات نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اور اگر کوئی اُس کو گالی دے یا اُس سے لڑے تو چاہیے کہ وہ یہ کہہ دے: میں روزہ دار شخص ہوں۔ اور اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدؐکی جان ہے! یقینا روزہ دار کے منہ کی بُواللہ تعالیٰ کے نزدیک بوئے مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔پہلی خوشی اُس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب وہ اپنے ربّ سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوحمزہ سے، ابوحمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جبکہ میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپؐ نے فرمایا: جو مردانہ قوت رکھتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ شادی کرے کیونکہ یہ بات نگاہ نیچے رکھنے میں زیادہ ممد ہوگی اور شرمگاہ کو زیادہ محفوظ رکھے گی۔ اور جو شادی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اُسے روزہ رکھنا چاہیے۔ کیونکہ وہ اُس کی شہوت کو کم کردے گا۔ }ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اَلْبَائَ ۃ سے مراد نکاح کرنے کی طاقت ہے۔٭{
(تشریح)ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج سے مروی ہے۔ انہوں نے یحيٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، یحيٰ نے عکرمہ بن عبدالرحمن سے، عکرمہ نے حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے ایک مہینہ کنارہ کشی کی قسم کھائی اور جب اُنتیس دِن گذرے تو صبح کو یا شام کے وقت (اُن کے پاس) گئے تو آپؐ سے کہا گیا کہ آپؐ نے قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر نہ آئیں گے تو آپؐ نے فرمایا: مہینہ اُنتیس دِن کا بھی ہوتا ہے۔