بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا کہ سمی سے مروی ہے جو ابوبکربن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے سنا۔میں اپنے باپ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پا س پہنچا ۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گواہی دیتی ہوں کہ آپؐ جماع سے- بغیر اِحتلام کے- صبح جنبی ہونے کی حالت میں اُٹھتے۔پھر اُس دِن روزہ رکھتے۔
پھر ہم حضرت امّ سلمہؓ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا۔یزید بن زُرَیع نے ہمیں خبردی۔ہشام(بن حسان) نے ہم سے بیان کیا۔ ابن سیرین نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐنے فرمایا: اگر کوئی بھول سے کھائے پئے تو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اللہ نے ہی اُسے کھلایا اور پلایا ہے۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے جبکہ آپؐ بحالت احرام تھے اور آپؐ نے پچھنے لگائے جبکہ آپؐ روزہ دار تھے۔
ابومعمر (عبد اللہ بن عمرو) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا کہ ایوب (سختیانی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے جبکہ آپؐ روزہ دار تھے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا کہ زُہری نے مجھ سے بیان کیا۔ زُہری نے عطاء بن یزید سے، انہوں نے حمران سے روایت کی کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا ۔ انہوں نے وضوکیا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا۔ پھر کلی کی اور ناک صاف کی۔ پھر تین بار اپنا منہ دھویا۔ پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا اور پھر تین بار اپنا بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر تین بار اپنا دایاں پائوں دھویا۔ پھر تین بار بایاں پائوں۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ نے وضو کیا جس طرح میرا یہ وضو ہے اور فرمایا کہ جس نے میرے اِس وضو کی طرح وضو کرکے دو رکعتیں پڑھیں اور اُن کے درمیان اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی تو جو کوتاہیاں اُس سے ہوچکی ہیں، اُن کی ضرور مغفرت کی جائے گی۔
(تشریح)عبداللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا کہ یحيٰ نے جو سعید کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا کہ عبدالرحمن بن قاسم نے انہیں خبردی۔ محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد سے مروی ہے۔ انہوں نے عبادبن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی۔ انہوں نے اُن کو بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ وہ کہتی تھیں: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ وہ جل گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ تو اُس نے کہا کہ رمضان میں مَیں نے (روزہ کی حالت میں) اپنی بیوی سے صحبت کرلی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکری جسے عرق کہتے ہیں؛ لائی گئی تو آپؐ نے فرمایا: یہ جلنے والا کہاں ہے؟ اُس نے کہا: میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ صدقہ د ے دو۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حُمَید بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرتابوہریرہ رضیاللہ عنہنے کہا:ایک بار اِس اثناء میں کہ ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے تھے؛آپؐکے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ یارسول اللہ! میں ہلاک ہوگیا۔ آپؐنے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ کہا: میں نے اپنی بیوی سے مباشرت کی ہے، ایسی حالت میں کہ میں روزہ دار تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں ایک بردہ آزاد کرنے کی طاقت ہے؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐنے فرمایا: کیا تمہیں طاقت ہے کہ تم دو مہینے مسلسل روزے رکھو؟ اُس نے کہا: نہیں۔آپؐنے فرمایا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں۔ (حضرت ابوہریرہؓ نے) کہا: نبی ﷺ ٹھہرے رہے۔اِس اثناء میں کہ ہم آپؐکے پاس ہی تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک عرق لایا گیا جس میںکھجوریںتھیں اور عرق کھجور کی ایک ٹوکری ہوتی ہے۔آپؐنے فرمایا: وہ مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ تو اُس نے کہا: میں ہوں۔آپؐنے فرمایا: اِسے لے لو۔اِس کو صدقہ میں دے دو۔تو اُس شخص نے کہا کہ یارسول اللہ! (کیا) ایسے شخص کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو؟ بخدا(مدینہ کے) دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کوئی گھر والا میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج نہیں۔ (دونوں کناروں سے مراد مدینہ کے دونوں کنکریلے میدا ن ہیں) تونبیﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپؐکے دانت ظاہر ہوئے۔پھر آپؐنے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو ہی کھلائو۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، انہوں نے زہری سے، زہری نے حمید بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک بدبخت نے رمضان میں اپنی بیوی سے مباشرت کرلی ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا: کیا تمہیں اِتنی طاقت ہے کہ ایک بردہ آزاد کرو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا٭ تم طاقت رکھتے ہو کہ لگاتار دو مہینے روزے رکھو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہیں اس کی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ (حضرت ابوہریرہؓ نے) کہا: اِتنے میں نبی ﷺ کے پاس عرق لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں اور (عرق) کھجور کی ٹوکری کو کہتے ہیں۔ آپؐ نے کہا: یہ (کھجوریں) اپنی طرف سے (مسکینوں کو) کھلا دو۔ اُس نے کہا: (کیا) اپنے سے زیادہ محتاج کو؟(مدینہ کے) دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھر والے ہم سے بڑھ کر محتاج نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو اپنے گھر والوں کو کھلادو۔
(تشریح)