بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق شیبانی سے مروی ہے کہ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوںنے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم ایک سفر میں تھے۔ آپؐ نے ایک شخص سے کہا: (اس جگہ) اُترو اور میرے لے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! سورج (ابھی ہے۔) آپؐ نے فرمایا: اُترو اور میرے لیے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: یارسول اللہ! سورج ( ابھی ہے۔) آپؐ نے فرمایا: اُترو اور ستو گھولو۔ چنانچہ وہ اُترا اور آپؐ کے لئے اُس نے ستو گھولے۔ آپؐ نے پئے۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اس (یعنی مغرب کی) طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اس طرف سے آگئی ہے تو پھر روزے دار کی افطاری ہے۔ جریر اور ابوبکر بن عیاش نے بھی (سفیان بن عیینہ کی طرح ابواسحٰق) شیبانی سے روایت بیان کی کہ حضرت ابن ابی اوفیؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے ساتھ مَیں ایک سفر میں تھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے کہا: یارسول اللہ! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوںنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں مکہ کے لئے نکلے تو آپؐ روزہ دار تھے یہاں تک کہ مقامِ کدید میں پہنچے تو روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور کدید عُسفان اور قدید کے درمیان پانی ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے حمید طویل سے، حمید نے حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم سفر کیا کرتے تھے تو روزہ دار بے روزہ دار پر اِعتراض نہ کرتا اور نہ بے روزہ دار روزہ دار پر۔
(تشریح)عیاش نے ہم سے بیان کیاکہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے یہ آیت یوں پڑھی:فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ ۔ انہوں نے کہا: یہ منسوخ ہے۔
(تشریح)(اور) عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا سفر میں مَیں روزہ رکھوں؟ اور وہ روزے بہت رکھا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف(تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن حمزہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمن بن یزید بن جابر سے مروی ہے کہ اسماعیل بن عبیداللہ نے اُن سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت امّ دردائؓ سے، حضرت امّ دردائؓ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: گرمی کے ایک دِن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم آپؐ کے سفروں میں سے ایک سفر میں نکلے۔ حالت یہ تھی کہ سخت گرمی کی وجہ سے آدمی اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتا اور ہم میں کوئی بھی روزہ دار نہ تھا، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابن رواحہؓ کے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ محمد بن عبدالرحمن انصاری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے سنا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو آپؐ نے ایک جمگھٹا دیکھا اور ایک شخص کو جس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: ایک روزہ دار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: سفر میں روزہ کوئی نیکی نہیں۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لئے نکلے تو آپؐ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ جب عسفان پہنچے تو پھر پانی منگوایا اور آپؐ نے اپنے ہاتھوں٭ کو بلند کرکے اُسے اُٹھایا تا کہ لوگ دیکھیں۔ پھر آپؐ نے روزہ کھول دیا اور اُسی حالت افطار میں مکہ پہنچ گئے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔ حضرت ابن عباسؓ کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا ۔ پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
(تشریح)