بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 25 hadith
مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت (عبد اللہ) بن عمررضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے کسی غلام میں اپنے حصہ کو آزاد کردیا تو اس پر واجب ہے کہ اس کو پورے طور پر سارا آزاد کرائے۔ بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اُس کی قیمت کے برابر ہو۔ اور غلام کی منصفانہ طور پرقیمت لگائی جائے اور اس میں جو شریک ہوں انہیں ان کا حصہ دے دیا جائے اور آزاد کردہ غلام کوجانے دیں۔
ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے نضر بن انس سے، نضر نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے حضرت ابوہریرہ ص سے،حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اگر کسی شخص کا کسی غلام میں حصہ ہو اور وہ اپنا حصہ آزاد کردے تو غلام سارے کا سارا آزاد کردیا جائے۔بشرطیکہ آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو (جو باقی حصہ داروں کو ادا کیا جا سکتا ہو) ورنہ غلام سے اتنی محنت کرائی جائے جس کا وہ متحمل ہو سکے (اور اس سے بقیہ قیمت ادا ہو۔)
(تشریح)ابوالنعمان نے ہمیں بتایا کہ حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک بن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابرؓ سے روایت کی۔ نیز طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا: نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہ (مکہ میں) ذوالحج کی چوتھی رات کی صبح کو پہنچے۔ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے اور ابھی عمرہ وغیرہ کی نیت نہیں کی تھی۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو آپؐ نے ہم سے فرمایا: ہم نے حج کو عمرہ کردیا ہے۔ (یعنی تمتع کا ارادہ کرلیا ہے) اور ہم اپنی عورتوں کے پاس جاسکتے ہیں۔ اس کا چرچا ہونے لگا۔ عطاء کہتے تھے کہ حضرت جابرؓ نے کہا: (لوگ کہنے لگے:) کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کو جائے اور حالت یہ ہو کہ اُس کا ذَکَرمنی سے ٹپک رہا ہو۔ حضرت جابرؓ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپؐ کھڑے ہو کر ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں۔ بخدا میں ان سے زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور اگر مجھے اپنی حالت کا پہلے علم ہوتا جو مجھے بعد کو معلوم ہواتو میں قربانی (اپنے ساتھ) نہ لاتا اور اگر یہ نہ ہوتا کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو میں بھی احرام کھول ڈالتا۔ اس پر سراقہ ؓ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! یہ بات ہمارے ہی لئے ہے یا ہمیشہ کیلئے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے۔ (حضرت جابرؓ) کہتے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ بھی (یمن سے) آگئے تو اُن دونوں (عطاء اور طائوس) میں سے ایک تو یہ کہتے تھے کہ (حضرت علیؓ) یوں کہتے ہوئے آئے: جس بات کا رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے اس کا احرام باندھے ہوئے میں بھی حاضر ہوں اور دوسرے نے (یوں) کہا(کہ حضرت علیؓ احرام میں یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے) کہ رسول اللہ ﷺ کے حج کے ساتھ میں بھی حاضر ہوں۔ اس لئے نبی ﷺ نے (ان سے) فرمایا کہ وہ اپنے احرام میں ہی رہیں اور آپؐ نے ان کو قربانی کے جانوروں میں شریک کرلیا۔
(تشریح)ابوالنعمان نے ہمیں بتایا کہ حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالملک بن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابرؓ سے روایت کی۔ نیز طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُن دونوں نے کہا: نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہ (مکہ میں) ذوالحج کی چوتھی رات کی صبح کو پہنچے۔ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے اور ابھی عمرہ وغیرہ کی نیت نہیں کی تھی۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو آپؐ نے ہم سے فرمایا: ہم نے حج کو عمرہ کردیا ہے۔ (یعنی تمتع کا ارادہ کرلیا ہے) اور ہم اپنی عورتوں کے پاس جاسکتے ہیں۔ اس کا چرچا ہونے لگا۔ عطاء کہتے تھے کہ حضرت جابرؓ نے کہا: (لوگ کہنے لگے:) کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کو جائے اور حالت یہ ہو کہ اُس کا ذَکَرمنی سے ٹپک رہا ہو۔ حضرت جابرؓ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپؐ کھڑے ہو کر ہم سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں۔ بخدا میں ان سے زیادہ نیک اور اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور اگر مجھے اپنی حالت کا پہلے علم ہوتا جو مجھے بعد کو معلوم ہواتو میں قربانی (اپنے ساتھ) نہ لاتا اور اگر یہ نہ ہوتا کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو میں بھی احرام کھول ڈالتا۔ اس پر سراقہ ؓ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! یہ بات ہمارے ہی لئے ہے یا ہمیشہ کیلئے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے۔ (حضرت جابرؓ) کہتے تھے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ بھی (یمن سے) آگئے تو اُن دونوں (عطاء اور طائوس) میں سے ایک تو یہ کہتے تھے کہ (حضرت علیؓ) یوں کہتے ہوئے آئے: جس بات کا رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے اس کا احرام باندھے ہوئے میں بھی حاضر ہوں اور دوسرے نے (یوں) کہا(کہ حضرت علیؓ احرام میں یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے) کہ رسول اللہ ﷺ کے حج کے ساتھ میں بھی حاضر ہوں۔ اس لئے نبی ﷺ نے (ان سے) فرمایا کہ وہ اپنے احرام میں ہی رہیں اور آپؐ نے ان کو قربانی کے جانوروں میں شریک کرلیا۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے اپنے باپ سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ سے، عبایہ نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج ص سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم تہامہ کے علاقہ ذوالحلیفہ میںنبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ہم نے کچھ بکریاں اور کچھ اُونٹ (غنیمت میں) پائے۔ لوگوں نے جلدی کی اور انہیں ہانڈیوں میں ڈال کر پکانا شروع کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ آگئے۔ آپؐ نے ہانڈیوں کی نسبت حکم فرمایا تو وہ انڈیل دی گئیں۔ پھر آپؐ نے (تقسیم میں) دس بکریوں کو ایک اُونٹ کے برابر قرار دیا۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک اُونٹ بھاگ نکلا اور لشکر میں گھوڑے تھوڑے ہی تھے تو ایک شخص نے اس کو تیر٭ مار کر وہیں ہلاک کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی ایسے جانور ہوتے ہیں جو سدھائے نہیں جاسکتے جیسے جنگلی جانوروں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے جو اُن میں سے تمہیں مجبور کردے تو اس سے اسی طرح کیا کرو۔ (یعنی تیر سے گرا لو۔ عبایہ) کہتے تھے: میرے دادا نے کہا: یا رسول اللہ! ہم امید کرتے ہیں یا (کہا:)ہمیں اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے ہماری مٹھ بھیڑ ہوگی اور ہمارے پاس چھریاں نہیں (اور اگر تلواروں کو استعمال کیا تو وہ کُند ہوجائیں گی) تو کیا ہم بانس کے سرکنڈے وغیرہ سے جانور ذبح کرلیں؟ آپؐ نے فرمایا: (ذبح) جلدی سے کرو یا (فرمایا:) جو چیز بھی جلدی خون بہادے، اس سے ذبح کرلو اورجس پر اللہ کا نام لے لیا جائے، اسے کھالو۔ دانت اور ناخن سے نہیں اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ دانت جو ہے تو وہ ہڈی ہے اور ناخن جو ہیں وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں۔