بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) سعید بن ابی بردہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا (حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ) سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: ہرمسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لوگوں نے کہا: یانبی اللہ! جو شخص طاقت نہ رکھے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرے۔ خود بھی فائدہ اُٹھائے اور صدقہ بھی دے۔ انہوں نے کہا: اگر یہ بھی نہ ہو سکے؟ آپؐ نے فرمایا: حاجت مند مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ انہوں نے کہا: اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو؟ آپؐ نے فرمایا: چاہیے کہ اچھی بات پر عمل کرے اور بدی سے باز رہے۔ یہی اُس کے لئے صدقہ ہے۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اُنہیں بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو وہ (زکوٰۃ) لکھ کر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کی تھی۔ ( اس میں یہ بھی تھا) اور صدقہ (کی ادائیگی) کے خوف سے جو مال جدا ہو وہ اکٹھا نہ کیا جائے اور جو اکٹھا ہے وہ جدا نہ کیا جائے۔
محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو وہ زکوٰۃ لکھ کر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کی تھی۔ (اس میں یہ ہے:) اور جو زکوٰۃ دو شریکوں کی ہوتو وہ آپس میں برابر کا حساب کرلیں۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوشہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت امّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نُسَیبہ انصاریہ کو ایک بکری بھیجی گئی تو انہوں نے اس میں سے کچھ (گوشت) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس کچھ (کھانے کو) ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا:٭ کچھ نہیں؛ سوائے اس گوشت کے جو نُسَیبہ نے اس بکری میں سے بھیجا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: لائو کیونکہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا کہ عمروبن یحيٰ مازنی سے مروی ہے۔انہوں نے اپنے باپ (یحيٰبن عمارہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ مہار اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہوتی اور پانچ اوقیہ (چاندی) سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم (حاصلاتِ زمین) میں زکوٰۃ نہیں۔ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمرو نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے سنا کہ حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔
(تشریح)محمد بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ( عبداللہ بن مثنیٰ) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے ثمامہ(بن عبداللہ) نے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو وہ (زکوٰۃ) لکھ کر دی جس کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا تھا۔(اس میں یہ بھی تھا) اور جس شخص کی زکوٰۃ ایک برس کی اونٹنی ہو اور وہ اُس کے پاس نہ ہو مگر دو برس کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی لے لی جائے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے۔ اگر اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی جیسی چاہیے نہ ہو اور اس کے پاس نر اونٹ دو برس کا ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا اور اسے کچھ دیا نہیں جائے گا۔
مومل( بن ہشام) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے روایت کی کہ عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے وہ کہتے تھے: حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ نے یقینا خطبہ سے پہلے (عید کی) نماز پڑھی۔ آپؐ نے دیکھا کہ عورتوں کو نہیں سنا سکے۔ اس لئے آپؐ ان کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت بلالؓ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔آپؐ نے عورتوں کو نصیحت کی اور ان سے فرمایا کہ صدقہ دیں تو کوئی عورت یہ پھینکنے لگی (اور کوئی یہ) اور ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا کہ عطاء بن یزید سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کرنے کی بابت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: ارے! وہ تو بہت مشکل کام ہے۔کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں جن کی تم زکوٰۃ دو؟ اُس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: سمندروں کے پار بھی رہ کر اس پر عمل کروگے تو اللہ تعالیٰ ہرگز تمہارے کسی عمل کا ثواب کچھ بھی کم نہ کرے گا۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ (انصاری) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُن کو وہ صدقہ فریضہ لکھ کردیا، جس کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے۔ (اور اس میں یہ بھی تھا:) جس کے پاس اتنے اونٹ ہو جائیں کہ چار برس کی اونٹنی ان کی زکوٰۃ ہو اور اُس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو مگر اُس کے پاس تین برس کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی لے لی جائے اور وہ اُس کے ساتھ دو بکریاں بھی دے، اگر اس کے لئے وہ میسر ہوں یا بیس درہم دے اور جس کے ذمہ زکوٰۃ تین برس کی اونٹنی ہو جائے مگر تین برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے لے لی جائے اور محصل زکوٰۃ اس کو بیس درہم یا دو بکریاں دے اور جس کے ذمہ زکوٰۃ تین برس کی اونٹنی ہوجائے مگر اس کے پاس صرف دو ہی برس کی اونٹنی ہو تو اس سے دو ہی برس کی اونٹنی لے لی جائے اور وہ دو بکریاں یا بیس درہم دے اور جس کی زکوٰۃ دو برس کی اونٹنی ہوجائے اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی ہو توتین ہی برس کی اونٹنی اس سے لے لی جائے اور محصل زکوٰۃ اس کو بیس درہم یا دو بکریاں دے اور جس کی زکوٰۃ دو برس کی اونٹنی ہو جائے اور وہ اس کے پاس نہ ہو اور اُس کے پاس ایک برس کی اونٹنی ہو تو اس سے ایک برس کی اونٹنی لے لی جائے اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ انصاری نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ نے انہیں بتایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ان کو بحرین کی طرف بھیجا تو یہ پروانہ لکھ کر دیا:- اللہ کے نام کے ساتھ جورحمن رحیم ہے یہ وہ فریضہ صدقہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا اور جس کا حکم اللہ نے اپنے رسولؐ کو دیا ہے۔ اس لئے مسلمانوں میں سے جس سے یہ زکوٰۃ نصاب کے مطابق مانگی جائے؛ چاہیے کہ وہ اسے دے اور جس سے نصاب کے علاوہ مانگی جائے تو وہ نہ دے۔ چوبیس اونٹ یا ان سے کم ہوں تو ہر پانچ اونٹوں پر بکریوں میں سے ایک بکری ( زکوٰۃ ہوگی۔) اور جب پچیس سے پینتیس تک اونٹ پہنچ جائیں تو ان میں ایک برس کی اونٹنی اورجب چھتیس سے پینتالیس تک پہنچ جائیں تو ان میں دو برس کی اونٹنی اور جب چھیالیس سے ساٹھ تک پہنچ جائیں تو ان میں تین برس کی اونٹنی جو اونٹ سے قابل جفت ہو اور اگر اکسٹھ سے پچھتر تک پہنچ جائیں تو ان میں چار برس کی اونٹنی۔ جب وہ یعنی چھہتر اونٹ نوے تک پہنچ جائیں تو ان میں دو برس کی دو اونٹنیاں اور جب اکانوے سے ایک سو بیس تک پہنچ جائیں تو ان میں تین برس کی دو اونٹنیاں جو اونٹ سے قابل جفت ہوں اور جب ایک سوبیس سے بڑھ جائیں تو پھر ہر چالیس پر دو برس کی اونٹنی اور ہر پچاس پر تین برس کی اونٹنی (زکوٰۃہوگی۔) اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو ان میں کوئی صدقہ زکوٰۃ نہیں سوائے اس کے کہ ان کا مالک خود چاہے اور جب پانچ اونٹ ہوجائیں تو ان میں ایک بکری (زکوٰۃ ہوگی۔) اور بکریوں کے صدقہ سے متعلق- ان میں سے باہر چرنے والیوں کی بابت (یہ حکم ہے کہ) جب وہ چالیس سے ایک سو بیس تک پہنچ جائیں تو ایک بکری اور اگر ایک سو بیس سے دو سو تک بڑھ جائیں تو دو بکریاںاور اگر دوسو سے تین سو تک بڑھ جائیں تو ان میں تین (بکریاں) اور اگر تین سو سے بڑھ جائیں تو ہر سینکڑے میں ایک بکری (زکوٰۃ ہوگی) اور اگر کسی شخص کا باہر چرنے والا ریوڑ چالیس بکریوں سے ایک بھی کم ہو تو اس میں کوئی صدقہ زکوٰۃ نہیں؛ سوائے اس کے کہ اُن کا مالک خود چاہے اور چاندی میں چالیسواں حصہ (زکوٰۃہوگی۔) اور اگر صرف ایک سو نوے درہم ہی (چاندی) ہو تو اس میں صدقہ زکوٰۃ نہیں؛ سوائے اس کے کہ اس کا مالک خود چاہے۔
(تشریح)