بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ثمامہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت انس ص نے ان کو بتایا۔ حضرت ابوبکر ص نے انہیں وہ (صدقہ زکوٰۃ) لکھ کر دیا جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا (اور اس میں یہ بھی تھا) اس صدقہ میں بوڑھی (اونٹنی یا بکری) زکوٰۃ میں نہ نکالی جائے اور نہ عیب دار اور نہ بکرا؛ سوائے اس کے کہ صدقہ وصول کرنے والا چاہے (تو لے سکتا ہے۔)
(تشریح)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اس لئے تھا کہ میں نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو مقابلے کے لیے کھول دیا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا، (کہا:) ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن یسار سے سنا۔ وہ عراک بن مالک سے، عراک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں کوئی صدقہ نہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔اور لیث (بن سعد) نے بھی کہا: عبدالرحمن بن خالد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھے ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان کے نہ دینے پر ان سے ضرور مقابلہ کروں گا۔
امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) رَوح بن قاسم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے، اسماعیل نے یحيٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، یحيٰ نے ابومعبد (نافذ) سے، ابومعبد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن پر عامل مقرر کرکے بھیجا تو فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کے پاس جا رہے ہو اس لئے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پہلی بات ہو جس کی طرف تم اُن کو بلائو۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کو قبول کرلیں تو پھر اُن کو بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے پانچ نمازیں دن رات میں مقرر کی ہیں۔ جب وہ نمازیں ادا کریں تو پھر انہیں بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے جو اُن کے مالوںسے }لی جائے گی٭{ اور ان کے محتاجوں کو لوٹائی جائے گی۔ جب وہ اُس کو مان لیں تو اُن سے لو اور لوگوں کے عمدہ مالوں سے بچنا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ مازنی سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ وسق سے کم کھجور میں صدقہ زکوٰۃ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ زکوٰۃ نہیں اور پانچ مہار اونٹ سے کم میں صدقہ زکوٰۃ نہیں۔
عمربن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معرور بن سُوَید سے، معرور نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں آپؐ کے (یعنی نبی ﷺ کے) پاس پہنچا ۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے یا فرمایا: اُسی کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں یا ایسی ہی کچھ آپؐ نے قسم کھائی (اور فرمایا:) جس کے پاس اونٹ یا گائے بیل یا بکریاں ہوں؛ وہ اُن کی زکوٰۃ نہ دے تو ضرور قیامت کے دن وہ جانور ایسے ہی موٹے تازے لائے جائیں گے جیسے کہ وہ ہیں۔ اپنے پائوں سے اس کو کچلیں گے اور سینگوں سے اُسے ماریں گے۔ جب (اس کے اوپر سے) آخری جانور گزر جائے گا تو اُن میں سے پہلے کو دوبارہ اُس کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ (ایسا ہی ہوتا رہے گا) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ یہی حدیث بکیر نے (ابن عبداللہ) ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوطلحہؓ مدینہ میں سب انصار سے زیادہ کھجور وں کے باغ رکھتے تھے اور تمام باغوں میں اُن کو بَیْرُحَآء کا باغ بہت پیارا تھا۔ وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جایا کرتے اور وہاں کا صاف ستھرا پانی پیا کرتے تھے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: جب یہ آیت اُتری: تم اس وقت تک نیکی ہرگز حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اُن چیزوں سے خرچ نہ کرو جن سے تم کو محبت ہے۔ تو حضرت ابوطلحہؓ اُٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ مجھے اپنے مالوں میں سے بَیْرُحَآء بہت ہی پیارا ہے اور یہی اللہ کے لئے صدقہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ میرے لئے نیکی اور ذخیرے کا موجب ہوگا۔ اس لئے یا رسول اللہ! جہاں اللہ تعالیٰ آپؐ کو مناسب سمجھائے؛ وہاں خرچ کریں۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بہت اچھا۔ یہ مال تو نفع بخش ہے، یہ مال تو نفع بخش ہے اور میںنے سن لیا ہے جو تم نے کہا اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: یارسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے اسے اپنے قریبیوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ (عبداللہ بن یوسف) کی طرح رَوح نے بھی اسے روایت کیا ہے اور یحيٰ بن یحيٰ اور اسماعیل نے مالک سے رَابِحٌ کی جگہ رَایِحٌ (یعنی زیادہ نکلنے والا) نقل کیا۔
(سعید) بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: زید (بن اسلم) نے مجھے بتایا۔ عیاض بن عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (حضرت ابو سعید خدریؓ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر میں عیدگاہ کو نکلے۔ پھر آپؐ ( نماز پڑھ کر) مُڑے اور لوگوں کو وعظ کیا اور آپؐ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا۔ آپؐ نے فرمایا: اے لوگو! صدقہ دیا کرو۔ پھر آپؐ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! تم بھی صدقہ کیا کرو۔ کیونکہ مجھ کو دکھلایا گیا ہے کہ تم دوزخیوں میں زیادہ تعداد میں تھیں۔ انہوں نے کہا: یہ کس لئے؟ یا رسول اللہ! فرمایا: تم لعنت بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ اے عورتوں کی جماعت! میں نے کم عقل اور ناقص دین اشخاص میں تم سے بڑھ کر ہوشیار مرد کی عقل کو کھونے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ پھرآپؐ لوٹ آئے۔ جب آپؐ اپنے گھر پہنچے تو حضرت (عبداللہ) بن مسعودؓ کی بیوی حضرت زینب آئیں۔ آپؐ سے اندر آنے کی اجازت لی اور کہا گیا: یارسول اللہ! یہ زینب ہے۔ آپؐ نے فرمایا: زینبوں میں سے کون سی زینب؟ آپؐ سے کہا گیا: ابن مسعودؓ کی بیوی۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا اسے اجازت دو۔ چنانچہ اُنہیں اجازت دی گئی۔ حضرت زینبؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپؐ نے آج صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ میرے پاس میرا یہی زیور ہے۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ یہی زیور صدقہ میں دے دوں۔ ابن مسعودؓ نے کہا: وہ اور ان کا بیٹا زیادہ حقدار ہیں اُن لوگوں سے جن کو میں نے صدقہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن مسعودؓ نے درست کہا ہے۔ تیراخاوند اور تیرا بیٹا ان سے زیادہ حق دار ہیں جن کو تو صدقہ دے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا کہ خُثَیم بن عراک بن مالک سے مروی ہے انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے نبی ﷺسے روایت کی۔}اور سلیمان بن حرب نے بھی ہم سے بیان کیا، (کہا:) وہیب بن خالد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) خثیم بن عراک بن مالک نے ہمیں بتایا کہ اُن کے باپ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ٭{ آپؐ نے فرمایا: مسلمان پر اس کے غلام میں صدقہ نہیں اور نہ اس کے گھوڑے میں۔
(تشریح)