بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیاکہ عبدالعزیز بن مختار نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ (بن فیروز) داناج نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: قیامت کے روز سورج اورچاند دونوں لپیٹ دئیے جائیں گے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: شرقی ہوا سے میری مدد کی گئی ہے اور عاد مغربی ہوا سے ہلاک کئے گئے۔
یحيٰبن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا، کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے خبردی۔ عبدالرحمن بن قاسم نے ان کو اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ بتاتے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی کی موت سے گرہن نہیں لگتا اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، بلکہ وہ اللہ کی قدرت کے نمونوں میں سے دو٭ نمونے ہیں۔ اس لئے جب تم ان کا گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔
یحيٰبن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے خبردی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا۔ جس دن سورج گرہن ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے اور آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور ایک لمبی قرأت کی۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا۔ دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپؐ نے اپنا سر اُٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور کھڑے ہوگئے جیسے کے پہلے تھے اور آپؐ نے ایک لمبی قرأت کی اور یہ پہلی قرأت سے کم تھی۔ پھر آپؐ نے لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ اس کے بعد آپؐ نے لمبا سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی آپؐ نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا اور گرہن دورہوکر سورج روشن ہوچکا تھا۔ پھر آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور سورج اور چاند کے گرہن کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی قدرت کے نمونوں میں سے دو نمونے ہیں۔ کسی کی موت سے گرہن نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی کی زندگی کی وجہ سے۔ جب تم ان کا گرہن دیکھو تو ہراساں ترساں نماز کا رُخ کرو۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان میں بادل دیکھتے تو اِدھر اُدھر اندر باہر آتے جاتے اور آپؐ کا چہرہ متغیر ہوجاتا۔ جب بادل برسنا شروع ہوجاتا تو آپؐ سے گھبراہٹ جاتی رہتی۔ تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کو آپؐ کی یہ حالت بتائی (اور اس کا سبب پوچھا) نبی ﷺ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ شاید ویسے بادل نہ ہوں جیسے عاد کی قوم نے کہا تھا جب انہوں نے بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا (یعنی وہ بادل آرہا ہے جو ہم پر برسے گا لیکن وہ ان پر عذاب لے آیا۔)
(تشریح)ہدبہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی۔ اور خلیفہ (بن خیاط) نے مجھ سے کہا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ سعید (بن ابی عروبہ) اور ہشام (دستوائی) دونوں نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک نے حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار بیت اللہ کے پاس میں خواب اور بیداری کی حالت کے درمیان تھا، نہ بالکل سویا ہوا تھا نہ جاگتا۔ آپؐ نے ذکر کیا کہ آپؐ دو آدمیوں کے درمیان تھے کہ اتنے میں میرے پاس سونے کا ایک طشت جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا لایا گیا اور میرا سینہ گلے سے پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا۔ پھر میرا پیٹ زمزم کے پانی سے دھویا گیا۔ اس کے بعد اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا اور میرے سامنے ایک سفید جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ یعنی براق۔ میں جبرائیل کے ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ ہم سب سے نچلے آسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد(ﷺ) پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں۔ آپؐ کا آنا کیا ہی مبارک ہے۔ پھر میں آدمؑ کے پاس آیا اور میں نے انہیں السلام علیکم کہا۔ تو انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں۔ بیٹے بھی ہو نبی بھی۔ ہم دوسرے آسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (ﷺ)۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں۔ آپ کا آنا کیا ہی مبارک ہے۔ پھر میں عیسیٰ اور یحيٰ کے پاس آیا۔ ان دونوں نے کہا: خوشی سے آئیں۔ آپؐ بھائی بھی ہیں اور نبی بھی۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: کون ہے یہ؟ کہا گیا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمدؐ۔ پوچھا گیا: کیاانہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں اور آپؐ کا آنا کتنا ہی بابرکت ہے۔ پھر میں یوسف ؑکے پاس آیا۔ انہیں السلام علیکم کہا۔ انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں۔ بھائی بھی ہیں اور نبی بھی۔ پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: کون ہے؟ کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلابھیجا گیا ہے؟ جواب دیا: ہاں۔ کہا گیا: خوشی سے آئیں اور آپ کا تشریف لانا کتنا ہی اچھا ہے۔ پھر میں ادریس ؑکے پاس آیا اور میں نے انہیں سلام کہا۔ انہوں نے کہا: خوش و خرم آئیں۔ بھائی بھی ہیں اور نبی بھی۔ پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ کہا گیا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا گیا: محمدؐ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلابھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: خوش و خرم آئیں اور آپؐ کا آنا کیا ہی اچھا ہے۔ پھر ہم ہارون کے پاس آئے اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے کہا: آپ خوش و خرم آئیں۔ بھائی بھی ہیں اور نبی بھی۔ پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: کون ہے؟ جواب دیا گیا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا گیا: کیاانہیں بلابھیجا ہے؟ خوش وخرم آئیں۔ اور آپ کا تشریف لانا کیا ہی اچھا اور مبارک ہے۔ پھر میں موسیٰ کے پاس آیا۔ اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے کہا: خوش وخرم آئیں۔ بھائی بھی ہیں اور نبی بھی۔ جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے۔ ان سے پوچھا گیا: آپ کو کس بات نے رُلایا ہے؟ انہوں نے کہا: اے ربّ! یہ نوجوان جو میرے بعد مبعوث کیا گیا ہے، اس کی امت سے بہترین لوگ جنت میں داخل ہوں گے بہ نسبت میری امت کے۔ پھر ہم ساتویںآسمان پر پہنچے۔ پوچھا گیا: کون ہے یہ؟ کہا گیا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا گیا: محمدؐ۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلابھیجا ہے؟ (جواب دیا گیا: ہاں۔ کہا:) خوش و خرم آئیں۔ آپ کی تشریف آوری کتنی ہی مبارک ہے۔ پھر میں ابراہیم ؑکے پاس آیا۔ اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے کہا: خوش و خرم آئیں۔ آپؐ بیٹے بھی ہیں اور نبی بھی۔ پھر بیت المعمور دُور سے مجھے دکھائی دیا۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: یہ وہ بیت المعمور ہے جس میں ہر روز ستر ہزار ملائکہ نماز پڑھتے ہیں۔ جب وہاں سے وہ نکلتے ہیں تو پھر کبھی آخر تک وہاں لوٹ کر نہیں آتے اور مجھے دور سے سدرۃ المنتہیٰ دکھائی دیا گیا۔ دیکھتا ہوں کہ اس کے بیر ایسے ہیں جیسے ہجر کے مٹکے اور اس کے پتے اتنے بڑے ہیں جیسے ہاتھیوں کے کان۔ اس کی جڑ میں چار ندیاں ہیں۔ دو اَندر اور دو باہر۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: وہ جو اندر ہیں وہ جنت میں جا رہی ہیں اور جو باہر ہیں وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی گئیں اور میں وہاں سے چلا آیا۔ یہاں تک کہ موسیٰ کے پاس پہنچا۔ انہوں نے کہا: تم نے کیا بنایا۔ میں نے کہا: پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا: لوگوں کو آپؐ سے میں زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے بنی اسرائیل کی اصلاح کر نے میں بہت ہی کوشش کی۔ آپؐ کی امت برداشت نہیں کرے گی۔ اس لئے اپنے ربّ کے پاس واپس جائیں اور (کم کرنے کے لئے) التماس کریں۔ چنانچہ میں واپس گیا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی تو اس نے اس کو چالیس کردیا۔ پھر اس کے بعد موسیٰ نے پہلے کی طرح مجھے واپس بھجوایا اور اللہ تعالیٰ نے تیس کردیں۔ پھر ایسا ہی کیا تو اس نے بیس کردیں۔ پھر ایسا ہی کیا تو دس کردیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس آیا تو پھر انہوں نے ویسے ہی تخفیف کرانے کے لئے کہا۔ تو اللہ تعالیٰ نے پانچ کردیں۔ پھر میں موسیٰ کے پاس آیا۔ تو انہوں نے پوچھا: تم نے کیا بنایا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ان کو پانچ کردیا ہے۔ پھر انہوں نے اسی طرح کم کروانے کے لئے کہا۔ میں نے کہا: میں اچھی طرح قبول کرچکا ہوں۔٭ (اب نہیں جاتا) پھر یہ آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ نافذ کردیا ہے اور اپنے بندوں سے بوجھ کو ہلکا کردیا ہے۔ میں نیکی کا بدلہ دس گنا دوں گا۔ اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے صرف بیت المعمور کے متعلق ہی نقل کیا۔
حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص (سلا م بن سلیم) نے ہمیں بتایا انہو ں نے اعمش سے، ا عمش نے ز ید بن و ہب سے ر وا یت کی کہ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا اور آپؐ سچے ہیں۔ جو آپؐ کو بتایا گیا وہ بھی سچ ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کے اسباب اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ چالیس دن تک علقہ کی حالت میں رہتا ہے۔ پھر اس کے بعد چالیس دن تک مضغہ کی حالت میں رہتا ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اور اس کا رزق }اور اس کی عمر٭{ لکھ دو اور یہ بھی لکھو کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔ پھر اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اسی لئے تم میں سے ایک شخص نیک کام کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہتا ہے، اس کی تقدیر اس پر چل جاتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام شروع کر دیتا ہے۔ اور ایسا ہی وہ برے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے اور آگ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ ہوتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر چل جاتی ہے اور وہ جنت والوں کے کام شروع کر دیتا ہے
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد (بن یزید) نے ہمیں خبردی کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ اور (مخلد کی طرح) یہ حدیث ابوعاصم (نبیل) نے ابن جریج سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت رکھتا ہے تو جبریل کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو۔ پھر جبریل بھی اس سے محبت رکھتا ہے اور سارے آسمان کے فرشتوں میں منادی کردیتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو۔ پھر آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت ڈالی جاتی ہے۔