بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ رکھی گئی۔ پھر فرمایا: تم جائو اور ان فرشتوں کو سلام کرو اور سنو جو سلام کا جواب تمہیں دیں، وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ آدم نے کہا: السلام علیکم (یعنی تم پر سلامتی ہو) فرشتوں نے کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ (یعنی سلامتی اور اللہ کی رحمت تجھ پر ہو) انہوں نے ورحمۃ اللہ کے الفاظ ان کے سلام پر زیادہ کئے۔ سوہر ایک جو جنت میں داخل ہوگا، آدم کی صورت پر ہوگا اور تبھی سے اب تک بناوٹ میں کمی ہورہی ہے۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔ یعنی اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمارہ سے، عمارہ نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگا۔ پھر جو ان کے بعد جائیں گے، وہ اس چمک دار ستارے کی طرح ہوں گے جو آسمان میں نہایت ہی روشن ہے۔ وہ نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ اور نہ تھوکیں گے اور نہ ناک کی رینٹھ نکالیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک (کستوری) ہوگا اور ان کی انگیٹھیوں میں عود یعنی خوشبودار اَگر جلے گا۔ ان کی بیویاں خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی۔ سب ایک ہی مرد کی بناوٹ میں ہوں گے۔ یعنی اپنے باپ آدم کی شکل پر جو ساٹھ ہاتھ اونچائی میں تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے زینب بنت ابی سلمہ سے، زینب نے حضرت امّ سلمہؓ سے روایت کی کہ حضرت امّ سُلَیمؓ (حضرت انسؓ کی والدہ) نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ حق بات سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت کے لئے بھی نہانا ضروری ہے، جب اس کو احتلام ہو؟ فرمایا: ہاں۔ اگر وہ پانی دیکھے۔ یہ سن کر حضرت امّ سلمہؓ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں: کیا عورت کو احتلام ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر بچہ (اس کے) مشابہ کیوں ہوتا ہے؟
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ (مروان) فزاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حُمَید سے، حُمَید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن سلامؓ کو خبر پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آرہے ہیں۔ پھر وہ آپؐ کے پاس آئے۔ کہنے لگے: میں آپؐ سے تین باتیں پوچھنے لگا ہوں جنہیں صرف نبی ہی جانتا ہے۔ انہوں نے کہا: قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی کیا ہے؟ اور وہ کونسا پہلا کھانا ہے جو جنتی کھائیں گے؟ اور کس وجہ سے بچہ اپنے باپ سے مشابہ ہوتا ہے اور کس وجہ سے اپنے ننہال سے مشابہ ہوتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبریل نے ابھی ابھی یہ باتیں بتا دی ہیں۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: یہ (جبریل) ملائکہ میں سے یہودیوں کا دشمن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامتوں میں سے پہلی علامت وہ آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کر لے جائے گی اور پہلا کھانا جو جنتی کھائیں گے وہ فالتو ٹکڑا ہے جو مچھلی کے کلیجہ پر ہوتا ہے اور بچہ میں جو مشابہت ہوتی ہے وہ اس لئے کہ جب مرد عورت سے جماع کرتا ہے اگر مرد کا پہلے انزال ہو تو مشابہت اس کی ہوتی ہے اور اگر عورت کا پہلے ہو تو مشابہت عورت کی ہوتی ہے۔ (حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے آنحضرت ﷺ کے جوابات سن کر) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہود انتہا درجہ کے جھوٹے فریبی لوگ ہیں۔اگر انہوں نے جان لیاکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے پیشتر اس کے کہ آپؐ ان سے میرے متعلق پوچھیں تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے۔ اتنے میں یہودی آگئے اور حضرت عبداللہ (بن سلامؓ) کوٹھڑی میں چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں عبداللہ بن سلامؓ کیسے آدمی ہیں؟ کہنے لگے: وہ ہم میں سب سے بڑھ کر عالم ہیں اور ہم میں سب سے بڑھ کر عالم کے بیٹے ہیں اور ہم سب سے بہتر٭ ہیں اور سب سے بہتر آدمی کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتائو تو سہی اگر عبداللہ مسلمان ہوجائیں؟ وہ بولے: اللہ ان کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ ان کے پاس باہر آئے اور کہنے لگے: میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سن کر یہودی کہنے لگے: یہ ہم میں نہایت برا اور نہایت ہی برے آدمی کا بیٹا ہے اور لگے ان کی مذمت کرنے۔
ابوکریب اور موسیٰ بن حزام دونوں نے ہم سے بیان کیا کہ حسین بن علی (بن ولید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زائدہ (بن قدامہ) سے، زائدہ نے میسرہ اشجعی سے، میسرہ نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں میری وصیت پر کاربند ہو۔ بھلائی سے ان کے ساتھ پیش آیاکرو۔ کیونکہ عورت کی پیدائش بھی پسلی ہی کی ہے اور تم دیکھتے ہی ہو کہ پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو تو ٹیڑھا ہی رہے گا۔ اس لئے عورتوں کے متعلق میری وصیت پر عمل کرو۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں بتایا۔ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا اور آپؐ سچے ہیں، آپؐ سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی سچا ہے کہ تم میں ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک آہستہ آہستہ بنتا رہتا ہے۔ پھر وہ اتنی ہی مدت میں علقہ بن جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد اتنی ہی مدت میں مضغہ بن جاتا ہے۔ پھر اللہ اس کے پاس فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور لکھا جاتا ہے جو وہ عمل کرے گا اور جس وقت تک وہ دنیا میں رہے گا اور جو اس کا رزق ہوگا اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔ پھراس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اسی لئے ایک آدمی دوزخیوں کے کام کررہا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ (فاصلہ) رہتا ہے کہ اتنے میں نوشتہ تقدیر اس پر جلدی سے چل جاتا ہے اور پھر وہ جنتیوں کے کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جنتیوں کے کام کررہا ہوتا ہے اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہی ہاتھ (فاصلہ) رہتا ہے کہ اتنے میں نوشتہ تقدیر اس پر جلدی سے چل جاتا ہے اور پھر وہ دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔
ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس بن مالک سے، عبیداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے رحم میں ایک ملک مقرر کیا ہوا ہے جو کہتا ہے: اے ربّ! اب یہ نطفہ ہے۔ اے ربّ! اب یہ علقہ ہے۔ اے ربّ! اب یہ گوشت کا لوتھڑا ہے۔ جب وہ اس کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے: اے ربّ! کیا یہ مرد ہو یا عورت۔ اے ربّ! بدبخت ہو یا نیک بخت۔ اور اس کی روزی کیا ہو اور اس کی عمر کیا ہو۔ یہ سب باتیں ویسی کی ویسی اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دی جاتی ہیں۔
قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعمران جونی سے، ابوعمران نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ وہ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے (آپؐ نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے جسے دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ہوگا پوچھے گا، جو کچھ بھی زمین میں ہے اگر تمہارا ہو تو کیا تم اسے دے کر اپنے تئیں چھڑا لوگے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے تو تم سے وہ بات چاہی تھی جو اس سے بہت ہی آسان تھی اور ابھی تم آدم کی پشت میں ہی تھے۔ یعنی یہ کہ تم میرا شریک نہ ٹھہرانا، مگر تم نے نہ مانا۔ شریک ہی ٹھہرایا۔
عمر بن حفص بن غیاث نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا، کہا: عبداللہ بن مرہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جان بھی ناحق ماری جاتی ہے، اس کے خون کے وبال کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے پر پڑتا ہے۔ کیونکہ وہی پہلا شخص ہے جس نے قتل کرنے کی بناء قائم کی۔
(تشریح)