بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 7 hadith
ہم سے حمیدی یعنی عبد اللہ بن زبیر نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا کہ مجھے محمد بن ابراہیم تیمی نے خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جبکہ وہ منبر پر تھے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ اعمال تو نیتوں ہی پر ہیں اور یہ کہ ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس نے دنیا کے پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی، اس کی ہجرت اُسی امر کے لئے ہوگی جس کی خاطر اس نے کی۔
(تشریح)ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آیا کرتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: کبھی تو وہ میرے پاس آتی ہے اور یہ (وحی) مجھ پر سخت ترین ہوتی ہے اور وہ مجھ سے ایسی حالت میں الگ ہوتی ہے کہ جو اس نے کہا ہوتا ہے میں اُسے ذہن نشین کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے ذہن نشین کر چکا ہوتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپؐ پر وحی سخت سردی کے دن نازل ہوتی اور پھر آپ سے ایسی حالت میں جدا ہوتی کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا ہوتا۔
(تشریح)ہم سے سجی بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ لیث نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ اُم المؤمنین سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع ہوئی وہ نیند میں سچی خوابوں کا دیکھنا تھا۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح صادق کی طرح واقع ہو جاتی۔ اس کے بعد آپ کو تنہائی کی طرف رغبت ہوئی اور آپ غار حرا میں تنہا رہتے اور اس میں عبادت کرتے۔ یہ عبادت چند گفتی کی راتوں کی تھی جسے آپ پیشتر پورا کر لیتے اور اس کے لئے آپ توشہ لے لیتے۔ پھر کچھ مدت بعد حضرت خدیجہ کے پاس واپس آتے اور اتنی ہی راتوں کے لئے اور زاد لے لیتے۔ آخر آپ کے پاس حق آ گیا اور اس وقت آپ غار حرا میں تھے۔ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔ آپ نے کہا: میں تو ہرگز نہیں پڑھوں گا۔ رسول اللہ فرماتے تھے: اس پر اُس نے مجھے پکڑا اور مجھے اس قدر بھینچا کہ میری طاقت اپنے انتہاء کو پہنچ گئی۔ پھر اس نے مجھ کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھینچا کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور سہ بارہ زور سے بھینچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا: پڑھو اپنے رب کا نام لے کر کہ جس نے پیدا کیا۔ انسان کو پیدا کیا ایک لوتھڑے سے۔ پڑھو اور تمہارا رب بہت ہی کریمانہ صفات والا ہے۔ ان آیات کو لے کر رسول اللہ واپس لوٹے۔ آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔ آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ سے گھبراہٹ جاتی رہی۔ تب آپ نے حضرت خدیجہ سے سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت خدیجہ نے کہا: ہر گز نہیں۔ بخدا آپ کو اللہ بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے۔ ہیں۔ عاجز کا بوجھ اُٹھاتے ہیں اور وہ نیکیاں کرتے ہیں جو معدوم ہو چکی ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مشکلات میں مدد دیتے ہیں۔ اس پر حضرت خدیجہ آپ کو لے گئیں اور اپنے چچا زاد بھائی ورقہ ابن نوفل کے پاس لائیں جو کہ اسد بن عبدالعزی کے بیٹے تھے۔ ورقہ وہ شخص تھے جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے اور عبرانی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ انجیل سے جو اللہ چاہتا عبرانی میں لکھا کرتے تھے اور وہ بہت بوڑھے تھے۔ نابینا بھی ہو چکے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا: اے میرے چا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے آپ سے پوچھا: اے میرے بھتیجے! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا ان کو بتلایا۔ ورقہ نے آپ سے کہا: یہ وہ شریعت لانے والا فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ پر اُتارا تھا۔ اے کاش میں اس زمانہ میں جوان ہوتا۔ اے کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب تیری قوم تجھے نکالے گی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکالیں گے!! انہوں نے کہا: ہاں، جو پیغام تو لایا ہے جب کبھی بھی کوئی شخص ایسا پیغام لے کر آیا تو ضرور ہی اس سے دشمنی کی گئی، اور اگر میں نے تیرا وہ زمانہ پالیا تو میں کمر باندھ کر تیری مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہو گئے اور وحی میں وقفہ پڑ گیا۔
(تشریح)ابن شہاب نے (یہ بھی) کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتلایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے جبکہ وہ وحی کے موقوف ہو جانے کے متعلق باتیں کر رہے تھے کہا کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا: اس اثناء میں کہ میں چلا جا رہا تھا اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی اور آنکھ جو اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو غارِ حرا میں آیا تھا۔ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس سے خوف زدہ ہو کر میں واپس لوٹ آیا اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی: اسے کپڑا اوڑھنے والے! اُٹھ اور لوگوں کو خطرہ سے آگاہ کر (اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک و صاف کر اور ہر ایک ناپاک بات سے الگ ہو جا)۔ پھر وحی خوب زور سے شروع ہوئی اور لگا تار ہوتی رہی۔ یحییٰ بن بکیر کی طرح عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا۔ ایسا ہی ہلال بن رداد نے بھی زہری سے روایت کرتے ہوئے اسے بیان کیا اور یونس اور معمر نے ’’یرجف فؤادہ‘‘ کی جگہ ’’یرجف بوادیرہ‘‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ یعنی آپ کے مونڈھوں کے پٹھے کانپتے تھے۔
(تشریح)ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ابو عوانہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: موسیٰ بن ابی عائشہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس قول یعنی لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ کے متعلق ہمیں بتلایا کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی وحی کے نازل ہونے سے سخت تکلیف اُٹھاتے اور کبھی آپ اپنے ہونٹ بھی ہلایا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا: میں تمہیں ہونٹوں کو اسی طرح ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہلایا کرتے تھے۔ اور سعید نے کہا: میں بھی انہیں اسی طرح ہلاتا ہوں طرح ہلاتا ہوں جس طرح میں نے حضرت ابن عباس کو ہلاتے دیکھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ۔ (یعنی) تو اپنی زبان کو اس کے ساتھ نہ ہلا؛ اس غرض سے کہ تو اسے جلدی سے حفظ کرلے۔ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ۔ (حضرت ابن عباس نے) کہا: جمع کرانے اور پڑھانے سے مراد یہ ہے کہ تمہارے لئے تمہارے سینہ میں اسے محفوظ کر دیں گے اور تو اسے پڑھ لے گا۔ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ۔ (حضرت ابن عباس نے) کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ تو کان لگا کر چپکے سے اسے سنتا۔ یعنی پھر یہ ہمارا کام ہوگا کہ تو اسے ٹھیک ٹھیک پڑھ لے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی جبرائیل آتے تو توجہ سے سنتے اور جب جبرائیل چلے جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل نے پڑھا ہوتا۔
(تشریح)ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا: عبد اللہ نے ہمیں بلایا۔ عبداللہ نے کہا: یونس نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا اور امام بخاری نے کہا: بشر بن محمد نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس اور معمر نے زہری سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہتے تھے کہ عبید اللہ بن عبد اللہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخاوت کرتے تھے اور زیادہ سخاوت جو آپ فرماتے تو رمضان میں فرماتے۔ جبکہ جبرائیل آپ سے ملتے اور جبرائیل رمضان میں ہر رات کو آپ سے ملا کرتے تھے اور آپ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ اس وقت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود نے مجھے بتلایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان کو بتلایا کہ ابوسفیان بن حرب نے ان سے ذکر کیا کہ ہر قل نے اسے مع قافلۂ قریش کے بلوا بھیجا اور وہ سب شام میں تجارت گئے ہوئے تھے۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور منکرین قریش کے ساتھ میعادی صلح کی ہوئی تھی۔ وہ اس کے پاس آئے اور وہ بیت المقدس میں تھا۔ اس نے انہیں اپنی مجلس میں بلوایا اور اس وقت اس کے ارد گرد رومی رؤسا موجود تھے۔ ہر قل نے ان کو آگے بلایا اور اپنے ترجمان کو بھی بلایا۔ اس نے پوچھا کہ رشتہ میں تم میں سے کون زیادہ قریبی ہے اس شخص کا؛ جو کہتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ ابوسفیان کہتے تھے کہ میں نے کہا: ان لوگوں میں سے میں رشتہ میں زیادہ قریبی ہوں۔ اس پر اس نے کہا: اس کو میرے نزدیک کرو اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کرو اور انہیں اس کی پیٹھ کے پیچھے رکھو۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: انہیں کہ دو کہ میں اس سے اُس شخص سے متعلق دریافت کرنے لگا ہوں اس لئے یہ اگر مجھ سے جھوٹ بولے (تو) تم اسے جھٹلا دینا۔ بخدا اگر مجھے اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ وہ میرے متعلق چرچا کریں گے کہ جھوٹ بولا تھا تو ضرور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جھوٹ بولتا۔ اس کے بعد سب سے پہلاسوال جو مجھ سے کیا، وہ یہ تھا کہ اس کا خاندان کیسا ہے؟ میں نے کہا: ہم میں وہ عالی خاندان ہے۔ اس سے پہلے بھی تم میں سے کسی نے یہ دعوی کیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا؟ میں نے کہا: نہیں۔ لوگوں میں سے بڑے اس کے پیرو ہوئے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا: بڑے نہیں بلکہ کمزور۔ وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ میں نے کہا: گھٹ نہیں رہے بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد پھر اس کے دین میں بیزار ہو کر مرتد بھی ہو جاتا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ کیا تم اس کو اس کے دعوی کرنے سے قبل جھوٹ سے متہم کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اب ہم اس کے ساتھ ایک میعادی صلح میں ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں کہ وہ اس میں کیا کچھ کرنے والا ہے۔ تھے: مجھے موقع نہ ملا کہ میں اپنی اس گفتگو میں سوائے اس بات کے کوئی اور بات داخل کر سکوں۔ اس سے تمہاری لڑائی کی کیا کیفیت رہی ہے؟ میں نے کہا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ ہار جیت کی ہوتی ہے۔ کبھی وہ ہم کو نقصان پہنچاتا ہے اور کبھی ہم اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے کہ ایک ہی اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور جو تمہارے باپ دادا کہتے ہیں اُسے چھوڑ دو اور ہمیں نماز، سچائی، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ میں نے تم سے اس شخص کے نسب کے متعلق پوچھا تھا اور تم نے بیان کیا ہے کہ وہ تم میں عالی خاندان ہے۔ اسی طرح تمام رسول اپنی قوم کے اعلیٰ گھرانے میں ہی مبعوث ہوا کرتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا تھا: کیا تم میں سے کسی نے ایسا دعویٰ کیا؟ تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی نے اس سے قبل یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ ایک آدمی ہے جو ایسی بات کی نقل کر رہا ہے جو اس سے پہلے کہی گئی۔ اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ آیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا تھا اور تم نے بیان کیا: نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ ہوتا تو یہ ایک آدمی ہے جو اپنے باپ کی بادشاہت چاہتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم اس کو اس کے دعوی کرنے سے پہلے جھوٹ سے متہم کیا کرتے تھے اور تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ لوگوں کے متعلق جھوٹ بولے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ آیا بڑے بڑے لوگ اس کے پیرو ہوئے ہیں یا کمزور۔ تو تم نے بیان کیا کہ ان میں سے کمزور اس کے پیرو ہوئےہیں اور یہی لوگ رسولوں کے پیرو ہوتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں۔ تم نے بیان کیا کہ وہ بڑھ رہے ہیں اور ایمان کا یہی معاملہ ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ آیا کوئی دین میں داخل ہوکر پھر اس کے دین کو نا پسند کرنے کی وجہ سے مرتد ہوتا ہے؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں اور ایمان کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے جب اس کی بشاشت دلوں میں رچ جاتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے تو تم نے بیان کیا کہ نہیں اور رسول ایسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ عہد شکنی نہیں کیا کرتے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے۔ تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اللہ کی پرستش کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکتا ہے اور تمہیں نماز، راستی، پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔ پس اگر جو کچھ تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے قدموں کی جگہ کا مالک ہو جائے گا اور میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے۔ لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ عرب لوگوں میں سے ہوگا اور اگر مجھے علم ہو کہ میں اس تک صحیح سلامت پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس کی ملاقات کے لئے مشقت بھی برداشت کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔ اس کے بعد رسول صل اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی کے ہاتھ مع دحیہ إِلَى عَظِيْمِ بُصْرَی بصری کے حاکم کو بھیجا تھا اور پھر حاکم بصریٰ نے وہ خط ہر قل کو پہنچا دیا تھا۔اس نے اس کو پڑھا۔اس میں یہ تھا: اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے محمد کی طرف سے جو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے، ہر قل شاہ روم کی طرف۔سلامتی ہو اُس پر جو راستی کی پیروی کرتا ہے۔اس کے بعد میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔مسلمان ہو جا تو سلامت رہے گا۔اللہ تجھے تیرا اجر دوہرا دے گا اور اگر تو نے منہ پھیرا تو یقیناً تیری رعایا کے گناہ کا وبال بھی تجھ پر پڑے گا۔آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔وہ یہ کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب سمجھیں۔پس اگر وہ اس سے روگردانی کریں۔تو تو انہیں کہہ دے: گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ابوسفیان نے کہا کہ جب ہر قل جو کچھ اس نے کہنا تھا کہہ چکا اور خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو وہاں بہت شور ہوا اور آواز میں بلند ہوئیں اور ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا۔جب ہم نکال دیئے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابوکبشہ کے بیٹے کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس سے تو رومیوں کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔اور مجھے اس وقت سے یقین ہو گیا تھا کہ آپ ضرور غالب ہو جائیں گے۔یہاں تک کہ خود اللہ نے اسلام کو مجھ میں لا داخل کیا۔ اور ابن ناطور جو کہ بیت المقدس کا حاکم اور ہرقل کا دوست تھا، شام کے عیسائیوں کا بشپ تھا۔ وہ بیان کرتا تھا کہ ہرقل جب بیت المقدس میں آیا تو ایک دن جو صبح اُٹھا؟ اُس کی طبیعت نہایت اداس تھی۔ بطریق نے کہا: ہم آپ کے چہرہ کو متغیر پاتے ہیں۔ ابن ناطور کہتا تھا: ہرقل علم نجوم کا بہت ماہر تھا۔ ستاروں کو دیکھ کر حوادث کا پتہ لگایا کرتا تھا۔ اس لئے جب انہوں نے اس سے پوچھا: تو اُس نے اُن سے کہا کہ آج رات جب میں نے ستاروں میں غور کیا تو میں نے ختنہ کرنے والوں کے بادشاہ کو (خواب میں) دیکھا کہ وہ ظاہر ہو گیا ہے۔ سو اس ملک کے لوگوں میں سے کون ختنہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: سوائے یہود کے کوئی ختنہ نہیں کرتا اور ان کی حالت آپ کو فکر میں نہ ڈالے۔ آپ اپنے علاقہ میں احکام جاری کریں کہ اس میں جو یہودی ہیں ان کو مار ڈالیں۔ ابھی وہ اسی مشورے میں ہی تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس کو غسان کے بادشاہ نے بھیجا تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال بتلائے۔ جب ہرقل اس سے دریافت کر چکا تو اس نے کہا: جاؤ دیکھو آیا وہ مختون ہے یا نہیں۔ اس پر انہوں نے اسے دیکھا اور ہرقل کو بتلایا کہ وہ مختون ہے اور اس سے عربوں کے متعلق پوچھا تو اُس نے کہا: وہ لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہر قل نے کہا: تو پھر وہ بادشاہ اسی قوم کا ہے۔ وہ تو ظاہر ہو چکا۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ایک دوست کو جو روم میں تھا اور علم میں اس کا ہم پایہ تھا، اس کے متعلق لکھا اور ہر قل نے حمص کی طرف کوچ کیا اور ابھی حمص سے گیا نہیں تھا کہ اس کو اس کے دوست کا خط ملا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر ہونے کے متعلق اس سے متفق ہے اور یہ کہ وہ یقینا نبی ہیں۔ اس پر ہرقل نے حمص میں اپنے سردارانِ روم کو ایک محل میں اکٹھا ہونے کے لئے فرمان جاری کیا (جب وہ آگئے) تو حکم دیا کہ دروازے مقفل کر دیئے جائیں۔ اس کے بعد وہ اوپر سے جھانکا اور کہا: اے رومی لوگو! کیا تمہیں اپنی بہبودی اور بھلائی کی خواہش ہے؟ اور کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے تو پھر تم اس نبی کی بیعت کر لو۔ وہ دروازوں کی طرف جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں بھاگے مگر انہوں نے دروازوں کو بند پایا۔ جب ہرقل نے ان کی یہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان سے مایوس ہو گیا تو اس نے کہا: انہیں میرے پاس واپس بھیج دو۔ اور کہا: میں نے جو بات ابھی کہی تھی وہ تو اس لیے کہی تھی کہ میں آزمائش کر لوں کہ تم اپنے دین میں کہاں تک مضبوط ہو۔ سو میں نے یہ بات دیکھ لی۔ تب وہ اس کے سامنے سجدہ بجالائے اور اس سے راضی ہو گئے اور یہ ہر قل کی آخری حالت تھی۔ ابو عبد اللہ نے کہا: اس حدیث کو صالح بن کیسان، یونس اور معمر نے بھی زہری سے روایت کیا۔
(تشریح)