بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ سخاوت جو کرتے تو رمضان میں کرتے۔ جبکہ جبرائیل آپؐ سے ملتے اور جبرائیل رمضان کی ہر رات کو آپؐ سے ملا کرتے تھے اور آپؐ سے قرآن کا دَور کرتے تو رسول اللہ ﷺ جب جبرائیل آپؐ سے ملاقات کرتے، چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہوتے۔ اور عبداللہ (بن مبارک) سے روایت ہے کہ ہمیں معمر نے اس طرح بتایا۔ اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ جبرائیل آپؐ سے قرآن کا دَور کیا کرتے تھے۔
قُتَیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ دیر کی تو عروہ (بن زبیر) نے ان سے کہا: (آپ نہیں جانتے کہ) جبرائیل نازل ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے آگے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ عمر نے کہا: عروہ جو آپ کہتے ہیں تحقیق کر لیں۔ عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت ابومسعودؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جبرائیل نازل ہوئے۔ انہوں نے میری امامت کرائی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد ان کے ساتھ (دوسری) نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ (تیسری) نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ (چوتھی) نماز پڑھی۔ پھر ان کے ساتھ (پانچویں) نماز پڑھی۔ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں گنتے تھے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے حبیب بن ابی ثابت سے، حبیب نے زید بن وہب سے، زید نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے کہا: تمہاری امت میں سے جو ایسی حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوگا یا فرمایا کہ آگ میں نہیں داخل ہوگا۔ ابوذرؓ نے پوچھا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپؐ نے فرمایا: اگرچہ۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ملائکہ یکے بعد دیگرے آتے جاتے رہتے ہیں بعض ملائکہ رات کو اور بعض ملائکہ دن کو۔ اور صبح اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر جو تم میں رات کو رہے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اوپر چلے جاتے ہیں اور وہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہوتا ہے۔ فرماتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا ہے اور ہم ان کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد (بن یزید) نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے روایت کی کہ نافع نے ان سے بیان کیا۔ قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہتی تھیں: میں نے نبی ﷺ کے لئے ایک تکیہ بھرا جس پر تصویریں تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک نقش دار تکیہ ہے۔ آپؐ آئے۔ دروازے کے دونوں تختوں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور آپؐ کے چہرہ کا رنگ بدلنے لگا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہمارا کیا قصور ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ (تکیہ) کیسا؟ میں نے کہا: یہ تکیہ (گدیلہ) میں نے آپؐ کے لئے بنایا ہے کہ آپؐ اس پر لیٹا کریں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تمہیں علم نہیں کہ ملائکہ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی مورت ہو۔ جس نے کوئی صورت بنائی قیامت کے دن اسے سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کرو۔
(محمد) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے ابوطلحہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور نہ اس میں جس میں مورتیں یعنی بت ہوں۔
احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ عمرو (بن حارث) نے ہمیں خبر دی کہ بکیر بن اَشجّ نے بیان کیا کہ بُسر بن سعید نے انہیں بتایا کہ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا اور بسر بن سعید کے ساتھ عبید اللہ (بن اسوَد) خولانی بھی تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی گود میں پرورش پائی تھی۔ ان دونوں کو حضرت زید بن خالدؓ نے بتایا کہ ابوطلحہؓ نے ان سے بیان کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورت ہو۔ بُسر کہتے تھے: زید بن خالد بیمار ہوئے۔ ہم ان کی عیادت کو گئے تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے گھر میں ایسا پردہ ہے جس میں تصویریں ہیں۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے تصویروں سے متعلق ہمیں نہیں بتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا: سوائے اس کپڑے کہ جس میں نقش ہوں۔ کیا تم نے یہ نہیں سنا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ انہوں نے (اس کا) ذکر کیا تھا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبد اللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمرو نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے جبریل نے آنے کا وعدہ کیا۔ (لیکن نہ آئے۔ پوچھنے پر) انہوں نے کہا: ہم ایسے گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں مورت ہو اور نہ اس میں جس میں کتا ہو۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سُمَيّ سے، سُمَيّ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے تو تم کہو: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کیونکہ جس کا یہ قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگا تو جو بھی گناہ اس کے پہلے ہو چکے ہیں ان سب پر پردہ پوشی کرکے وہ دبا دئیے جائیں گے۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) بن فُلَیح نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے ایک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں۔ اے اللہ! اس پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس کے گناہوں کو مٹا دے اور اس پر رحمت کر۔ جب تک کہ اپنی نماز سے اُٹھ نہ کھڑا ہو یا بے وضو نہ ہو جائے۔